صلوۃ التسبیح کا طریقہ اور فضیلت




صلوۃ التسبیح کا طریقہ اور فضیلت





صلوٰۃالتسبیح چاررکعت نمازہوتی ہے۔یہ نمازرسول اللہﷺ نےاپنےچچاحضرت عباس رضی اللہ عنہ کوبطورتحفہ وعطیہ کےسکھائی تھی،اس کی فضیلت یہ ارشادفرمائی ہے کہ اس کےپڑھنےسےسارےگناہ(چھوٹےبڑے) معاف ہوجاتےہیں۔اس نماز کے کے پڑھنےکےدوطریقےہیں:

ایک طریقہ یہ ہے کہ چاررکعات صلوٰۃ التسبیح کی نیت باندھ کرپہلی رکعت میں کھڑےہوکرثناء،تعوذ،تسمیہ،سورۂفاتحہ اورکوئی سورت پڑھنےکےبعد رکوع میں جانے سے پہلے پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں"سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمدُلِلّٰہِ وَلَاإلٰہَ إلَّاإللّٰہ ُوَاللّٰہ ُأکْبَرُ"پھررکوع میں " سُبحَان َرَبِّي َالعَظِیْم"کےبعددس مرتبہ تسبیح پڑھیں،پھرقومہ میں " سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ"،"رَبَّنَالَکَ الْحَمدُ" کےبعددس مرتبہ تسبیح پڑھیں،پھرپہلےسجدہ میں " سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی "کےبعددس مرتبہ پڑھیں،پھرپہلےسجدہ سےاٹھکرجلسہ میں دسم رتبہ پھردوسرےسجدہ میں " سُبْحَان َرَبِّیَ الاَعْلٰی"کےبعددس مرتبہ تسبیح پڑھیں،پھردوسرےسجدےسےاٹھتےہوئے " اَللہ ُاَکْبَرْ  " کہہ کربیٹھ جائیں اوردس مرتبہ تسبیح پڑھیں۔پھربغیر" اَللہُ اَکْبَرْ " کہےدوسری رکعت کےلیےکھڑےہوجائیں پھراسی طرح دوسری،تیسری اورچوتھی رکعت مکمل کریں۔

دوسری اورچوتھی رکعت کےقعدہ میں پہلےدس مرتبہ تسبیح پڑھیں اورپھرالتحیات پڑھیں۔اسی ترتیب سےچاروں رکعات میں تسبیح پڑھیں،اس طرح چاررکعات میں کل تسبیحات تین سومرتبہ ہوجائیں گی۔

دوسراطریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں کھڑےہوکرثناءکےبعدپندرہ مرتبہ تسبیح پڑھیں،پھرتعوذ،تسمیہ،سورۂفاتحہ اورکوئی سورت پڑھ کررکوع میں جانےسےپہلےدس مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں،رکوع،قومہ،پہلےسجدہ،جلسہ اوردوسرےسجدےمیں دس دس مرتبہ تسبیح پڑھیں،اس کےبعد"اللہُ اَکبَر"کہتےہوئےسیدھےکھڑےہوجائیں۔

اسی ترتیب سےدوسری،تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیح پڑھیں۔دوسری رکعت میں کھڑےہوتےہی پندرہ مرتبہ تسبیح پڑھیں گے۔(سنن الترمذی،ابواب الوتر،باب ماجاءفیصلاۃالتسبیح،1/117،قدیمی)اسی ترتیب سےباقی رکعات اداکریں۔یہ دونوں طریقےصحیح اورقابلِ عمل ہیں،جوطریقہ آسان معلوم ہواس کواختیارکیاجائے۔اس نماز کا کوئی خاص وقت نہیں ،اسےمکروہ اوقات کے علاوہ  جب بھی ہوسکے پڑھ  سکتے ہیں ۔فقط واللہ اعلم


