Dal, mixed vegetable and chapatti—first lunch of Salman Khan in jail

Daal, mixed vegetable and chapatti—first lunch of Salman King Khan in jail





















Bollywood superstar Salman King Khan, now Prisoner 106, refused tea and breakfast and was still wearing his own clothes as the prison uniform was yet to be stitched, India media reported.
Khan, one of the world´s highest paid actors, was imprisoned Thursday after a court convicted him for killing rare antelopes known as black bucks on a hunting trip while shooting a movie in 1998.
Khan will have to spend at least another night in jail as he fights a five-year prison term for killing endangered wildlife. His lawyer asked for bail but the plea was adjourned after a judge said he wanted to see the entire case record.

..........تمہاری مسلمانیت کا معیار..

..........تمہاری مسلمانیت کا معیار..


*.................تمہاری مسلمانیت کا معیار..............*
تمہاری اور تمہارے میڈیا کی مسلمانیت کا معیار یہ ہے اگر انگلش میڈیم بچے بم دھماکوں میں ماریں جائیں تم دس دس دن سوگ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پہ شور و غل اور مذمت پہ مذمت.................
........... لیکن ظالم سامراج کے حواری ......انکا میڈیا عربی میڈیم (قرآن ) بچوں کے قتل عام پہ نا صرف خاموش ہے بلکہ امریکی بربریت پہ مذمت تک نا کر سکا ......یہی تمہاری مسلمانیت کا معیار ہے........ یہ تمہارے ایمان کا معیار ہے .......... حفاظ کرام کی شہادت معصوم کلیوں کے مسل جانے پہ امریکی دہشت گردی پہ مذمت تک نہی کر سکتے.........
...............ارے میں مان جاؤں گا تم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہو تم مسلمان ہو اگر تم امریکی سفارت خانہ کے باہر احتجاج کر سکو اور اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر امریکہ دہشت گرد کے خلاف پلے کارڈ اٹھا سکو ...........مجھے پتہ ہے تم ایسا نہی کر سکتے کیونکہ تمہیں خدا کا نہی امریکہ کا خوف ہے
تمہارا خدا امریکہ ہے....... تم اسکے فرمانبردار ہو.......
تبھی تو ہم تمہارے سامراجی خدا امریکہ کو نہی مانتے ................تو تم ہم پہ کفر کہ فتوعی ٹھوکتے ہو........... ہم کفر کرتے ہیں ہم تمہارے خدا امریکہ کو نہی مانتے...........
اگر تم محمد عربی کے ماننے والے ہوتے اسکے دین کو مانتے ہوتے تو تم دہشت گرد امریکہ کے خلاف بولتے لیکن ایسا نہی کر سکتے کیونکہ تم جہاد کرتے ہو تو امریکہ کی خوشنودی کی خاطر......تم جہاد اور ایمان کا معیار امریکی ترازو پہ تولتے ہو............. تم انگلش بچوں کی موت پہ سڑکیں بند کرتے ہو امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ......
تم نے واقعی محمد عربی کے خدا اور دین کو چھوڑ کہ امریکی خدا کی خوشنودی اور فرمانبرداری میں کوئی کسر نہی چھوڑی ایسے میں جہنم ہم پہ فرض اور جنت تم پہ واجب ہے.... تم کو مبارک ہو امریکی جنت
Image may contain: one or more peopleImage may contain: 2 people

انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز

انسان کی اصل قیمت اس کا اخلاق، برتاؤ، میل جول کا انداز، صلہ رحمی، ہمدردی اور بھائی چارہ ہے۔ نہ کہ اسکی ظاہری شکل و صورت.


```جیسے جیسے میری عمر میں اضافہ ہوتا گیا، مجھے سمجھ آتی گئی کہ اگر میں Rs. 3000 کی گھڑی پہنوں یا Rs. 30000 کی، دونوں وقت ایک جیسا ہی بتائیں گی۔۔!
میرے پاس Rs. 3000 کا بیگ ہو یا Rs. 30000 کا، اس کے اندر کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی ۔ ۔ !
میں 300 گز کے مکان میں رہوں یا3000 گز کے مکان میں، تنہائی کا احساس ایک جیسا ہی ہوگا ۔ ۔ !

آخر میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میں بزنس کلاس میں سفر کروں یا اکانومی کلاس میں، میں اپنی منزل پر اسی مقررہ وقت پر پہنچوں گا۔ ۔ !
اس لئے اپنی اولاد کو مالدار ہونے کی ترغیب مت دو بلکہ ان کو یہ سکھاؤ کہ وہ خوش کس طرح رہ سکتے ہیں اور جب بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر کو دیکھیں قیمت کو نہیں ۔۔۔۔۔۔
دل کو دنیا سے نہ لگاؤ کہ وہ فانی ہے،
بلکہ آخرت سے چمٹ جاؤ کیونکہ وہ باقی رہنے والی ہے۔۔۔۔
فرانس کا ایک وزیر تجارت کہتا تھا؛
برانڈڈ چیزیں مارکیٹنگ کی دُنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہوتی ہیں جنکا مقصد تو امیروں سے پیسہ نکلوانا ہوتا ہے مگر غریب اس سے بہت متاثر ہو رہے ہوتے ہیں۔
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Iphone اُٹھا کر پھروں تاکہ لوگ مجھے ذہین اور سمجھدار مانیں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ Mac یا Kfc کھاؤں تاکہ لوگ یہ نا سمجھیں کہ میں کنجوس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں روزانہ دوستوں کے ساتھ اٹھک بیٹھک Downtown Cafe پر جا کر لگایا کروں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ میں خاندانی رئیس ہوں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Gucci,Lacoste, Adidas یا Nike سے کپڑے لیکر پہنوں تو جینٹل مین کہلایا جاؤں گا؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں اپنی ہر بات میں دو چار انگریزی کے لفظ ٹھونسوں تو مہذب کہلاؤں؟
کیا یہ ضروری ہے کہ میں Adele یا Rihanna کو سنوں تو ثابت کر سکوں کہ میں ترقی یافتہ ہو چکا ہوں؟
نہیں یار!!!
میرے کپڑے عام دکانوں سے خریدے ہوئے ہوتے ہیں،
دوستوں کے ساتھ کسی تھڑے پر بھی بیٹھ جاتا ہوں،
بھوک لگے تو کسی ٹھیلے سے لیکر کھانے میں بھی عار نہیں سمجھتا،
اپنی سیدھی سادی زبان بولتا ہوں۔
چاہوں تو وہ سب کر سکتا ہوں جو اوپر لکھا ہے
لیکن۔۔۔۔
میں نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو میری  خریدی گئی ایک قمیص کی قیمت میں پورے ہفتے کا راشن لے سکتے ہیں۔
میں نے ایسے خاندان دیکھے ہیں جو میرے ایک برگر کی قیمت میں سارے گھر کا کھانا بنا سکتے ہیں۔
بس میں نے یہاں سے راز پایا ہے کہ پیسے سب کچھ نہیں، جو لوگ ظاہری حالت سے کسی کی قیمت لگاتے ہیں وہ فورا اپنا علاج کروائیں۔ 


سلام اے میرے قوم کی عظیم بیٹی سلام

                                                         سلام اے میرے قوم کی عظیم بیٹی سلام




ماہین سترہ برس کی بچی ہے۔ صرف سترہ برس۔ اندازہ کیجیے کہ یہ بچی روزانہ لیاری کے ستر بچوں کو بلا معاوضہ پڑھاتی ہے۔ گلیوں سے بچے پکڑ پکڑ کر لاتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ منشیات کے عادی ہوجائیں، ماہین انہیں پینسل کٹر اور ریزر سے اٹھنے والی مہک کے نشے میں مبتلا کر دیتی ہے۔ آپ میرا یقین کیجیے یہ بچی یہ تک پرکھ لیتی ہے کہ میرے کس شاگرد کو قدرت نے کن مہارتوں سے مالا مال اتارا ہے۔ ماہین کسی کی ریاضی سنوار رہی ہے تو کسی کے ننھے وجود میں چھپے آرٹسٹ کو آشکار کر رہی ہے۔
کسی کی انگریزی درست کر رہی ہے تو کسی کی الجبرا سدھار رہی ہے۔ باپ کرائے کے پیسے بچا کر بچوں کے لیے کتابیں خرید رہا ہے، بیٹی ان بچوں کو پڑھا رہی ہے۔ ماہین فخر سے کہہ رہی ہے ’’سر ان بچوں میں سے بہت سے اب اسکول جا چکے ہیں‘‘۔ میں نے کہا تھا نا کہ اس سترہ برس کی بچی کا کردار تعلیمی پراجیکٹس پر کام کرنے والی بیس این جی اوز پر بھاری ہے؟ کراچی ادبی میلے میں دستاویزی فلم کا ایک مقابلہ ہوا۔
اس مقابلے میں اسکول کے بچوں نے اساتذہ کی نگرانی میں حصہ لینا تھا۔ ماہین نے لیاری کی گلیوں سے کچھ ممولے اٹھائے اور شاہینوں سے لڑوانے پہنچ گئی۔ ایک فلم تیار کی جس کا عنوان ’’ہم انتہاپسندی کو شکست دیں گے‘‘ رکھا۔ جو اساتذہ تعلیمی اداروں سے اپنے شاگردوں کو لائے تھے، وہ دیکھتے رہ گئے اور ماہین بلوچ کے ممولے، جن کا والی وارث سترہ برس کی ماہین کے سوا کوئی نہیں تھا، 
پہلے انعام کے حقدار ٹھہر گئے.

