کرسمس کے موقع پہ ہمارا کرسچن کمیونٹی سے طرز عمل کیسا ہونا چاہیے...

ایک دوست پوچھ رہے تھے کہ کرسمس کے موقع پہ ہمارا کرسچن کمیونٹی سے طرز عمل کیسا ہونا چاہیے.... 
میں نے عرض کی کہ احترام انسانیت اور انسانی بنیادوں پہ رواداری ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہیے.....البتہ ان کے ساتھ کھانے ,پینے ,اور بہت زیادہ قریبی تعلق سے حتی الامکان پرہیز کرنی چاہیے.......تاکہ ان کے رنگ میں رنگنے سے بچت رہے.....نیز یہ بھی کہا کہ اسلام کا اپنا ایک تشخص,پہچان اور دستور حیات ہے جس کی بقاء اسے بہت زیادہ عزیز ہے....یہی وجہ ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پہ رواداری کے فروغ کی تعلیم دینے کے باوجود ایسے تمام تر اقدامات سے اجتناب کرنے پہ بہت زور دیتا ہے کہ جن سے اسلامی تشخص خطرے میں پڑتا ہو... بلکہ بعض اوقات تو وہ اس مسئلے کو اسلام و کفر کا مسئلہ قرار دیتا ہے...الغرض اسکے سامنے ٹھیک ٹھاک لیکچر جھاڑ دیا کہ ان کے کھانے ,پینے سے پرہیز ہی بہتر ہے .....
لیکن واقعہ یہ ہے کہ گزشتہ رات جب کرسمس کی تقریبات کا آغاز ہو رہا تھا تو رات تقریبا تین بجے کا وقت تھا اور دسمبر کی یخ بستہ راتیں جو جسم ناتواں میں خوں منجمد کرنے میں اپنا ثانی نہیںِ رکھتیں...اس وقت اگر آپ کے سامنے مشروب مشرق یعنی چائے کے تازہ بھرے ہوئے کپ ہوں تو انسان کافی حد تک نرم پڑ جاتا ہے..اور ایسا ہی ہوا.....
مجھے اسلام کی ہمدردی وغمخواری کی تمام تر تعلیمات ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں......
حقیقت یہی ہے کہ ہم دوسروں کے معاملے میں کسی بھی قسم کی نرمی کے قائل نہیں....عزیمت,اسلامی غیرت و حمیت اور اسلامی تشخص ہمیں صرف دوسروں کے معاملے میں ہی نظر آتا ہے...اور جب ہم خود اسطرح کی صورتحال سے دوچار ہوتے ہیں تو گنجائش,مصلحت اور سہولت جیسی بیسیوں راہیں اپنے لیے ڈھونڈ نکالتے ہیں.....اگر ہم دوسروں کی مشکلات کو بھی اپنی مشکلات کی طرح سمجھیں تو یقینا " دین" کافی آسان ہو سکتا ہے....

No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...