سفید پوشی اور تنگ دستی ایک جرم. سچی کہانی





(سچی کہانی) 
٣ اپریل ٢٠٢٠ کی رات ایک صاحب کی نشان دہی پر سفید پوش خاندان کو راشن دینے کے بعد جب سرجانی سے گھر واپسی کے لیے فورکے چورنگی سے گزرنے لگا تو ہر طرف سنّاٹے اور گھٹاٹوپ اندھیرے کا راج تھا ایسے اندھیرے میں ایک دھیمی سی آواز آئ "بھائ مدد" میں نے یہ سوچ کر نظر انداز کرنا چاہا کہ کوئ پیشہ ور گداگر ہوگا لیکن دل میں خیال آیاکہ پیشہ ور ہوتا تو اندھیرے میں یوں اس وقت کھڑا نہ ہوتا، گاڑی روک کر پاس گیا، دیکھا اندھیرے میں ایک شخص منہ پر ہاتھ رکھے کھڑا ہے۔
"جی بھائ! کیسی مدد چاہئیے؟ اور یوں منہ چھپائے اندھیرے میں کیوں کھڑے ہو؟ ہاتھ تو ہٹائیے۔"
میرے کہنے پر اُس نے اپنے ہاتھ چہرے سے ہٹائے۔
اللہ کی پناہ۔۔۔۔! اس شخص کے گال آنسووُں سے بھرے تھے اور  گھٹی گھٹی آواز میں رو رہا تھا، دونوں ہاتھوں کو گالوں سے ہٹا کر معافی مانگنے کے انداز میں جوڑ کر کھڑا ہوگیا اور سر نیچے جھکا لیا۔۔۔۔ میں اس اندھیرے میں بھی اس کے آنسو تھوڑی سے ٹپکتے دیکھ پا رہا تھا اندر ہی اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہونے لگا، آگے بڑھا اور دوبارہ ہمدردی سے پوچھا۔
"بھائ کچھ تو کہئیے۔۔۔۔۔"
کچھ کہنے کے بجائے وہ شخص آگے بڑھا اور گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کے رونے لگا اور کہنے لگا۔۔۔
"بھائ۔۔۔۔بھائ۔۔۔! میں بھوکا رہ لوں گا لیکن مجھ سے اپنی دو چھوٹی بچیوں کی بھوک دیکھی نہیں جاتی اُن کا بھوک سے تڑپنا، بلکنا مجھ سے برداشت نہیں ہوتا، کل سے گھر میں کھانے کو ایک دانہ نہیں اور میری بچیاں صبح سے بابا بھوک لگی ہے بابا بھوک لگی ہے بابا کھانا لاوُ کی فریاد کر رہی ہیں بھائ کبھی زندگی میں ایسا نہیں ہوا کہ میری بچیاں بھوکی سوئ ہوں روزانہ کھانے کے ساتھ بچیوں کے لیے فروٹس لاتا تھا آج بچیاں کہتی ہیں بابا بھلے ہمیں فروٹس نہ دو ہم ضد نہیں کریں گی پر کھانا تو دے دو آپ تو بابا ہماری ہر بات مانتے تھے اب ہم کھانا مانگ رہے ہیں تو کھانا کیوں نہیں دیتے؟ صاحب میں فقیر نہیں ہوں لاک ڈاوُن کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا صاحب آپ گھر چل کر دیکھ لو آٹے کا ایک ذرّہ بھی نکلے تو جو چور کی سزا۔ آپ میرا شناختی کارڈ رکھ لو، جتنے فوٹو کھینچنے ہیں کھینچ لو بس میری بچیوں کو چل کر اپنے ہاتھ سے کھانا دے دو میں اور بیوی بھوکے سوجائیں گے۔"
یہ کہہ کر وہ شخص پھوٹ پھوٹ کر دوبارہ رونے لگا۔۔ دل میں خیال آیا میں بھی بیٹی کا باپ ہوں خدا نہ کرے کبھی میری بیٹی پر ایسا وقت۔۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔ خدا کی قسم دل پھٹتا محسوس ہونے لگا۔۔۔۔ سارا جسم کانپ سا گیا۔۔۔۔ زبان جیسے بولنا بھول گئ۔۔۔ خاموشی سے اُس شخص کو گاڑی میں بٹھایا اور اپنے گھر کی جانب چل پڑا، دورانِ سفر اس نے بتایا کہ اُس کا نام صابر ہے ١٣ سال سے گھروں پر کلر کا کام کرتا ہے محنت مزدوری کر کے اپنا گزر بسر کرتا تھا لیکن لاک ڈاوُن کی وجہ سے حالات خراب ہوگئے جان پہچان والوں سے مانگنے کی ہمت نہیں پڑی۔
گھر پہنچ کر میں نے راشن کے تھیلے گاڑی میں رکھے اور صابر کے گھر کی جانب روانہ ہوگیا، گھر کیا تھا بس ایک کمرا تھا، وہی ڈرائنگ روم، وہی بیڈ روم اور وہی کچن، نہ صوفے تھے نہ بیