*کیا آخری کڑی ٹوٹ چکی ہے* *اوریا مقبول جان



*دنیا کے ہر ضروری سمجھے جانے والے کاروبارِ زندگی کو معمول کے مطابق چلانے کے لئے "کرونا" کی اس خوفناک وبا میں بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ پوری دنیا پر غیر محسوس طریقے سے حکومت کرنے والے میڈیا کا کسی بھی ملک میں ایک ٹیلی ویژن چینل، ایک ریڈیو سٹیشن یا آباد نشریاتی ادارہ بند نہیں کیا گیا۔ حرمِ کعبہ، مسجد نبوی، کربلا، مشہد، جامعہ مسجد دہلی، الازہر، بادشاہی مسجد لاہور سے لے کر مسلم دنیا میں لاتعداد مساجد کے پہلو میں بے شمار ٹیلی ویژن چینل مسلسل اپنی نشریات جاری رکھے ہوئے ہیں۔*
*دنیا بھر کی مساجد میں لوگ چوبیس گھنٹے میں زیادہ سے زیادہ صرف ایک گھنٹے سے بھی کم عرصے کے لیے آتے ہیں۔ ہرنماز کے درمیان کم از کم ڈیڑھ گھنٹے اور زیادہ سے زیادہ نو گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے۔ اسکے دوران پوری مسجد کو ان تمام اصولوں کے مطابق پانچ وقت صاف کیا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی سے بچنے کے لیے اگر ہر مسجد کے باہر سے سپاہی کھڑے کیے جا سکتے ہیں تو یہاں پر بھی ہر نمازی پر مناسب سپرے کیا جاسکتا ہے، اسے ماسک اور دستانے پہنائے جاسکتے ہیں، نمازیوں کے درمیان مناسب فاصلہ رکھا جاسکتا ہے۔ ہر مسجد میں اس کام کے لیے لوگ موجود ہوتے ہیں اور لوگ رضاکارانہ طور پر بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔*
*جہاں تک وسائل کا تعلق ہے پاکستان کے غریب ترین گاؤں کی مسجد بھی انکے گھروں سے بہتر حالت میں ہوتی ہے اور نماز پڑھنے والے اس اہتمام کا خرچ بخوشی اٹھا سکتے ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس امت کا ایمان و ایقان اور جذبہ اقام الصلوٰۃ پہلے ہی حملے میں دھڑام سے گر گیا۔ اس لیے کہ شاید اجماعت ہماری اولین ترجیح میں ہی نہیں تھی۔ کہا گیا کہ انسان کی جان بچانا سب سے اہم فریضہ ہے، تو پھر ان لاتعداد اداروں، فیکٹریوں، عدالتوں اور میڈیا میں کسی کی جان تو "واقعی" خطرے میں نہیں ہے۔*
*مساجد میں عام نمازی کو آنے سے روکنے کا اور نمازوں کو مساجد کے خادمین کی حد تک محدود کرنے کا اس امت نے فیصلہ ہی کرلیا۔ اور یہ فیصلہ ایسے ہی ہونا تھا۔ مخبر صادق ﷺ نے قربِ قیامت میں واقعات کی جو ترتیب بتائی ہے سب کچھ عین اسی طرح سے ہوتا چلا آرہا ہے۔ حضرت ابو امامہ باہلی ؓ سے روایت ہے کہ "حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسلام کی کڑیاں ایک ایک کرکے ٹوٹتی جائیں گی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ دوسری کڑی کو پکڑ لیں گے۔ سب سے پہلی کڑی "حکم" (امر خلافت) اور سب سے آخر میں ٹوٹنے والی کڑی "نماز" ہوگی (مسند احمد، شعیب الایمان، المعجم الکبیر)۔ پہلی کڑی اس دن ٹوٹی تھی جب اسلام کے تیرہ سو سال سے مسلسل نافذ، نظام عدل کو 3 مارچ 1924 کے دن ترکی میں خلافت عثمانیہ کو کمال اتاترک کی حکومت نے ختم کیا اور مجلہ الاحکام العدلیہ کی جگہ مغربی قوانین نافذ کر دیئے۔*
*آج 98 سال بعد، حرمِ کعبہ اور حرم نبوی کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کی مساجد عام آدمی کے نماز پڑھنے کے لئے عملاً بند ہو چکی ہیں۔ یعنی اس امت نے یہ فیصلہ کر لیا کہ ہم نماز کو مساجد میں جاری رکھنے کے لئے اتنا بھی اہتمام نہیں کرسکتے جتنا ایک ٹیلی ویژن چینل، فیکٹری اور عدالت کو جاری رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔ معاملہ عمرہ و حج کی منسوخی کا نہیں۔ کہ وہ کئی بار معطل ہوئے اور یہ نماز کی طرح فرائض میں بھی شامل نہیں، معاملہ تو پانچ وقت نماز کا ہے جس کی معطلی کو ٹوٹنے والی آخری کڑی قرار دیا گیا ہے۔ نماز کی اس کڑی کے ٹوٹنے کی انتہا مدینہ النبی کی ویرانی ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم مدینہ کو بہت اچھی حالت میں چھوڑ جاؤ گے۔ وہاں صرف پرندے اور درندے رہ جائیں گے۔ آخر میں قبیلہ مزینہ کے دو چرواہے مدینہ طیبہ آئیں گے، جو اپنی بکریوں کو آواز دیں گے۔ وہ مدینہ کو وحشی جانوروں سے گھرا ہوا پائیں گے" (بخآری: باب من رغب المدینہ)۔ مدینہ کی اس ویرانی کا آغاز بیت المقدس یعنی یروشلم کی آبادی سے جوڑا گیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے واقعات کی ایک ترتیب بتائی ہے۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "بیت المقدس کی آبادی، مدینہ طیبہ کی ویرانی، اور مدینہ طیبہ کی ویرانی، بڑی جنگ کا ظہور، اور بڑی جنگ کا ظہور قسطنطنیہ کی فتح، اور قسطنطنیہ کی فتح، دجال کا نکلنا (ابو داؤد)۔*
*رسول اکرم ﷺ نے ایک اور طرح بھی واقعات کی ترتیب بتائی اور ان میں دو مزید سانحات کا اشارہ دیا ہے۔ فرمایا "قیامت کی چھ نشانیاں شمار کرلو، میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک وبا جو تم میں شدت سے پھیلے گی، جیسے بکریوں میں طاعون پھیلتا ہے تو وہ مرنے لگتی ہیں، پھر مال کی کثرت اس درجہ ہو گی، کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہوگا۔ پھر ایک فتنہ جو اتنا تباہ کن اور عام ہوگا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہوگا۔ پھر صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ اس میں اسی (80) جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہوگی" (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے)۔ (صحیح بخاری:3176، ابو داؤد، ابن ماجہ)۔*
*کیا سب کچھ ایسے ہی نہیں ہورہا ہے جیسے میرے پیغمبرِ برحق ﷺ نے بتایا تھا۔ بیت المقدس کی آبادی کا اعلان اس دن ہو گیا تھا جب امریکہ نے اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا اور پوری دنیا کے مسلمان حکمرانوں نے اس فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیا۔ اس کے بعد کے واقعات کی تمام ترتیب ویسی ہی ہے جیسے خبردی گئی تھی۔ ہم اس بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑے ہیں جس کی تیاری بیت المقدس کو آباد کرنے والے اہل روم اور یہودی کئی سو سالوں سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن ہمارا حال یہ ہے کہ بے بسی کا وہ عالم جس میں دعا ہی مومن کا ہتھیار ہوتا ہے ہم اللہ کی طرف پلٹنے والے دروازے خود بند کر رہے ہیں۔*

مسلمانوں کے لئے سیکھنے کی بات.