Image may contain: 1 person, standing



بیٹی پیدا ہونے میں کیا گناہ ہے


 بیٹی پیدا ہونے میں کیا گناہ ہے



مریم راولپنڈی کی رہائشی تھی، خوبصورت اور خوبرو، پڑھی لکھی اور باشعور، یہی وجہ تھی کہ اسے دیکھتے ہی لڑکے کی ماں نے ہاں کہہ دی تھی. مریم کی شادی آٹھ نو سال پہلے ہوئی. شادی کے پہلے چھے مہینے میں ہی اس کا پاؤں بھاری ہو گیا، ساس سسر نندیں بھاوجیں سبھی نے مبارک باد دی اور لڑکا ہو گا لڑکا ہو گا کہنا شروع کر دیا. ڈلیوری کا وقت قریب آیا تو شوہر کے ساتھ ساتھ سسرال کے تقریباً سبھی لوگ مریم کو ہسپتال لے کر گئے، ڈلیوری نارمل ہوئی اور ڈاکٹروں نے بیٹی کی پیدائش کی خوشخبری سنائی. یہ سن کر مریم کی ساس کا منہ بن گیا جبکہ دیگر افراد اپنے جذبات چھپانے میں کامیاب رہے. مریم دو دن بعد گھر آئی تو معلوم ہوا کہ گھر کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے، وہ ساس جو بلائیں لیتی تھی آج بےرخی سے بات کر رہی ہے..
خیر، اگلے ہی سال مریم دوبارہ پریگننٹ ہو گئی، اس بار بھی سسرال والے سبھی لوگ لڑکے کی امید لے کر مریم کی خدمت کرتے رہے، خدا کا کرنا کہ اس بار بھی لڑکی ہوئی، اس بار ساس کے ساتھ ساتھ نندوں نے بھی مایوسی کا اظہار کیا اور مریم بےبسی کی تصویر بنی ان کے روئیے دیکھتی رہی، مریم نے شکر کیا کہ ڈلیوری نارمل ہوئی ورنہ سسرال والے آپریشن پر اٹھنے والے اخراجات بھی باتیں سنا سنا کر نکلوا لیتے. دو سال مزید گزرے مریم تیسری بار پھر ماں بننے والی تھی، لیکن اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب مریم کے سسرال والوں نے مریم کو یہ کہتے ہوئے میکے بھیج دیا کہ اگر بیٹیاں ہی پیدا کرنی ہیں تو ڈلیوری کے اخراجات بھی تمہارے ماں باپ اور بھائی اٹھائیں.
مریم کے ہاں تیسری مرتبہ بھی بیٹی ہوئی تھی، بچی کی پیدائش پر مریم کے سسرال سے کوئی دیکھنے تک نہیں آیا، ڈیڑھ ماہ کی بچی اٹھائے مریم گھر واپس آئی تو اس کے لیے زمین بہت گرم ہو چکی تھی. ساس اٹھتے بیٹھتے پرانی باتیں نکال نکال کر طعنے دیتی، کبھی مریم کی بارات کے کھانے کو خراب کہا جاتا، کبھی مریم کے جہیز پر تنقید کی جاتی، گھر کے ہر کام میں کیڑے نکالے جاتے، اس کے پکائے ہوئے کھانے بھی اب برے لگنے لگے تھے.. مریم صابر شاکر بچی تھی چپ چاپ سب کچھ سنتی، مزید محنت اور خدمت کر کے ساس سسر کا دل جیتنا چاہتی، سارے گھر کا کھانا پکانا، کھانا پیش کرنا، برتن اٹھانا، برتن دھونا، کپڑے دھونا، صفائیاں کرنا غرض یہ کہ گھر کا کام اکیلی مریم کے سر تھا، عید آئی تو سارے گھر کا سامان نکال کر مریم نے خود ہی سارا گھر پینٹ کیا، سیڑھی پر چڑھ کر پنکھے صاف کیے اپنا گھر ہے صاف ہو گا گھر والے بھی سب خوش ہوں گے، یہی سوچ سوچ کر مریم دن رات کام میں جٹی رہی، روزانہ ساس کے سر میں تیل کی مالش کرنا اور سسر کے پیر دبانا مریم کی زمے داری تھی، اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود "اولاد نرینہ" اور "خاندان کے وارث" کا مطالبہ بدستور جاری تھا. مریم کی بڑی پہلی بیٹی پانچ سال، دوسری تین سال اور تیسری ڈیڑھ سال کی ہو گئی تھی. مریم کی بیٹیاں بھی مریم کی طرح خوبصورت اور معصوم تھیں لیکن اس گھر میں اب ان کی کوئی وقعت نہیں تھی.
مریم چوتھی بار پریگننٹ ہو گئی، اس بار ہر نسخہ ہر وظیفہ آزمایا گیا، طرح طرح کے تعویذ لا کر باندھے گئے، مریم خود بھی بہت ڈری ہوئی تھی، کسی نے کہا صبح فجر کے بعد فلاں سورۃ پڑھو تو اولاد نرینہ ہو، کسی نے کہا فلاں فلاں آیات لکھ کر ناف پر باندھو الغرض ہر اسلامی و غیر اسلامی ٹونہ ٹوٹکا استعمال کیا گیا. جوں جوں ڈلیوری کے دن قریب آتے گئے ڈر مریم کے دل میں بیٹھ گیا، وہ ہر وقت یہی دعا کرتی کہ اس کے ہاں لڑکا ہو جائے، وہ ہر وقت یہی سوچتی کہ لڑکی ہو گئی تو کیا ہو گا. حسبِ سابق ڈلیوری کے لیے مریم کو اس کے ماں باپ کے گھر بھیج دیا گیا، اس کی ماں اسے لے کر ایک پرائیویٹ ہسپتال پہنچی، لیبر روم جاتے ہوئے بھی مریم بہت ڈری ہوئی تھی. ڈلیوری کے بعد لیڈی ڈاکٹر نے ایک ننھا سا وجود مریم کے سینے پر رکھتے ہوئے کہا "مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے" یہ الفاظ مریم برداشت نہیں کر سکی، اس دل رک گیا، ہارٹ اٹیک اتنا شدید تھا کہ وہ چالیس سیکنڈ میں ہی مر چکی تھی.
وہ چالیس سیکنڈ مریم پر یوں گزرے جیسے چالیس سال ہوں، ان چالیس سیکنڈ میں مریم سوچتی رہی کہ بیٹی پیدا کرنے میں کیا گناہ ہے، بیٹی پیدا ہونے میں کیا گناہ ہے، میری تین بچیوں نے کیا گناہ کیا، اور یہ جو ابھی چالیس سیکنڈ پہلے ایک بیٹی میری چھاتیوں پر رکھی گئی اس کا کیا گناہ ہے. ان چالیس سیکنڈ میں مریم نے آنے والے چالیس سالوں کے لئے سوچا. بِن ماں کی چار بچیاں کون سنبھالے گا؟ اور یہ بچی جس کی عمر ابھی چالیس سیکنڈ ہے یہ بھی اگلے چالیس سال اسی ظلم کی چکی میں پِسے گی. ڈاکٹروں نے مریم کی لاش اور بچی مریم کی بوڑھی ماں کے حوالے کر دی.
​​سب کہتے تھے مریم کو دل کا دورہ پڑا ہے لیکن میں کہتي ہوں کہ وہ ہارٹ اٹیک نہیں مرڈر تھا....​​

جبر ناروا ۔۔۔ اور نیاگان کہن کی عظمتوں کی بحالی

                              جبر ناروا ۔۔۔ اور نیاگان کہن کی عظمتوں کی بحالی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبر خواہ دین میں ہو یا دنیا میں کبھی اپنے قدم نہیں جما سکتا ۔ ہاں طاقت کے زور کتنے دن نکال سکتا ہے یہ طاقت کے حجم پر مبنی ہوتا ہے۔
طالبان افغانستان میں چند سال نہیں نکال پائے ۔ جب نکلے تو پتہ چلا عوام کے ساتھ ان کا تعلق بہے ہی کمزور تھا ۔ لوگوں نے داڑھیاں منڈوا دیں کیونکہ جبرا رکھوائی گئی تھیں ۔
سعودی عرب میں بھی پانسہ پلٹ رہا ہے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمانوں کو اذیت دینے والا سرخ رومال اب اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔ وہاں عورت کہاں سے نکل کر کہاں پہنچ چکی ہے ۔ برقعے سے بکنی تک کی اجازت قریب ہے۔
سرخ رومال دنیا میں کیسے پھیلا ؟ شھزادہ سلمان کے حالیہ انٹرویو نے اب اس راز سے پردہ بھی اٹھا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تن آسانی سے حاصل شدہ دولت نے جراتوں کو زنگ آلود کردیا ہے کہ اب ان میں اس انقلاب کا راستہ روکنے کی ہمت نہیں ہے۔ تختہ دار سے اپنا وجود بچانے کے لیے تخت سے مفاہمت کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی عالم میں ترکی روز بروز ایک طاقت ور قوم بن کر ابھر رہا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو کہ جس کے لیڈر اور عوام میں اتنا مضبوط تعلق ہو کہ عوام اپنی فوج سے نبرد آزما ہوجائے۔ یہ کمال قیادت کا ہوتا ہے جو اپنے کردار اور تربیت سے ممولے میں اتنی ہمت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ شاہباز سے لڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔ ترکی من حیث القوم اپنے نیاگان کہن کی عظمتوں کی بحالی کے سفر نکل کھڑا ہوا
ہماری دعائیں بالآخر اسی کے لیے ہیں کہ عظمتوں اور رفعتوں کا تاج جن کے سر تھا دوبارہ انہی کے سر آجائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم 

سعودی عریبیہ کی ہسٹری

                                                         سعودی عریبیہ کی ہسٹری


عرب شریف میں 1922 تک ترکی کی حکومت تهی،
جسے خلافت عثمانیہ کے نام سے جانا جاتا هے۔
جب بهی دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم هوتا تها تو ترکی حکومت اس کا منہ توڑ جواب دیتی۔
امریکہ، برطانیہ، یورپین، نصرانی اور یہودیوں کو اگر سب سے زیادہ خوف تها تو وہ خلافت عثمانیہ حکومت کا تها۔
امریکہ، یورپ جیسوں کو معلوم تها کہ جب تک خلافت عثمانیہ هے، هم مسلمانوں کا کچھ بهی نہیں بگاڑ سکتے هیں۔
امریکہ و یورپ نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کی سازش شروع کی،
امریکہ یورپ نے سب سے پہلے اک شخص کو کهڑا کیا جو کرسچیئن تها، ایسی عربی زبان بولتا تها کہ کسی کو اس پر شک تک نہیں آیا،
اس نے عرب کے لوگوں کو خلافت عثمانیہ کے خلاف یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی کہ تم عربی هو اور یہ ترکی عجمی (غیر عربی) هیں،
هم عجمی کی حکومت کو کیسے برداشت کر رهے هیں؟
پر لوگوں نے (اسوقت کے عرب سنیوں نے) اسکی ایک نہ مانی۔ یہ شخص "لارنس آف عریبین" کے نام سے مشہور هوا،
(آپ لارنس آف عریبین لکھ کر گوگل پر سرچ کریں) پهر امریکہ نے ایک شخص کو کهڑا کیا جس کا نام "همفر" تها۔
(آپ گوگل پر همفر کو سرچ کرکے پڑھ سکتے هو) همفر کی ملاقات ابن عبدالوهاب نجدی اور عرب کے ایک ڈاکو سے هوئی، اس ڈاکو کا نام ابن سعود تها۔
همفر نے ابن سعود کو عرب کا حکمران بنانے کا لالچ دیا پهر ابن سعود نے مکہ، مدینہ اور طائف میں ترکی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔
مکہ، مدینہ شریف اور طائف کے لاکهوں مسلمان ابن سعود کی ڈاکو فوج کے هاتهوں شہید هوئے، جب ترکی نے دیکها کہ ابن سعود همیں عرب سے نکالنے اور خود عرب پر حکومت کرنے کے لیے مکہ، مدینہ شریف اور طائف کے بے قصور مسلمانوں کو شہید کر رها هے تب ترکی نے عالمی طور پر یہ اعلان کر دیا کہ"هم اس پاک سرزمین پر قتل و غارت پسند نہیں کرتے" اس وجہ سے هم خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے اپنے وطن واپس جا رهے هیں پهر عرب کے مسلمانوں کا زوال شروع هوا
حجاز مقدس کا نام 1400 سال کی تاریخ میں پہلی بار بدلا گیا۔
ابن سعود نے حجاز مقدس کا نام اپنے نام پر سعودیہ رکھ دیا،
جنت البقیع اور جنت المعلی میں صحابہ رضوان الله اجمعین اور اهل بیت علیهم السلام کے مزارات پر بلڈوزر چلایا گیا۔😢
حرم شریف کے جن دروازوں کے نام صحابہ اور اهل بیت کے نام پر تهے۔
ان کا نام آل سعود(ڈاکو) کے نام پر رکها گیا،
یہود و نصاری کو عرب میں آنے کی اجازت مل گئی۔
جس دن ابن سعود عرب کا بادشاہ بنا اس دن اک جشن هوا۔ اس جشن میں امریکہ، برطانیہ اور دوسرے کافر ملکوں کے پرائم منسٹر ابن سعود کو مبارک باد دینے پہنچ گئے۔
جس عرب کے نام سے یہود و نصاری کانپتے تهے وه سعودیہ امریکہ کے اشارے پر ناچنے لگا اور آج بهی رندوں کے ساتھ ناچ رها هے۔
یہود و نصاری کی اس ناپاک سازش کا ذکر کرتے هوئے۔
👈علامہ ڈاکٹر محمد اقبال نے اپنے کلام میں لکها هے:
"وہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد ﷺ اسکے دل سے نکال دو..
فکر عرب کو دے کر فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز اور یمن سے نکال دو..

ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﮯ 35 ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ -

                                                  

                                                                                               ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﮯ 35 ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ -
                                                                                                  ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ:
    


                   بدعقیدوں، فرقہ پرستوں، گستاخوں، شدت پسندوں اور دین کے لٹیروں اور نماز روزوں کے باوجود دین سے نکلے ہوئے لوگوں کو پہچانو:        


                                      :


ﺧﻮﺍﺭﺝ ﺍﯾﮏ ﻗﺪﯾﻢ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻓﺮﻗﮧ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ
ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻓﺮﻗﮯ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ
ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﻮﺍﻥ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﺟﻤﻌﯿﻦ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﺮﮎ ﮐﮩﺎ !!!
ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﺑھﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻭﮨﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺭﻭﺵ ﭘﺮ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻮﺟﻮﺩﮦ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ
ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮ ﮐﻮ ﮐﺎﻓﺮ ﻭ ﻣﺸﺮﮎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﺎﻥ ﻭ ﻣﺎﻝ ﮐﻮ
ﺣﻼﻝ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ !!!
ﺁﺝ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺟﺘﻨﮯ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺗﻨﻈﯿﻤﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﺤﺮﯾﮑﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ
ﺍﺳﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ !
ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﺳﻼﻡ ﻋﺰﺍﺋﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺋﻢ ﮐﻮ ﺟﮩﺎﺩ ﺗﺼﻮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ !
ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻓﺘﻨﮧ ﭘﺮﻭﺭ ﺧﺎﺭﺟﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺍﻭﺭ
ﻭﺍﺿﺢ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ ﺑﯿﺎﻥ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺫﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ
ﮨﮯ :
.1 ﺃَﺣْﺪَﺍﺙُ ﺍﻟْﺄَﺳْﻨَﺎﻥِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﻨﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ،ﺭﻗﻢ : /6531
ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﮐﻢ ﺳﻦ ﻟﮍﮐﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.2 ﺳُﻔَﻬَﺎﺀُ ﺍﻟْﺄَﺣْﻠَﺎﻡِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ،ﺭﻗﻢ : /6531
ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﺎﭘﺨﺘﮧ (brain washed) ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.3 ﮐَﺚُّ ﺍﻟﻠِّﺤْﻴَﺔِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﻱ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻐﺎﺯﻱ،ﺭﻗﻢ : /4094 ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ :
1064 ‏)
)’’ ﺩﯾﻦ ﮐﮯ ﻇﺎﮨﺮ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ‏) ﮔﮭﻨﯽ
ﮈﺍﮌﮬﯽ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘
.4 ﻣُﺸَﻤَّﺮُ ﺍﻟْﺈِﺯَﺍﺭِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻐﺎﺯﯼ، ﺭﻗﻢ : /4094 ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، :2
742 ،ﺭﻗﻢ : 1064 ‏)
’’ﺑﮩﺖ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﺗﮧ ﺑﻨﺪ ﺑﺎﻧﺪﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.5 ﻳَﺨْﺮُﺝُ ﻧَﺎﺱٌ ﻣِﻦْ ﻗِﺒَﻞِ ﺍﻟْﻤَﺸْﺮِﻕِ .
ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﻮﺣﻴﺪ،ﺭﻗﻢ : 7123 ‏)
’’ ﯾﮧ ﺧﺎﺭﺟﯽ ﻟﻮﮒ ‏(ﺣﺮﻣﯿﻦ ﺷﺮﯾﻔﯿﻦ ﺳﮯ ‏) ﻣﺸﺮﻕ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯿﮟ
ﮔﮯ۔‘‘
.6 ﻟَﺎ ﻳَﺰَﺍﻟُﻮْﻥَ ﻳَﺨْﺮُﺟُﻮْﻥَ ﺣَﺘّٰﯽ ﻳَﺨْﺮُﺝَ ﺁﺧِﺮُﻫُﻢْ ﻣَﻊَ ﺍﻟْﻤَﺴِﻴْﺢِ ﺍﻟﺪَّﺟَّﺎﻝِ .
‏( ﻧﺴﺎﺋﻲ، ﮐﺘﺎﺏ ﺗﺤﺮﻳﻢ ﺍﻟﺪﻡ،ﺭﻗﻢ : 4103 ‏)
’’ ﯾﮧ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺁﺧﺮﯼ ﮔﺮﻭﮦ ﺩﺟﺎﻝ
ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﺩﺟّﺎﻝ ﮐﯽ ﺁﻣﺪ ﺗﮏ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺘﺎً ﻓﻮﻗﺘﺎً
ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔
.7 ﻟَﺎ ﻳُﺠَﺎﻭِﺯُ ﺇِﻳْﻤَﺎﻧُﻬُﻢْ ﺣَﻨَﺎﺟِﺮَﻫُﻢْ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ،ﺭﻗﻢ : /6531
ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ ﮔﺎ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺩﮐﮭﻼﻭﺍ ﺍﻭﺭ ﻧﻌﺮﮦ ﮨﻮﮔﺎ، ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻭﺻﺎﻑ ﺍﻥ
ﮐﮯ ﻓﮑﺮ ﻭ ﻧﻈﺮﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
.8 ﻳَﺘَﻌَﻤَّﻘُﻮْﻥَ ﻭَﻳَﺘَﺸَﺪَّﺩُﻭْﻥَ ﻓِﯽ ﺍﻟْﻌِﺒَﺎﺩَﺓِ .
‏( ﻣﺴﻨﺪ ﺃﺑﻮﻳﻌﻠﯽ، ﺍﻟﻤﺴﻨﺪ، ﺭﻗﻢ : /90 ﻣﺼﻨﻒ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺯﺍﻕ، ﺭﻗﻢ :
18673 ‏)
’’ ﻭﮦ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺸﺪﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﮩﺎﺀ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.9 ﻳَﺤْﻘِﺮُ ﺃَﺣَﺪُﮐُﻢْ ﺻَﻠَﺎﺗَﻪُ ﻣَﻊَ ﺻَﻠَﺎﺗِﻬِﻢْ، ﻭَﺻِﻴَﺎﻣَﻪُ ﻣَﻊَ ﺻِﻴَﺎﻣِﻬِﻢْ .
