سنا ہے آج پھر پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے...


سنا ہے آج پھر پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی ہے.... برفباری کو دیکھتے ہی اپنے بچپن کی حسین یادیں تازہ ہونے لگتی ہیں.... ہر شخص مخصوص انداز سے برفباری سے لطف اٹھاتا ہے....مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بچپن میں , میں پہروں آسمان سے نیچے آترتی برف کی ٹکڑیوں کو دیکھا کرتا تھا....یوں لگتا تھا کہ فرشتے پورے ادب و احترام کے ساتھ اللہ کی اس نعمت کو اہل زمیں کے حوالے کر کے واپس جا رہے ہیں..... عموما رات کو برف پڑتی اور صبح ہم چارپائی سے ہی اس کا نظارہ کرتے....سب سے زیادہ سکول سے چھٹی کا لطف ہوتا....اور اسمبلی کے وقت تک ہم لاش کی طرح بستر سے چمٹے رہتے....جوں ہی معلوم ہوتا کہ اب اسکول جانے کا وقت گزر چکا تو بجلی کی کوند کی طرح بستر سے الگ ہو جاتے... پھر محبوب مشغلہ گولہ باری ہوتی تھی....بعض دوست یہاں بھی کرپشن سے باز نہ آتے اور برف کے گولے میں کانچ یا چھوٹے پتھر کا استعمال کرتے.... کچے گھروندوں کی چھتیں ٹپکا کرتی تھیں....گاؤں کے ایک مرحوم بزرگ کے حوالے سے یہ روایت بارہا سنی کہ ایک دفعہ کثرت کے ساتھ ان کی چھت ٹپکنے لگی ..اور گھر میں سونے کی جگہ نہ رہی..لیکن وہ نیند کے اتنے رسیا تھے کہ ایک چارپائی پہ بستر جمع کر کے اسی چارپائی کے نیچے عارضی پناہ گاہ میں سو گئے.... چھتوں سے برف اتارنے کے حوالے سے باہمی تعاون و تناصر کا قابل دید منظر ہوا کرتا تھا.... ہماری تفریح بھی کس قدر تکلفات سے پاک تھی کہ گھر سے چینی چھپا کر برف میں ڈال کر کھاتے تھے اور اسے بڑا معرکہ سمجھتے تھے..... اس موسم میں ایک خاص سرگرمی یہ ہوا کرتی تھی کہ برف پر جنگلی خرگوش کے نقش پا تلاش کر کے انہیں شکار کیا جاتا تھا.... اس حوالے سے ایک واقعہ اچھی طرح ذہن نشین ہے کہ ہمارے ایک قریبی رشتہ دار خرگوش کے شکار کو نکلے....اور چونکہ اس چھوٹے سے جنگل میں خرگوش کی پناہ گاہ تقریبا معلوم ہی تھی...لہذا بلا کسی دشواری کے ہم مقام مقصود تک پہنچ گئے....راستے میں ہی ہم بچوں کو صاحب بہادر نے تاکید کی کہ سانسیں روک لو !اب سانس کہاں رکنے والی تھی لیکن حتی المقدور ہم نے حکم کی تعمیل کی کوشش کی...خوش قسمتی سے خرگوش پتھر کے اوٹ میں سوتا پایا گیا.....ہمیں کافی فاصلے پہ ہی روک دیا گیا تھا کہ آگے ممنوعہ علاقہ ہے....اب ان صاحب نے چند فٹ کے فاصلے سے خرگوش کے سر کا نشانہ لیا....نصیب دشمناں ! نشانہ خطاء گیا اور خرگوش بھاگ نکلا.....اب ہونا تو وہی تھا.....کہ ہماری شامت آگئی.....بالکل جسطرح امریکہ افغانستان میں اپنی تمام تر ناکامیوں کاملبہ پاکستان پہ ڈالتا ہے ویسے ہی خرگوش کے بچ نکلنے کی تمام تر ذمہ داری ہم پہ عائد کی گئی......ہم نے بھی تحریک طالبان کی طرح خاموشی سے یہ ناکردہ جرم بھی اپنے ذمے میں قبول کر لیا.... بہر حال کیا ہی خوبصورت دور تھا...بڑی تمنا ہے کہ اگر اختیار ملے تو واپس اسی زمانے میں لوٹنے پہ لمحہ بھر توقف نہ کروں........بقول شخصے....... الا لیت الشباب یعود یوما........... فاخبرہ بماذا فعل المشیب.......... اے کاش ! جوانی پھر سے لوٹ آئے...... تو میں اسے بتاؤں کہ بڑھاپے نےمیرا کیا حال کر دیا........

No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...