 میڈی ڈیوڈ ایک اسرائیلی عورت تھی، اُس کے گھر خوشی آنے والی تھی۔ میڈی کو روز صبح ایک ادارے میں جانا پڑتا جہاں اسے 3 گھنٹے تک ریاضی کی مشقیں حل کرائی جاتیں تاکہ بچہ ذہین پیدا ہو، اس کے بعد وہ گھر آکر مچھلی، بادام، دودھ، کھجور، بیف، دالیں اور دیگر پھل وغیرہ کھاتی، دن میں کم از کم دو گھنٹے سکون حاصل کرنے کے لیے موسیقی سنتی۔ سرکاری طور پر اس کو وظیفہ دیا جارہا تھا تاکہ وہ ایک صحت مند یہودی کو پیدا کرسکے۔ اس کے شوہر کا رویہ بھی نہایت مثبت تھا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہو جو نوبیل پرائز حاصل کرے۔
80 فیصد یہودی ہی ہمیشہ سے نوبیل پرائز حاصل کرتے آئے ہیں۔
17 جنوری 1990ء کو آخرکار میڈی کے ہاں 8 پائونڈ کا سولیھن جوزف پیدا ہوا۔ اس کی ماں بھی بہت صحت مند تھی اور بچے کو بہترین ابتدائی غذائیں دے رہی تھی۔ تین سال کی عمر میں اسے نشانہ بازی، تیراندازی اور دوڑ کی مشقیں شروع کرا دی گئی تاکہ یکسوئی اور فیصلہ سازی کا عنصر پیدا ہو۔ سولیھن کو بہت اخلاق و تہذیب بھی سکھایا جاتا، اس کے سامنے کوئی اونچی آواز میں آپس میں بھی بات نہ کرتا۔ ایک دن سولیھن بہت حیران ہوا، اس کے ماں باپ ہر مہمان کی بہت تواضع کرتے تھے، مگر ایک بھارتی مہمان جب سگریٹ پینے لگا تو سولیھن کے والد نے اُس سے کہا کہ آپ گھر سے باہر جا کر سگریٹ پئیں۔ مہمان نے کہا کہ سگریٹ کی 80 فیصد فیکٹریاں یہودیوں کی ہی ہیں۔ تو سولیھن کے والد نے جواب دیا کہ ہاں وہ ہمارا بزنس ہے مگر یہودی اسموکنگ نہیں کرتے، جیسے کہ ہم تمام دنیا کے بچوں کو کارٹون نیٹ ورک اور ڈزنی ورلڈ دکھاتے ہیں مگر اپنے بچوں کو ہم تیراندازی، گھڑ سواری، تیراکی اور ریاضی سکھاتے ہیں، ہمارے اسرائیلی بچے کیلی فورنیا کے بچوں سے ذہنی استعداد میں 6 سال آگے ہیں، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو کس بچے کو ڈاکٹر یا سائنٹسٹ بنانا ہے، ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں مستقبل میں اپنے کتنے بچوں کو بزنس مین یا انجینئر یا سیاست دان بنانا ہے، ہر ایک کی اسی حساب سے ساری زندگی ٹریننگ ہوتی ہے۔
سولیھن جوزف جب چھٹی جماعت میں گیا تو اسے پراجیکٹ دیا گیا کہ 3 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری سے 10 ہزار ڈالر کما کر دکھائے۔ اسے تیسری جماعت سے کاروباری حساب کتاب پڑھایا جارہا تھا، مگر وہ صرف7 ہزار ڈالر ہی کما سکا۔ اس ناکامی پر اسے کاروباری ریاضی کی ایکسٹرا کلاسیں لینا پڑیں، اور ساتویں جماعت میں وہ اسکول کے فراہم کردہ 5 ہزار ڈالر سے 16 ہزار ڈالر کمانے میں کامیاب ہوگیا۔ اب وہ ایک پکا یہودی بن چکا تھا، اب وہ جو چاہے مضمون اپنے ہائی اسکول کے لیے منتخب کرتا، مگر صرف سائنسی مضامین کی اجازت تھی اور سولیھن نے نیوکلیئر فزکس کا انتخاب کیا۔ یہ وہ سال تھا جب سولیھن نے زندگی میں پہلی بار چپس، پیپسی اور چاکلیٹ چکھے، کیونکہ ساری کچرا خوراک یہودی بچوں کو منع ہوتی ہے۔ سولیھن کا بھی یہ پہلا تجربہ آخری تجربہ رہا اور اس کو ماں باپ سے بہت ڈانٹ پڑی۔ اب وہ پھر سے جیب میں کھجور اور بادام رکھتا ہے، جو ٹافیوں اور الم غلم سے بدرجہا بہتر ہیں۔