‏(ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ، ﺭﻗﻢ : /6534
ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1064 ‏)
’’ ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ
ﮐﻮ ﺣﻘﯿﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﻭﺯﻭﮞ
ﮐﻮ ﺣﻘﯿﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮔﺎ۔‘‘
.10 ﻟَﺎ ﺗُﺠَﺎﻭِﺯُ ﺻَﻠَﺎﺗُﻬُﻢْ ﺗَﺮَﺍﻗِﻴَﻬُﻢْ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻧﻤﺎﺯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ ﮔﯽ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﻭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
.11 ﻳَﻘْﺮَﺋُﻮْﻥَ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥَ ﻟَﻴْﺲَ ﻗِﺮﺍﺋَﺘُﮑُﻢْ ﺇِﻟَﯽ ﻗِﺮَﺍﺀَ ﺗِﻬِﻢْ ﺑِﺸَﻲﺀٍ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕِ ﻗﺮﺁﻥ
ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﻧﮧ ﺩﮮ
ﮔﯽ۔‘‘
.12 ﻳَﻘْﺮَﺋُﻮْﻥَ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥَ ﻟَﺎ ﻳُﺠَﺎﻭِﺯُ ﺣُﻠُﻮْﻗَﻬُﻢْ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ،ﺭﻗﻢ : /6532
ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺭﻗﻢ : 1064 ‏)
’’ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻼﻭﺕ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ ﮔﯽ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺛﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
.13 ﻳَﻘْﺮَﺋُﻮْﻥَ ﺍﻟْﻘُﺮْﺁﻥَ ﻳَﺤْﺴِﺒُﻮْﻥَ ﺃَﻧَّﻪُ ﻟَﻬُﻢْ، ﻭَﻫُﻮَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺣﮑﺎﻡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻖ
ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﺭﺣﻘﯿﻘﺖ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺣﺠﺖ ﮨﻮﮔﺎ۔‘‘
.14 ﻳَﺪْﻋُﻮﻥَ ﺇِﻟَﯽ ﮐِﺘَﺎﺏِ ﺍﷲِ ﻭَﻟَﻴْﺴُﻮﺍ ﻣِﻨْﻪُ ﻓِﻲ ﺷَﻴْﺊٍ .
‏(ﺳﻨﻦ ﺃﺑﻮ ﺩﺍﻭﺩ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺴﻨﺔ، ﺭﻗﻢ : 4765 ‏)
’’ ﻭﮦ ‏(ﺑﺬﺭﯾﻌﮧ ﻃﺎﻗﺖ ‏) ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﷲ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔‘‘
.15 ﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﻥَ ﻣِﻦْ ﺧَﻴْﺮِ ﻗَﻮْﻝِ ﺍﻟْﺒَﺮِﻳَّﺔِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ، ﺭﻗﻢ : /6531
ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ‏( ﺑﻈﺎﮨﺮ ‏) ﺑﮍﯼ ﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﻧﻌﺮﮮ (slogans) ﺑﻠﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻄﺎﻟﺒﮯ
ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔
‏( 1 ‏) ﺟﯿﺴﮯ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺭﺍﺷﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ
ﺧﻮﺍﺭﺝ ﻧﮯ ﻻَ ﺣُﮑْﻢَ ﺇِﻻَّ ﻟِﻠّٰﻪِ ﮐﺎ ﭘُﺮ ﮐﺸﺶ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
.16 ﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﻥَ ﻣِﻦْ ﺃَﺣْﺴَﻦِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ ﻗَﻮْﻟًﺎ .
‏( ﺍﻟﻤﻌﺠﻢ ﺍﻷﻭﺳﻂ - ﻃﺒﺮﺍﻧﻲ، ﺍﻟﺮﻗﻢ : 6142 ‏)
’’ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﻌﺮﮮ (slogans) ﺍﻭﺭ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ
ﺍﭼﮭﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔‘‘
.17 ﻳُﺴِﻴْﺌُﻮْﻥَ ﺍﻟْﻔِﻌْﻞَ .
‏(ﺳﻨﻦ ﺃﺑﻮﺩﺍﻭﺩ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺴﻨﺔ، ﺭﻗﻢ : 4765 ‏)
’’ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﻇﺎﻟﻢ، ﺧﻮﻧﺨﻮﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻨﺎﺅﻧﮯ
ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.18 ﻫُﻢْ ﺷَﺮُّ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖِ ﻭَﺍﻟْﺨَﻠِﻴْﻘَﺔِ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺍﻟﺮﻗﻢ : 1067 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺳﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﻟﻮﮒ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
.19 ﻳَﻄْﻌَﻨُﻮْﻥَ ﻋَﻠٰﯽ ﺃُﻣَﺮَﺍﺋِﻬِﻢْ ﻭَﻳَﺸْﻬَﺪُﻭْﻥَ ﻋَﻠَﻴْﻬِﻢْ ﺑِﺎﻟﻀَّﻠَﺎﻟَﺔِ .
‏(ﺍﺑﻦ ﺃﺑﻲ ﻋﺎﺻﻢ، ﺍﻟﺴﻨﺔ، 2 : 455، ﺭﻗﻢ : /934 ﻣﺠﻤﻊ ﺍﻟﺰﻭﺍﺋﺪ -
ﻫﻴﺜﻤﻲ ، 6 : 228، ﻭﻗﺎﻝ : ﺭﺟﺎﻟﻪ ﺭﺟﺎﻝ ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ ‏)
’’ ﻭﮦ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻭﻗﺖ ﯾﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺧﻮﺏ ﻃﻌﻨﮧ ﺯﻧﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ
ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﻭ ﺿﻼﻟﺖ ﮐﺎ ﻓﺘﻮﻱٰ ﻟﮕﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘
.20 ﻳَﺨْﺮُﺟُﻮْﻥَ ﻋَﻠٰﯽ ﺣِﻴْﻦِ ﻓُﺮْﻗَﺔٍ ﻣِﻦَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﻨﺎﻗﺐ، ﺭﻗﻢ : /3414 ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ :
1064 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻣﻨﻈﺮِ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺮﻗﮧ ﺍﻭﺭ
ﺍﺧﺘﻼﻑ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
.21 ﻳَﻘْﺘُﻠُﻮْﻥَ ﺃَﻫْﻞَ ﺍﻹِﺳْﻠَﺎﻡِ ﻭَﻳَﺪْﻋُﻮْﻥَ ﺃَﻫْﻞَ ﺍﻟْﺄَﻭْﺛَﺎﻥِ .
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﻮﺣﻴﺪ،ﺭﻗﻢ : /6995 ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺭﻗﻢ :
1064 ‏)
’’ ﻭﮦ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺖ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﮟ
ﮔﮯ۔‘‘
.22 ﻳَﺴْﻔِﮑُﻮْﻥَ ﺍﻟﺪَّﻡَ ﺍﻟْﺤَﺮَﺍﻡَ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﻧﺎﺣﻖ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺎ ﻗﺘﻞ ﺟﺎﺋﺰ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔
.23 ﻳَﻘْﻄَﻌُﻮْﻥَ ﺍﻟﺴَّﺒِﻴْﻞَ ﻭَﻳَﺴْﻔِﮑُﻮْﻥَ ﺍﻟﺪِّﻣَﺎﺀَ ﺑِﻐَﻴْﺮِ ﺣَﻖٍّ ﻣِﻦَ ﺍﷲِ ﻭَﻳَﺴْﺘَﺤِﻠُّﻮْﻥَ
ﺃَﻫْﻞَ ﺍﻟﺬِّﻣَّﺔِ . ‏( ﻣﻦ ﮐﻼﻡ ﻋﺎﺋﺸﺔ ﺭﺿﻲ ﺍﷲ ﻋﻨﻬﺎ ‏)
‏( ﺣﺎﮐﻢ، ﺍﻟﻤﺴﺘﺪﺭﮎ،ﺭﻗﻢ : 2657 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺭﺍﮨﺰﻥ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ، ﻧﺎﺣﻖ ﺧﻮﻥ ﺑﮩﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﻲٰ ﻧﮯ
ﺣﮑﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺍﻗﻠﯿﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﻮ ﺣﻼﻝ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ
ﮔﮯ۔‘‘ ‏( ﯾﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺋﺸﮧ ﺻﺪﯾﻘﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﮐﺎ ﻓﺮﻣﺎﻥ ﮨﮯ۔ ‏)
.24 ﻳُﺆْﻣِﻨُﻮﻥَ ﺑِﻤُﺤْﮑَﻤِﻪِ ﻭَﻳَﻬْﻠِﮑُﻮﻥَ ﻋِﻨْﺪ ﻣُﺘَﺸَﺎﺑِﻬﻪ . ‏( ﻗﻮﻝ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ‏) .
‏(ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻃﺒﺮﯼ، 3 : /181 ﻓﺘﺢ ﺍﻟﺒﺎﺭﯼ، 12 : 300 ‏)
’’ ﻭﮦ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﻣﺤﮑﻢ ﺁﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﯽ
ﻣﺘﺸﺎﺑﮩﺎﺕ ﮐﮯ ﺳﺒﺐ ﺳﮯ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘ ‏( ﻗﻮﻝِ ﺍﺑﻦِ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏)
.25 ﻳَﻘُﻮْﻟُﻮْﻥَ ﺍﻟْﺤَﻖَّ ﺑِﺄَﻟْﺴِﻨَﺘِﻬِﻢْ ﻟَﺎ ﻳُﺠَﺎﻭِﺯُ ﺣُﻠُﻮْﻗَﻬُﻢْ . ‏(ﻗﻮﻝ ﻋﻠﻲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ
ﻋﻨﻪ ‏)
‏( ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ،ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺯﺑﺎﻧﯽ ﮐﻼﻣﯽ ﺣﻖ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ، ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻠﻖ ﺳﮯ
ﻧﯿﭽﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﺗﺮﮮ ﮔﯽ۔‘‘ ‏( ﻗﻮﻝِ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ‏)
.26 ﻳﻨْﻄَﻠِﻘُﻮْﻥَ ﺇِﻟَﯽ ﺁﻳَﺎﺕٍ ﻧَﺰَﻟَﺖْ ﻓِﻲ ﺍﻟْﮑُﻔَّﺎﺭِ ﻓَﻴَﺠْﻌَﻠُﻮْﻫَﺎ ﻋَﻠَﯽ ﺍﻟْﻤُﺆْﻣِﻨِﻴْﻦَ .
‏( ﻣﻦ ﻗﻮﻝ ﺍﺑﻦ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ‏)
‏( ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ، ﺭﻗﻢ : 2539 ‏)
’’ ﻭﮦ ﮐﻔﺎﺭ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻃﻼﻕ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ
ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﮔﻤﺮﺍﮦ، ﮐﺎﻓﺮ ﺍﻭﺭ
ﻣﺸﺮﮎ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ۔‘‘ ‏( ﻗﻮﻝِ ﺍﺑﻦِ
ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻣﺴﺘﻔﺎﺩ ‏)
.27 ﻳَﻤْﺮُﻗُﻮْﻥَ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺪِّﻳْﻦِ ﮐَﻤَﺎ ﻳَﻤْﺮُﻕُ ﺍﻟﺴَّﻬْﻢُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺮَّﻣِﻴَّﺔِ .
.1 ﺑﺨﺎﺭﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﺳﺘﺘﺎﺑﺔ ﺍﻟﻤﺮﺗﺪﻳﻦ ﻭﺍﻟﻤﻌﺎﻧﺪﻳﻦ ﻭﻗﺘﺎﻟﻬﻢ، ﺭﻗﻢ :
/6531 ﻣﺴﻠﻢ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺩﯾﻦ ﺳﮯ ﯾﻮﮞ ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮ ﭼﮑﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﯿﺮ ﺷﮑﺎﺭ ﺳﮯ
ﺧﺎﺭﺝ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔‘‘
.28 ﺍَﻟْﺄَﺟْﺮُ ﺍﻟْﻌَﻈِﻴْﻢُ ﻟِﻤَﻦْ ﻗَﺘَﻠَﻬُﻢْ .
‏( ﻣﺴﻠﻢ،ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺰﮐﺎﺓ، ﺭﻗﻢ : 1066 ‏)
’’ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺍﺟﺮِ ﻋﻈﯿﻢ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ۔‘‘
.29 ﺧَﻴْﺮُ ﻗَﺘْﻠَﯽ ﻣَﻦْ ﻗَﺘَﻠُﻮْﻩُ .
‏(ﺗﺮﻣﺬﯼ، ﮐﺘﺎﺏ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﺭﻗﻢ : 3000 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻣﻘﺘﻮﻝ ‏( ﺷﮩﯿﺪ ‏) ﮨﻮﮔﺎ ﺟﺴﮯ ﻭﮦ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔‘‘
.30 ﺷَﺮُّ ﻗَﺘْﻠَﯽ ﺗَﺤْﺖَ ﺃَﺩِﻳْﻢِ ﺍﻟﺴَّﻤَﺎﺀِ .
‏(ﺗﺮﻣﺬﯼ، ﮐﺘﺎﺏ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﺭﻗﻢ : 3000 ‏)
’’ ﻭﮦ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
ﯾﻌﻨﯽ ﺟﻮ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﻓﻮﺟﯽ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﻣﻘﺘﻮﻝ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮﺍﻥ
ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻏﺎﺯﯼ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔
.31 ﺇِﻧَّﻬُﻢْ ﮐِﻠَﺎﺏُ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ .
‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ،ﮐﺘﺎﺏ ﺗﻔﺴﻴﺮ ﺍﻟﻘﺮﺁﻥ، ﺭﻗﻢ : 3000 ‏)
’’ ﯾﮧ ‏( ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩ ﺧﻮﺍﺭﺝ ‏) ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﮐﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ۔‘‘
32 ۔ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺒﯿﺮﮦ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﮐﻮ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺟﮩﻨﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﺍﻭﺭ
ﻣﺎﻝ ﺣﻼﻝ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
33 ۔ ﻇﺎﻟﻢ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺳﻖ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﺴﻠﺢ ﺑﻐﺎﻭﺕ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﻭﺝ ﮐﻮ
ﻓﺮﺽ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
‏( ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻘﺎﻫﺮ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ، ﺍﻟﻔﺮﻕ ﺑﻴﻦ ﺍﻟﻔﺮﻕ : /73ﺍﺑﻦ ﺗﻴﻤﻴﻪ، ﻣﺠﻤﻮﻉ
ﻓﺘﺎﻭﯼ، 13 : 31 ‏)
34 ۔ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻼﻣﺖ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻋﻼﻗﮯ
ﮐﻮ ﮔﮭﯿﺮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﺎﺭﺭﻭﺍﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﮟ
ﮔﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺧﻼﻓﺖ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺮﺗﻀﻲٰ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻣﯿﮟ
ﺣﺮﻭﺭﺍﺀ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﻌﻨﯽ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﭘﻨﺎﮦ
ﮔﺎﮨﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
35 ۔ ﺧﻮﺍﺭﺝ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻋﻼﻣﺖ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﮨﻞِ ﺣﻖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ
ﻣﺬﺍﮐﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻧﺎﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ، ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻠﯽ
ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺗﺤﮑﯿﻢ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﺮﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔
ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻭ ﺁﺛﺎﺭ ﺳﮯ ﻣﺎﺧﻮﺫ ﺍِﻥ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﺳﮯ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ
ﻣﺴﻠﺢ ﮔﺮﻭﮦ ﯾﺎ ﻓﺮﻗﮧ ﺟﻤﮩﻮﺭ ﺍﻣﺖ ﻣﺴﻠﻤﮧ ﮐﻮ ﮔﻤﺮﺍﮦ، ﺑﺪﻋﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻓﺮ
ﻭ ﻣﺸﺮﮎ ﮐﮩﮯ، ﻋﺎﻣۃ ﺍﻟﻨﺎﺱ ۔ ﻣﺴﻠﻢ ﮨﻮﮞ ﯾﺎ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ۔ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﻭ
ﻣﺎﻝ ﮐﻮ ﺣﻼﻝ ﺳﻤﺠﮭﮯ، ﺣﻖ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﮮ، ﻣﺼﺎﻟﺤﺎﻧﮧ ﺍﻭﺭ ﭘﺮ
ﺍﻣﻦ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﻭ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮐﺮﮮ، ﻭﮦ ﺧﺎﺭﺟﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﻮﺍﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ

ﻇﮩﻮﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ         

ادب و تعظیم مصطفیٰﷺ

                   ادب و تعظیم مصطفیٰﷺ






❤️صحابہ کرامؓ کی نماز اور دیدار مصطفیٰﷺ❤️
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ:
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖؓ، ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡﷺ ﮐﮯ ﻣﺮﺽِ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡؓ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ،
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﭘﯿﺮ ﮐﺎ ﺩﻥ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﮐﺮﺍﻡ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﻔﯿﮟ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ۔
(ﺍِﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ) ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡﷺ ﻧﮯ ‏(ﺍﭘﻨﮯ) ﺣﺠﺮﮦ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﺍُﭨﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮓ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﺍﻧﻮﺭ ﮐﮭﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺁﭖﷺ ﺗﺒﺴﻢ ﺭﯾﺰ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﭘﺲ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡﷺ ﮐﮯ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﮟ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮؓ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮍﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺑَﻞ ‏(ﻣﺼﻠّﯽٰ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺳﮯ) ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻟﻮﭨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺻﻒ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮔﻤﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ‏(ﮔﮭﺮ ﺳﮯ) ﺑﺎﮨﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﻮ ﻣﮑﻤﻞ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺩﮦ ﻧﯿﭽﮯ ﺳَﺮﮐﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﺁﭖﷺ ﮐﺎ ﺍُﺳﯽ ﺩﻥ ﻭﺻﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔
ﺑﺨﺎﺭﯼ، ﺍﻟﺼﺤﻴﺢ
ﮐﺘﺎﺏ: ﺍﻷﺫﺍﻥ
ﺑﺎﺏ: اھل ﺍﻟﻌﻠﻢ ﻭﺍﻟﻔﻀﻞ اﺣﻖ ﺑﺎلاﻣﺎﻣﺔ
ج:1 ص:240 ﺭﻗﻢ: 648
نوٹ:
یہ صحابہ کرام علیھم الرضوان کی نماز تھی جبکہ وہابیوں، دیوبندیوں کے متفقہ امام اسمعیل دھلوی لکھتے ہیں کہ
نماز میں گدھے گھوڑے کا خیال سے نماز نہیں ٹوٹتی لیکن رسول اللہ ﷺ کی خیال لے جانے سے نماز بھی ٹوٹتی ہے اور رسول اکرم کا خیال کا آنا بیوی کی مجامعت کے خیال لانے سے بھی برا ہے!!
(معاذاللہ ثم معاذاللہ، استغفراللہ)

ڈاکٹر عاشق حسین فاکتو


            ڈاکٹر عاشق حسین فاکتو




مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے سرگرم خاتون رہنماء آسیہ اندرابی کا نام اکثر لوگوں نے سن رکھاہے لیکن ان کے خاندان کے بارے میں بہت کم لوگوں کو معلوم ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شہید برہان وانی کا ذکر آیا لیکن ڈاکٹر عاشق حسین فاکتو کا ذکر نہیں آیا۔
’’فاکتو صاحب کا ایک تعارف تو یہ ہے کہ وہ آسیہ اندرابی کے خاوند ہیں لیکن ان کا اصل تعارف یہ ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر اور جنوبی ایشیا میں سب سے لمبی قید کاٹنے والے سیاسی قیدی ہیں۔ آسیہ اندرابی کے ساتھ ان کی شادی 1990ء میں ہوئی۔ 1992ء میں انہیں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کی اہلیہ اور چھ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ آسیہ اندرابی اوران کا بیٹا 1995ء میں رہا ہوگئے لیکن فاکتو صاحب پچھلے 24 سال سے جیل میں ہیں۔ جیل میں انہوں نے اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کرلی اور 125قیدیوں کو گریجویشن کرائی۔ عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا دی تھی جو 14سال بنتی ہے لیکن دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نے انہیں 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ یہ وہی ہندوستان ہے جس نے جنوبی افریقہ میں بغاوت اور دہشت گردی کے الزام میں 27سال قید کاٹنے والے نیلسن منڈیلا کو حریت پسند قرار دیا لیکن عاشق حسین فاکتو کو 24 سال سے جیل میں بند کر رکھا ہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ کئی مرتبہ گرفتار اور رہا ہوئیں۔ آجکل بھی وہ گرفتار ہیں۔ پاکستان کا میڈیا آسیہ اندرابی کانام تو جانتا ہے کیونکہ وہ ہر سال 14 اگست کو سرینگرمیں پاکستان کا پرچم لہراتی ہیں لیکن پاکستان کے عوام کی بڑی اکثریت کو آسیہ اندرابی کے خاندان کی قربانیوں کا علم نہیں اور اسی لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں 24سال سے پابند سلاسل عاشق حسین فاکتو کا کسی نے ذکر نہیں کیا۔ میں نے فاکتو کا ذکر صرف اس لئے کیا ہے کہ کچھ لوگ کشمیریوں کی حمایت کر کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ انہوں نے کوئی بہت بڑا کام کردیا ہے۔ فاکتو نے اپنے لئے نہیں پاکستان کیلئے قید کاٹی ہے۔
مقبوضہ کشمیر اسلام آباد شوپیاں میں بھارتی فوج کا نام نہاد آپریشن،13 کشمیری شہید درجنوں افراد زخمی،پوری وادی سراپا احتجاج ہے،کچھ لمحے پہلے کشمیر سے موصول ہوا آپا آسیہ اندرانی کا آنسوؤں بھرا وائس پیغام سن کر دل بیٹھ سا گیا ہے آپا روتے ہوئے اہل پاکستان سے مخاطب تھی کہ " حالات انتہائی کشیدہ ہیں،ابھی ہم لاشیں گن رہے ہیں اور مسجدوں کے لوڈ اسپیکروں پہ ترانے گونج رہے ہیں اس پرچم کے سائے تلے ہمیں آنا ہے ہمیں اپنے پاکستان جانا ہے،

انفرادی تبدیلی لائیے.....مثالی زندگی گزاریے.. ......INFRAADI TABDEELI LAYEN AUR MISALI ZINDGI GUZARAIN

انفرادی تبدیلی لائیے.....مثالی زندگی گزاریے........







