لُوغَاں, چاول کی فصل کے لگانے کے عمل کو ہماری پہاڑی پونچھی زبان میں "لُوغاں" کہتے ہیں







"لُوغَاں"



دھان یعنی چاول کی فصل کو ہماری پہاڑی پونچھی زبان میں "تہائیں"کہا جاتا ہے اور اس فصل کے لگانے کے عمل کو "لُوغاں" کہتے ہیں
یہ فصل مارچ کے آخر میں لگائی جاتی تھی اس کا طریقہ کار کچھ اس طرح سے تھا کہ کھیت کے ایک کونے میں دھان کی پنیری تیار کی جاتی تھی پنیری تیار کرنے کے اس عمل کو "بیتُھل" کہتے تھے
بیتھل کے لیے زمین کو اچھی طرح تیار کیا جاتا تھا گوبر کو بطور کھاد مکس کیا جاتا تھا اور اس میں بائیکُڑ یا دریک کے پتے ڈالے جاتے تھے.. ان دونوں درختوں کے پتے ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں... یہ پتے اسلیے ڈالے جاتے تھے اولاً یہ پنیری میں حدت پیدا کرکے اسکو جلد تیار ہونے میں مددگار ہوتے ھیں لیکن بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اینٹی سیپٹک اور جراثیم کش ہوتے ہیں پنیری کو کیڑا نہیں لگتا.

جس کھیت میں فصل لگائی جاتی ہے اُسے "چھیتر"کہتے ہیں چھیتر کو پانی لگا کر تیار کیا جاتا تھا اور مَت (سہاگہ) سے ہموار کیا جاتا تھا
جب پنیری تیار ہو جاتی تو چھیتر میں لُوغاں لگانے کا عمل شروع ہوتا تھا گھر کے سارے افراد اور رشتہ دار,  پڑوسی بھی اس عمل میں مدد کے لیے شریک ہوتے تھے
لُوغاں لگاتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرتےہوئے ریورس چلنا پڑتا تھا یعنی لگاتے ہوئے پیچھے کی طرف آتے تھے تاکہ لگائی ہوئی پنیری ضائع نہ ہو..لوغاں لگاتے ہوئے شرارتی لوگ اکثر  بیتھل چھپا لیتے تھے
فصل کی بہت حفاظت کی جاتی تھی اسے چڑیوں, بکریوں سے بچا کر رکھا جاتا تھا
خاص کر جب فصل پک جاتی تو اس کی زیادہ حفاظت کی جاتی تھی... جب اولے پڑتے تو فصل ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا تھا
فصل کاٹ کر جمع کی جاتی تھی... جمع شدہ فصل کے ڈھیر کو "پَسِّی"کہا جاتا ہے
چونکہ اُس وقت تھریشر نہیں تھا تو دھان کی فصل کو ہاتھوں سے پتھر پر مار کر صاف کیا جاتا تھا اس عمل کو "چُھمنا" کہتے ہیں
چھمنے کے بعد پرالی الگ کر دی جاتی تھی پرالی کو ہماری زبان میں "تہانیال"کہتے ہیں
تہانیال سے دیسی پراڈکٹس, کھیڑا, جائے نماز, اور پُولاں تیار کی جاتی تھیں جن پر ایک الگ تفصیلی تحریر لکھوں گا

ہمارے پڑوسی چچا سید حسین صاحب مرحوم آخری وقت تک دھان کی فصل کاشت کرتے رہے... چھیتر کے نسبت اُن کی آبائی جگہ کو "چھیتروڑا" کہتے ہیں
چھیتر کو کچھ علاقوں میں ہوتر بھی کہتے ہیں جس کی وجہ اُن کے جگہوں کے نام ہوتریڑی مشہور ہیں 
اس کے علاوہ سردی کی ہموار زمین چاول کی کاشت کے لیے بہت مشہور تھی
رات کو فصل کے پانی میں مینڈکیں نغمہ سرا ہوتیں تھی جس سے دور دور تک دلسوز سماں پیدا ہوتا تھا یہ خوبصورت نغمے اب معدوم ہو گئے بزرگ جاتے ہوئے ساری رونقیں بھی ساتھ لے گئے

 پونچھ میں پیدا ہونے والے چاول بہت لذید خوشبودار ہوتے تھے.. دیسی چاول کو پکا کر نچوڑنے سے حاصل ہونے والا اوغرا بہت لذید اور صحت افزاء ہوتا تھا... اس کے علاوہ کاڑھا نرم غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا

یونین کونسل ٹائیں میں عمدہ کوالٹی کا چاول ہوتا تھا  یہاں مقامی کاشت شدہ عمدہ کوالٹی کے چاول اور نالہ ماہل اور دریا جہلم کی تازہ ذائقہ دار مچھلی اس دور کے حاکم طبقہ کے لیے بہت پرکشش رہی ہے کیونکہ یہاں ڈاک بنگلہ مہاراجہ ہری سنگھ اور برطانوی سرکار کے زیر استعمال رہا ہے

مزے کی بات یہ ہے کہ آزادکشمیر میں محکمہ زراعت کہ قیام سے پہلے ہمارے لوگ اپنی زمینوں میں بھرپور کاشت کاری کیا کرتے تھے تقریبا ہر گھر گندم ، چاول مکئی اور سبزیوں کہ معاملے میں خود کفیل ہوا کرتا تھا لیکن محکمہ زراعت کہ دفاتر کھلتے گئے اور لوگ کھیتی باڑی سے دور ہوتے گئے حالانکہ پروڈکشن بڑھنی چاہیے تھی۔
ایک ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کا محکمہ زراعت 138 اعلی افسران سمیت 1502 ملازمین پر مشتمل ہے  اور سالانہ 56 کروڑ 38 لاکھ روپے تنخواوں کی مد میں قومی خزانے سے  وصول کر رہا ہے   جبکہ سالانہ  35 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ  بھی استعمال کرتا ہے ۔۔ لیکن آزاد کشمیر کی زراعت کا شعبہ  تیزی سے زوال پزیر ہے


No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...