جب سولیھن تعلیم سے فارغ ہوا تو اس کے والد نے اسے نیویارک کے ایک ادارے میں بھیجا۔ صدیوں کے سودخور یہودی اس ادارے میں یہودی بچوں کو بلا سود قرضے فراہم کرتے تھے تاکہ یہودی بچے اپنے ہنر و تعلیم کے مطابق کاروبار کا آغاز کریں، نہ کہ نوکریاں ڈھونڈتے پھریں۔ پڑھائی تک یہ سوچ کر نہ کریں کہ نوکری مل جائے، بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نیا کاروبار کریں۔
سولیھن کو اپنی طلب کے مطابق قرضہ مل گیا، اس نے اسرائیل میں ایک لیبارٹری کھولی جہاں اس کے سب سائنس دان دوست بھی اس کے ساتھ مل گئے۔ اس کے بعد جدید ٹیکنالوجی سے ان لوگوں نے وہ، وہ ہتھیار بنائے کہ دنیا کا ہر ملک اسرائیل سے ڈرنے لگا۔
…٭…
اسرائیلی دنیا پر کیوں حکومت کررہے ہیں،
اور مسلمان کیوں زوال کا شکار ہیں۔
ایک اسرائیلی بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی تربیت پانا شروع کردیتا ہے، یہودی ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ چل رہے ہیں اور وہ اپنی نسلوں کی ایسی ٹھوس تربیت کرتے ہیں کہ ہر آنے والی نسل پچھلی نسل کا ایجنڈا لے کر آگے بڑھتی ہے، کسی نسل پر بھی ان کی حکمت عملی میں خلا نہیں پیدا ہونے پاتا۔ کوئی بچہ اپنے آبا و اجداد کی حکمت عملی سے اختلاف نہیں کرتا، اور یہودیوں کے منصوبے صدیوں تک بغیر کسی مشکل کے جاری رہتے ہیں۔
یہودیوں کی ایک اور خوبی جو اُن کی ترقی کی ضمانت ہے، یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کا راستہ نہیں کاٹتے، بلکہ ایک یہودی دوسرے یہودی کی مدد کرتا ہے۔ ساری دنیا کو انہوں نے سود در سود کے چکر میں پھنسایا ہوا ہے، مگر ایک یہودی جب دوسرے یہودی کو قرض دیتا ہے تو ایک پیسے کا بھی سود نہیں لیتا، چاہے کتنے عرصے میں رقم کی واپسی ہو۔ یہودی خاندان جو اسرائیل میں بستے ہیں، ان میں طلاق کی شرح صرف 3 فیصد ہے، وہ بھی صرف شوبز وغیرہ سے وابستہ لوگوں میں… عام یہودی خاندانوں میں طلاق ممکن ہی نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ایک مضبوط قوم کے لیے سب سے پہلے مضبوط خاندان ضروری ہے تاکہ بچوں کی تربیت عمدہ انداز میں ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا بھر کو ڈراموں اور فلموں کے ذریعے طلاق کی تربیت دے رہے ہیں، مَردوں کی تفریح کے اتنے ذرائع پیدا کردیے گئے ہیں کہ ان کو گھروں میں دلچسپی محسوس ہی نہیں ہوتی، بلکہ وہ خاندان کو ایک بوجھ سمجھنے لگے ہیں جو ان کی آزادی اور تفریح کی راہ میں رکاوٹ ہے، اور پھر آخرکار بچوں کی جنت اجڑ جاتی ہے، یہ بچے کسی چچا،مامو کے گھر یہ سنتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں'' برے باپ کی بری اولاد'' اور کچھ بن نہیں پاتے۔