ایک چیز کا مسلسل مشاہدہ رہا کہ شادی کی تقریبات کے حوالے سے قریب قریب سبھی لوگ متفق ہیں کہ انہیں سادگی کے ساتھ انجام پذیر ہو نا چاہیے.....لیکن جو معاشرہ دوسروں کی نقالی میں بندروں کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہو .....وہاں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ...آخر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون ????
اس حوالے سے ذاتی طور پہ میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اجتماعی طور پہ اسطرح کی معاشرتی تبدیلی اگر نا ممکن نہ بھی ہو تو تب بھی انتہائی مشکل ہے.....اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ون ڈش اور اسطرح کی دوسری پابندیاں اپنی موت آپ مر چکی ہیں....لہذا گزارش یہ ہے کہ اس تبدیلی کو اجتماعی لحاظ سے رو بہ عمل لانے کی کدوکاوش سے کہیں بہتر ہے کہ انفرادی طور پہ اسے قابل عمل بنایا جائے......
اور انفرادی تبدیلی وہی شخص لا سکتا ہے کہ جو بلند سوچ,اور قوت فیصلہ کا مالک ہو......
زیر بحث موضوع میں جب ہم اجتماعی تبدیلی کی جہد مسلسل کو ناکامیوں سے دو چار دیکھتے ہیں تو ایک بڑا سبب خواتین کی ناقص سوچ کی صورت میں نظر آتا ہے...مثلا......
جب کبھی اسطرح کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو فورا اسطرح کے مناظر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ......
" میرا تو ایک ہی بیٹا ہے......میں اپنے بیٹے کی شادی اسطرح سے کروں گی کہ دنیا یاد رکھے گی".....لو جی! یہ تو ہمارے گھر کی پہلی شادی ہے.......بس بھئی! یہ تو ہمارے گھر میں آخری شادی ہے.....ہم نے اب کون سی روز روز شادیاں رچانی ہیں وغیرہ وغیرہ.....
یاد رکھنا چاہیے کہ جب اجتماعی کاموں اور بالخصوص گھریلو انتظامی امور میں قوت فیصلہ مرد حضرات کے ہاتھوں سے نکل کر خواتین کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے توپھر اپنی بربادیوں کا شکوہ کسی اور سے بھلا کیوں.....????
حدیث میں آتا ہے کہ جب تمہارے فیصلے خواتین کے ہاتھوں انجام پانے لگیں تو اس وقت تمہارے لیے زمین کا پیٹ اسکی پیٹھ سے بہتر ہے......
اسی طرح ایک اور جملہ جو در حقیقت ایک مجموعی سماجی نفسیاتی مرض بن چکا ہے وہ یہ کہ...."لوگ کیا کہیں گے"...
ہم سادگی سے دور بھاگتے ہیں,,,کسی کی موت پہ نہ چاہتے ہوئے بھی دعوت طعام کا اہتمام کرتے ہیں....قرض لے کر اپنا مصنوعی رعب و دبدبہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں.....ہم صلح پہ آمادہ نہیں ہوتے.....پتہ ہے کیوں?????اسی لیے نا کہ.......لوگ کیا کہیں گے.......
خدارا! اس مرض سے جان چھوڑائیے.....لوگوں کو دیکھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی جئیں......
آپ پوری زندگی خدمت خلق میں گزار دیں تب بھی کچھ لوگ آپ سے خوش اور کچھ لازما ناراض ہوں گے.......
ویسے ایک بات ہے.....لوگ ہیں بھی ان گنت.....کبھی خوش بھی نہیں ہوتے......
اللہ پاک ایک ہیں....جلد خوش بھی ہو جاتے ہیں....انہیً راضی کرنا انتہائی آسان اور ناراض کرنا ٹھیک ٹھاک مشکل ہے......لہذا اب جملے کو یوں بدلیے.َکہ.....
ہمارا اللہ کیا کہے گا.....

زخم جو پھر سے تازہ ہو گئے.....ZAKHAM JO PHIR SE TAAZA HO GAY

زخم جو پھر سے تازہ ہو گئے.....


آٹھ اکتوبر کے وہ لمحات ذہن میں کچھ اسطرح سے نقش ہو چکے ہیں کہ اگر بھولنا چاہوں پھر بھی نہیں بھول سکتا....وہ صبح کا وقت تھا جب میں نیم غنودگی کی حالت میں ایک کتابچے کی ورق گردانی کر رہا تھا....اچانک زمین کانپتی ہوئی محسوس ہوئی....میں اٹھ کر تیزی سے باہر نکلا تو ایک بار پھر پوری شدت سے زمین کو ہلتے ہوئے دیکھا.....پھر زمین پر لوگوں کی آہ و بکاء تھی اور آسمان پر گردو غبار کے سیاہ حلقے....مائیں دیوانہ وار اپنے بچوں کی خاطر اسکولوں کی طرف دوڑ رہی تھیں....اور ہر انسان سہما ہوا تھا....گزرتے وقت کے ساتھ ایسی اندوناک خبریںِ آرہی تھیں کہ جنہیں سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا....کئی معصوم کلیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں...اور ایک بڑی تعداد معذور.....اس رات قدرت خداوندی نے امیر و غریب کا امتیاز مٹا دیا....اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز کے مصداق ....سبھی کھلے آسماں تلے رات بسر کرنے پہ مجبور ہو گئے....خوف کا یہ عالم تھا کہ بعض گھر بالکل صحیح سلامت اپنی جگہ ایستادہ تھے لیکن ان سے وحشت ہوتی تھی......
یہ سب کچھ ہوا ....جو ہوا سو گزر گیا..یقینا جدا ہونے والوں کا غم وقتا فوقتا دل میں کچوکے لگاتا ہے...اور لگاتا رہے گا....لیکن بحثیت سماج اور معاشرہ ہم میں جو اجتماعی منفی تبدیلیاں رونما ہوئیں....وہ انتہائی تشویش ناک ہیں....مانا کہ اس بھونچال کے بعد ہمارا معیار زندگی بلند ہوا....یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے اجتماعی شعور میں بے پناہ اضافہ ہوا....سڑکیں ہماری دہلیز تک پہنچیں...تعلیمی اداروں کا جال بچھا.....صحت کے مراکز بھی نسبتا قریب ہوے....ہمارا طرز تعمیر نئے خطوط پہ استوار ہوا...........آپ کی صبحیں یو ایس اے کے تیل اور ترکی کے آٹے سے رنگین ہوئیں.لیکن کیا آپ جانتے ہیں ان سہولیات کی ہم نے کیا قیمت چکائی ????ہم نے انسانیت,ہمدردی ,ایثار و قربانی اور محبت و مودت کو تین طلاقیں دیں....ہماری نئی نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوئی...جس کا فوری ردعمل یہ تھا کہ بات بات پہ وہ اپنے بڑوں بزرگوں سے کہنے لگی کہ ....رہنے دیں آپ بات نہیں سمجھتے......عورتیں تعلیمی میدان میں آئیں تو دوپٹہ سر سے اتر کر گلے کا پٹہ بن گیا.....لوگوں میں شعور بیدار ہوا تو پہلی کرامت یہ ظاہر ہوئی کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگے.....کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ پہلے جب کوئی پردیس جاتا تھا تو قریبی عزیز ,دوست اور پڑوس اسے الوداع کہنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں جمع ہو تے تھے...لیکن اب تو سوشل میڈیا کی برکت سے اسٹیٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں انتہائی قریبی رحت سفر باندھ چکا ہے.....یہ بھی یاد ہو گا نا کہ پہلے اگر کوئی بچہ کسی نامناسب حرکت کا مرتکب ہوتا تو گاؤں کا ہر فرد اسے سزا دینے میں آزاد تھا...جس سے جرائم قابو میں رہتے تھے.....لیکن اب آزادی نو کا پہلا تحفہ یہ جملہ ہےکہ....آپ کے گھر سے تو نہیںِ کھاتا......کیا پہلے شادی بیاہ یا خوشی اور غمی کے دوران شہر سے ویٹر لانے کا تصور تھا????اب تو اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں....
اور سب سے بڑھ کر این جی اوز نے ہمدردی کے نام پہ جو زہر ہمارے سماج کے رگ و ریشے میں داخل کیا ہے...اس میٹھے زہر کی تباہ کاریوں کے بیان کے لیے کم از کم میرے پاس الفاظ نہیں.....
تاریخ نے قوموں کے وہ دور بھی دیکھے.....
لمحوں نے خطاء کی صدیوں نے سزا پائی.....
اسے میری قدامت پرستی کہیے یا ترقی کی دشمنی سے تعبیر کیجیے...کہ یہ آجکل کی ترقی مجھے ہضم نہیں ہو رہی.....میں اسی دور میںں لوٹنا چاہتا ہوںِ جہاں. حقیقی معنوں میںں انسانیت تھی.....
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس عظیم سانحے کے شہداء کی کامل مغفرت فرمائیں.......آمین.....
Like
Comment

..پریشانی حالات سے نہیں بلکہ خیالات سے پیدا ہوتی ہے....PARESHANI HALAAT SE NAHI BALKAY KHAYALAT SE PAIDDA HOTI HAI

..پریشانی حالات سے نہیں بلکہ خیالات سے پیدا ہوتی ہے....

میں جو ہوں.......
میرا اصول ہے کہ جب محسوس ہونے لگے کہ یہاں میری جگہ نہیں تو خاموشی سے الگ ہو جاتا ہوں.....
کوشش رہتی ہے کہ کسی کی پریشانی میں مذاق اور اور خوشی میں طعنہ نہ دوں کیونکہ جانتا ہوں اس سے رشتے ٹوٹتے ہیں.....
اکثر خاموش رہ کر اپنی عزت کے تحفظ اور بقاء کی کوشش میں لگارہتا ہوں.....
دیکھتا ہوں کہ آجکل زبان سے زیادہ انگلیاں رشتے نبھا رہی ہیں لیکن ذاتی اور عملی طور پر اب بھی قدموں اور زبان سے رشتوں کے نبھاؤ کا قائل ہوں.....
دور رہتا ہوںِ ان لوگوں سے جن کے بارے میںِ جان چکا ہوں کہ انہیں میری ضرورت بالکل بھی نہیں بلکہ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ میں کتنا ان کے کام آ سکتا ہوں.....
میری کبھی بھی یہ خواہش نہیں ہوتی کہ میرا ہم سفر بالکل مجھ جیسا ہی ہو کیونکہ جانتا ہوں کہ میں کسی کا سیدھا ہاتھ اپنے سیدھے ہاتھ میں پکڑ کر چل نہیں سکتا......
جب کسی کے اندر ایک برائی دیکھتا ہوںِ تو اپنی دس یاد آجاتی ہیں ..اسکا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی سے نفرت نہیں ہوتی....
جاہل کے سامنے عقل کی بات نہیںِ کرتا کیونکہ مجھے ادراک ہے کہ پہلے وہ بحث کرے گا اور پھر اپنی شکست دیکھ کر دشمن بن جائے گا......
سب کچھ بھول گیا ہوں سوائے ان لمحات کے جب اپنوں کی ضرورت تھی لیکن باوجود ہونے کے وہ دستیاب نہ ہوئے......
میں نے کافی حد تک خیالات سے جان چھڑا لی ہے...کیونکہ میں جانتا ہوں کہ....پریشانی حالات سے نہیں بلکہ خیالات سے پیدا ہوتی ہے....
میں ہر گز بے وقوف نہیں ...بخوبی جانتا ہوں کہ لوگ میرے ساتھ کیا کھیل ,کھیل رہے ہیںِ..لیکن پھر بھی نظر انداز کرتا رہتا ہوں....تاکہ ان سے نفرت پیدا نہ ہو....
تمنا ہے کہ اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہو جاؤں...اہل دنیا کی سوچ تو روزانہ بدلتی رہتی یے......
بہت سے جوابات کا حق وقت کو دے رکھا ہے....
بہت سےکیس اللہ کی عدالت میں دائر کر چکا ہوں اس یقین اور کامل اطمینان کے ساتھ کہ اسکے ہاں دیر تو ہے پر اندھیر نہیں.....

اخلاقیات Akhlaqyat

اخلاقیات.....


ہمارے ہاں عموما دن میں تین مرتبہ پیٹ پوجا کی جاتی ہے...صبح ,دوپہر اور شام.....کھانے کے معاملے میں عموما دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بے اعتدالیاں سامنے آتی ہیں.....ذیل میں کھانے کے حوالے سے کچھ آداب ذکر کیے جاتے ہیں.....
(۱) کھانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھونے کا اہتمام کریں....
(۲)ہاتھ دھونے کے بعد ہاتھ خشک ہونے تک توقف کریں..پانی ٹپکتے ہاتھوں کے ساتھ ہر گز کھانے کی پلیٹ میں نہ کودیں.....
(۳)اپنے سامنے سے کھائیں اور دوسرے شخص کا بھی خیال رکھیں.....
(۴) عموما دیکھا جاتا ہے کہ چاول کھاتے وقت لوگ لقمہ لینے کے بعد باقی بچے ہوئے چاول واپس پلیٹ میں گراتے ہیں...یہ بد تہذیبی کی اعلی مثال ہے...
(۵)اگر آپ ہاتھ سے کھانا کھا رہے ہیں تو لقمہ لیتے وقت اس بات کا اہتمام رکھیں کہ دائیں ہاتھ کے نیچے بایاں ہاتھ ضرور رکھیں....
(۶)چاولوں کے ساتھ اتنا سالن نہ لیں کہ آپ کی انگلیوں سے رسنا شروع ہو جائے....
(۷)اگر آپ کے ہاتھ کے ساتھ سالن ہے تو اس وقت براہ راست گلاس کو چھونے سے مکمل اجتناب فرمائیں بلکہ اس وقت یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں گلاس تھام لیا جائے اور دائیں ہاتھ کی پشت سے اسے سہارا دیا جائے..یوں گلاس آلودگی سے محفوظ رہے گا.......
(۸)عام مجلس و محفل میں بھی اپنی ناک میں انگلی ڈالنا انتہائی بد تہذیبی ہے لیکن کھانے کی میز پر اسطرح کی حرکت اسکی قباحت و شناعت میں بے انتہا اضافہ کر دیتی ہے.....
(۹)کھانا کھانے سے پہلے یا کھانے کے دوران اپنے پاؤں مت چھوئیں....
(۱۰)دعوت کے دوران اندھے بہرے بن کر کھانے پر مت ٹوٹیں.....نیز ان دو باتوں کا بھی خیال رہے کہ دوسرے لوگ اندھے بہرے نہیں اور پیٹ بھی آپ کا اپنا ہی ہے....
(۱۱)اگر اکیلے آپ کو کسی دعوت میں مدعو کیا گیا ہو تو بن بلائے بچوں یا دوستوں کے لاؤ لشکر سمیت مت آدھمکیں...کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ......جو بن بلائے کسی دعوت میں شریک ہوا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور غارتگر بن کر نکلا....اپنے بچوں کو چور اور غارتگر نہیں بلکہ مفید پاکستانی شہری بنائیں.....
(۱۲)یاد رکھیے!آپ کے باوقار مقام کے پیچھے آپ کی سالہا سال کی محنت ہوتی ہے لیکن اسے گنوانے میں کسی مجلس میں چھوٹی سی بے اعتدالی ہی کافی ہے..
(۱۳)صرف دعوتیں اڑانے پر ہی زور نہ رکھیں بلکہ کبھی کبھار دوسروں کو بھی مدعو کیا کریں.....کیونکہ دو طرفہ راستہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے.........
۱۴)کھانا بار بار لینے میں کچھ حرج نہیں....آپ تھوڑا تھوڑا لیں...اور بار بار لیں..... یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ حرص میں آکر یکبارگی زیادہ کھانا لیں اور اسے چھوڑ دیں...کیونکہ آپ کو کھانے کا تو حق ہے لیکن کھانا ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں.......
(۱۴)کھانے کے بعد اہل خانہ کا شکریہ ضرور ادا کریں...یہ شکریہ آپکی شرافت پہ دلیل ہو گا....اپنے گھر میں شکریہ ادا کرنا نسبتا مشکل ہوتا ہے....البتہ اسکی اسان صورت یہ ہے کہ یہ دو لفظ اپنا معمول بنا دیے جائیں.....کہ آج کھانا اچھا پکا ہوا تھا....یہ بھی شکریہ اور کھانے کی قدر دانی ہی ہے......
(۱۵)کھانے کی ابتداء اور انتہاء میں دعا کی بھی کوشش کی جائے.....
یہ چند وہ آداب ہیں جو پہلے بچہ ماں کی گود سے سیکھتا تھا لیکن اب شاید ان چھوٹی اور بے معنی 😭چیزوں کی تعلیم کے لیے اساتذہ اور والدین کے پاس وقت نہیں.....نیز وہ آج کے جدید دور میں ان فرسودہ روایات میں اپنے بچوں کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے.......
یہ تمام ان تلخ تجربات کا نچوڑ ہے کہ جن کی وجہ سے ایک بار نہیں بلکہ بارہا خالی پیٹ گھر لوٹنا پڑا.......

دیہی اور شہری زندگی Dahi aur Shehri Zindgi

 دیہی اور شہری زندگی


آپس کی بات.....
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ دیہی اور شہری زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے....شہر میں آپ کو اپنی دیوار سے جڑے ہوئے پڑوسی کے بارے میںں بھی بس حسب ضرورت تھوڑی بہت معلومات کی جانکاری ہوتی ہے.....جبکہ گاؤں اور دیہات میں فطری طور پہ لوگوں کی آپس میں اتنی گہری وابستگی ہوتی ہے کہ....کافی فاصلے کے باوجود ایک گھر والے دوسرے کے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہہوں نے سحری میں کیا سالن تیار کیا تھا......