یہودی اپنے بچوں کو اپنی تمام مذہبی کتب اور مذہبی رسومات ازبر کرا دیتے ہیں۔ اگر ان کا عقیدہ حضرت عیسیٰؑ کے دور میں تھا کہ وہ آئیں گے تو دنیا میں یہودیوں کی حکومت قائم ہوگی، تو آج بھی وہ نہ صرف ایک مسیح کا انتظار کررہے ہیں بلکہ ان کا بچہ بچہ دجال مسیح کی آمد کا میدان تیار کررہا ہے۔ شام کی تباہی بھی دجال کی آمد کی نشانی ہے جسے وہ دل لگا کر پورا کررہے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ترکی، مصر، مدینہ، عراق اور تمام عرب ممالک گریٹر اسرائیل کا وہ نقشہ ہیں جن کی فتح کے بعد ہی دجال آسکے گا اور تمام دنیا کو یہودیوں کی جاگیر بنادے گا۔ ویسے سچی بات تو یہ ہے کہ یہودی اتنے متحد اور ذہین ہیں کہ اب بھی تمام دنیا پر بلاواسطہ انہی کا قبضہ ہے، وہ جو چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے، اور عرب حکمران خدا کو خوش کرنے سے زیادہ یہودیوں کو خوش کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو وہ جس قدر نقصان یہودی پہنچا رہے ہیں وہ ناقابلِ برداشت ہے،
تاہم یہ بات صحیح ہے کہ ہم اپنے رب کے احکام پر عمل کریں تو ان کی سازشیں کچھ نہیں کرسکتیں۔اور اپنے اسلاف کے طریقے پر چلیں جس کو وہ مشعل راہ بنائے ہوئے ہیں۔
یہودی اُس وقت تک اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا جب تک ہم میں سے کوئی اس کا رازدار ساتھی نہ بنے، اس کے ایجنڈے کو مسلمانوں میں ترویج نہ دے… تو پھر غلطی کس کی ہے؟
براہِ مہربانی اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ دیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ کی فوجوں میں شامل ہونا ہے، ان کو ایمان کی لَو دیں۔ اس سوچ کے ساتھ ان کی تربیت نہ کریں کہ یہ بس کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں کسی یہودی کے ملازم بن جائیں۔ یاد رکھیں کہ مرضی تو پھر ساری دنیا میں باس کی ہی چلتی ہے، ملازم کی نہیں۔
اللہ اسلام اور مسلمانوں کو غالب کرے۔ آمین

پرائیویٹ سکولز اونرز اور اساتذہ کون ہیں ؟؟؟؟



پرائیویٹ سکولز اونرز اور استاذہ جنہیں ہمیشہ میڈیا اور کچھ ارباب اختیار نے ایک مافیا بنا کر پیش کیا کون ہیں ؟؟ آئیے میں آپ کو بتاتا ہوں
پرائیویٹ سکولز کے اونرز وہ لوگ ہیں ۔۔۔۔
جنہوں نے آپ کے بچوں کو ہمیشہ مقدم رکھا ۔۔۔۔۔۔ بہترین فرنیچر، کلاس رومز، سہولیات، فیکلٹی، سکیورٹی اور سب سے بڑھ کر تعلیمی ماحول دیا ۔۔۔۔۔۔
آپ کو ضرورت پڑی تو آپ کا ساتھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 4،4 ماہ کی فیسیں ادھار کیں ۔۔۔۔۔۔ بیسیوں دفعہ والدین نے اس ادھار کا ناجائز فائدہ اٹھایا اور سکول معہ ادھار چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ پھر بھی انہوں نے ایسے والدین پر کیس کیا نہ راستہ روکا ۔۔۔۔۔۔۔
نئے سال کا کورس کمزور مالی پوزیشن رکھنے والے والدین کو ادھار دیا ۔۔۔۔۔۔ تاکہ ان کے بچوں کا حرج نہ ہوسکے ۔۔۔۔۔
ہمیشہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کی ۔۔۔۔۔۔۔
پرائیویٹ سکولز اساتذہ بلاشبہ بہت کم مراعات کے باوجود دن رات آپ کے بچوں کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ۔۔۔۔۔
ڈیلی پراگریس رپورٹس، ویکلی رپورٹس، منتھلی رپورٹس، سالانہ رپورٹس، ٹیسٹ میکنگ اور چیکنگ، پلانرز، کاپیز اور بہت کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے باوجود انتھک اور بے لوث لگن ۔۔۔۔۔
سب سے بڑھکر یہ گروپ یعنی اونرز اور ٹیچرز ہمہ وقت آپ کے بچوں کے روشن مسقبل کے لئے مصروف عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آپ کے بچوں کو لکھنا، پڑھنا، کھانا، پینا، بولنا اور آگے بڑھنا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور آج یہ سب سر جھکا کے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ انہیں ستائش ملنی چاہیئے تھی، تنقید کی گئی، حوصلہ ملنا چاہیئے تھا، حوصلہ شکنی کی گئی، تعاون ملنا چاہیئے تھا ، رکاوٹیں ڈالی گئیں مگر پھر بھی انہوں نے آپ کو بچوں کو پڑھایا ۔۔۔۔۔۔۔ سر اٹھا کے جینا سکھایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
معزز والدین ۔۔۔۔۔
اب موجودہ حالات میں آپ کا فرض ہے کہ آپ ان کا سر نہ جھکنے دیں ۔۔۔۔۔ بہت سے لوگوں کی بلڈنگز کرائے کی ہیں، ہر ماہ کی دس تاریخ کو مالک بلڈنگ کرایہ لینے آجاتا یے ۔۔۔۔۔۔ یہ اساتذہ انہیں مجبوری سنائیں تو وہ بھی انہیں مافیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔۔۔ بلڈنگز سے بے دخل کرنے کا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر ماہ کے آغاز پر سکول اساتذہ انہی لوگوں کے ہاتھوں کی طرف دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ بجلی، گیس، پٹرول، سکیورٹی گاردز اور نجانے کون کون سی پیمنٹس ان کی منتظر ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے میں یہ فرمان آتا ہے ۔۔۔۔ آپ فیسیں نہ لیں ۔۔۔۔ والدین سمجھتے ہیں کہ بچے سکول نہیں گئے تو ان کا کون سا خرچہ ہوا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ خرچے میں ایک روپے کی کمی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ الٹا جن والدین ادھار بکس لیں تھیں، 4،4 ماہ کی فیس دینی تھی وہ فون سننے کے روادار نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یاد رکھئے انہی لوگوں نے آپ کے بچوں کو سر اٹھا کے چلنا اور جینا سکھایا ہے اور سکھانا ہے ۔۔۔۔۔۔ آگے بڑھیں اور آج ان کا سر جھکنے سے بچائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت پر اپنی فیسیں ادا کرکے اپنے بچوں کے اداروں کو بند ہونے بچائیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہوں نے جو کچھ پڑھایا اور سکھایا ہے وہ اپنی تاثیر کھودے ۔۔۔۔۔!!!

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...