اس تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ کچھ دنوں سے مسلسل مشاہدہ ہو رہا ہے کہ فیک آئی ڈیز کے سہارے ایک دوسرے پہ الزامات کی بوچھاڑ..اور پھر جواب...اور جواب الجواب کی مسلسل کھچڑی پکتی جا رہی ہے....جسکی وجہ سے آئے روز نفرتیں,عداوتیں اور دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں....اس موقع پر ہر شخص کے پاس دو راستے ہیں...یا تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق اس سلسلے کا سد باب کرے...یا پھر وہ ایک طرف بیٹھ کر لوگوں کی عزتوں کی نیلامی سے لطف اندوز ہوتا رہے....دوسرا راستہ مجھے اسلیے پر خطر لگ رہا ہے کہ درحقیقت یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کے گھر کے ارد گرد آگ کے شعلے ہوں اور آپ اپنی چھت پہ بیٹھ کر ان سے محظوظ ہوں...ظاہر یے کچھ ہی دیر میںِ یہ آگ آپ کو بھی بھسم کر ڈالے گی....بالکل اسی طرح یہ سلسلہ بھی جلد یا بدیر آپ کی کردار کشی پہ منتج ہونے والا ہے.....آخر ایسا کیوں ہے...ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا جینا مرنا,خوشی غمی اور دیگر معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں....کیا ہمارے پاس کرنے کے لیے کوئی مثبت سرگرمی نہیں رہی ??....تف ہے اور ہزار بار تف ہے ایسی سیاست پہ..کہ جو پر امن لوگوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنا دے.....افسوس ہے ایسی سوچ پر کہ جو دوسروں کی کردار کشی میں اپنی کامیابی ڈھونڈتی ہے....مجھے ان سنجیدہ دوستوں سے بھی شکوہ ہے کہ جو اسطرح کی بے نام و نشاں تخریب کاروں کے جال میں آجاتے ہیں.....یاد رکھیے!آپ کا ہر کمنٹ چاہے وہ تحسین کی صورت میںِ ہو یا تنقیدی پیرائے میں...وہ ایسے فسادی لوگوں کی تقویت کا باعث بنتا ہے....کیا آپ راہ چلتے سگان سوق کی ہر بھونک پہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں ??? یقینا نہیں....تو ان بے اصل کرداروں سے بھی ویسے ہی اعراض کریں.....جو شخص سامنے آکر..بلا خوف و خطر اظہار حق کی جرات نہیں رکھتا....یقینا ایسا فرد ہر گز اس لائق نہیں کہ آپ اسے منہ لگائیں.....خوب سمجھ لیجیے! اسطرح کے جعلی کردار معاشرے کے لیے ناسور ہیں..جو بالآخر سماج کو اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ کر دیتے ہیں...یہ آپ کے مشترکہ دشمن ہیں....آج آپ دوسرے کا تماشہ دیکھتے ہیں تو یقینا کل دنیا آپ کو تماشہ بنتے دیکھے گی....یہی عناصر سماج میں غلط فہمیوں کی فصیلیں قائم کرتے ہیں....
اس حوالے سے قرآن مجید میں انتہائی خوبصورت پیرائے میں یہ ہدایات درج ہیںِکہ.....اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی خبر غیر معتبر ذرائع سے آئے...تو پہلے اسکی تصدیق کر لیا کرو....ایسا نہ ہو کہ محض اس خبر کی بنیاد پہ تم کوئی قدم اٹھاؤ اور شرمندگی و ندامت تمہارا مقدر بن جائے....
میرے آقا جن کی آل و عترت اور اصحاب پہ درود ہو.....فرماتے ہیں کہ .....آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ محض سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانا شروع کر دے.....
ظاہر ہے فیک آئی ڈی سے بڑھ کر کسی خبر کا غیر معتبر ذریعہ کیا ہو سکتا ہے....ارشاد باری تعالی محض مولوی صاحب کے جمعے کی تقریر یا صرف نماز میںِ تلاوت کے لیے ہر گز نہیں بلکہ ....زندگی کے ہر موڑ پر قابل عمل ہے.....میرے لیے..آپ کے لیے...ہم سب کے لیے.....
لہذا عرض ہے کہ ان خفیہ کرداروں کی سازشوں کا مت شکار ہوں.....حضرت عمر رضی اللہ فرمایا کرتے تھے کہ کبھی باطل کو نظر انداز کر کے ختم کیا جاتا ہے.....اسلیے آپ بھی نظر انداز کر کے انہیںِ اپنی موت آپ مرنے دیں...خس کم جہاں پاک.....انہیں انفرینڈ کریں. آئیندہ اسطرح کی ریکوسٹ قبول کرنے سے پہلے لازمی تصدیق کر لیں.....

آپ کون ہیں AP KAUN HAIN

قند مکرر........
اگر آپ بریلوی مکتبہ فکر سے ہیں تو اس کی یہی وجہ ہو گی کہ شائد آپ نے اپنے آباؤ و اجداد کو اسی طریقے پہ کاربند دیکھا ہو گا,,,,یا آپ کے امام صاحب اسی مسلک سے متعلق ہوں گے,,یا آپ شفیع اوکاڑوی صاحب جیسے شہنشاہ خطابت سے متاثر ہوے ہونگے...یا آپ میلاد کی مروجہ صورت کو حقیقی اسلام سمجھتے ہونگے.....
اگر آپ دیوبندی ہیں تو اس کے اسباب بھی ایسے ہی ہوں گے کہ شاید کبھی آپ نے طارق جمیل صاحب کا درس اعتدال سنا ہو ,یا مسعود اظہر صاحب کی شعلہ بیانی سے آپ متاثر ہوں گے یا پھر سپاہ صحابہ والوں کی جوشیلی تقاریر آپ کو ان کے قریب کرتی ہونگی.....
اگر ْآپ اہلحدیث ہیں تو یقینا آپ اس پروپیگنڈے سے متاثر ہو ے ہونگے کہ اہلحدیث قرآن و حدیث کی بات کرتے ہیں جبکہ مقلدین قرآن وحدیث چھوڑِکر اپنے اماموں کی اندھی تقلید کرتے ہیں
..یا آپ حافظ سعیدصاحب کی شخصیت سے محبت کی وجہ سے ان کے طریقے کو پسند کرتے ہونگے.....یا پھر آپ سوچتے ہونگے کہ اہل عرب بھی تو اہل حدیث کی طرح ہاتھ اٹھا اٹھا کر,پاؤں ملا ملاکر نمازپڑھتے ہیں اور چونکہ دین وہیں سے آیا یے اسی لیے یہی طریقہ درست و صواب ہے........
بحرحال آپ جوکچھ بھی ہیں اتنی بات تو واضح ہے کہ آپ کا اختیار کردہ مسلک دلائل یا تحقیق و جستجو پہ مبنی نہیں بلکہ وہ دیگر خارجی عوامل کا مرہون منت ہے.....
لیکن اس سب کے باوجود اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آپ ایک مسلمان کم ہیں جبکہ بنسبت اس کے آپ دیوبندی ,بریلوی ,غیر مقلد زیادہ ہیں....
آپ اسلام سے زیادہ مسلک کا پرچار کرتے ہیں...اگر آپ بریلوی ہیں تو آپ کو تبلیغی جماعت کی ترقی ہضم نہیں ہوتی,,آپ دیوبندی ہیں تو دعوت اسلامی کے حلقہ میں روز افزوں اضافہ آپ کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں ہوتا......
آپ کو یہ تو برداشت ہے کہ جنید جمشید ناچتا گاتا اس دنیا سے رخصت ہو لیکن تبلیغی جماعت کے پلیٹ فارم سے اسلام کی طرف لوٹنا اور تائب ہونا آپ کو گوارا نہیِں......
آپ کے لیے یہ تو قابل تحمل ہے کہ ایک مسلمان فسق و فجور کی حالت میں مرے لیکن آپ کو یہ برداشت نہیں کہ وہ دعوت اسلامی کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے نیک و پرہیز گار ہونے کی حالت میں اللہ سے ملے....
اسلام پہ آئے دن اعتراضات ہوتے ہیں ,, تمہارے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگتی لیکن اگر تمہارے مسلک کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو تم لنگوٹ کس کے نہیں بلکہ لنگوٹ اتار کر میدان بےحیائی و بے شرمی میں کود پڑتے ہو......
اسلام کو گالیاں پڑیں ,,تمہیں کوٰی سروکار نہیں ,اسلامی عقائد پہ تیشہ چلے تمہیں کوئی تکلیف نہیں لیکن تمہارے مسلک کی کسی غلط بات کی بھی نشاندہی ہو جائے تو تمہارے تن بدم میں آگ لگ جاتی ہے.....
ایسا کیوں ہےآخر?ذرا سوچو!!!!!!!!
مسلک سے بڑھ کر اسلام کی بات کرو.......

کرسمس کے موقع پہ ہمارا کرسچن کمیونٹی سے طرز عمل کیسا ہونا چاہیے...

ایک دوست پوچھ رہے تھے کہ کرسمس کے موقع پہ ہمارا کرسچن کمیونٹی سے طرز عمل کیسا ہونا چاہیے.... 
میں نے عرض کی کہ احترام انسانیت اور انسانی بنیادوں پہ رواداری ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے.....البتہ ان کے ساتھ کھانے ,پینے ,اور بہت زیادہ قریبی تعلق سے حتی الامکان پرہیز کرنی چاہیے.......تاکہ ان کے رنگ میں رنگنے سے بچت رہے.....نیز یہ بھی کہا کہ اسلام کا اپنا ایک تشخص,پہچان اور دستور حیات ہے جس کی بقاء اسے بہت زیادہ عزیز ہے....یہی وجہ ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پہ رواداری کے فروغ کی تعلیم دینے کے باوجود ایسے تمام تر اقدامات سے اجتناب کرنے پہ بہت زور دیتا ہے کہ جن سے اسلامی تشخص خطرے میں پڑتا ہو... بلکہ بعض اوقات تو وہ اس مسئلے کو اسلام و کفر کا مسئلہ قرار دیتا ہے...الغرض اسکے سامنے ٹھیک ٹھاک لیکچر جھاڑ دیا کہ ان کے کھانے ,پینے سے پرہیز ہی بہتر ہے .....
لیکن واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ رات جب کرسمس کی تقریبات کا آغاز ہو رہا تھا تو رات تقریبا تین بجے کا وقت تھا اور دسمبر کی یخ بستہ راتیں جو جسم ناتواں میں خوں منجمد کرنے میں اپنا ثانی نہیںِ رکھتیں...اس وقت اگر آپ کے سامنے مشروب مشرق یعنی چائے کے تازہ بھرے ہوئے کپ ہوں تو انسان کافی حد تک نرم پڑ جاتا ہے..اور ایسا ہی ہوا.....
مجھے اسلام کی ہمدردی وغمخواری کی تمام تر تعلیمات ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں......
حقیقت یہی ہے کہ ہم دوسروں کے معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی کے قائل نہیں....عزیمت,اسلامی غیرت و حمیت اور اسلامی تشخص ہمیں صرف دوسروں کے معاملے میں ہی نظر آتا ہے...اور جب ہم خود اسطرح کی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو گنجائش,مصلحت اور سہولت جیسی بیسیوں راہیں اپنے لیے ڈھونڈ نکالتے ہیں.....اگر ہم دوسروں کی مشکلات کو بھی اپنی مشکلات کی طرح سمجھیں تو یقینا " دین" کافی آسان ہو سکتا ہے....

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...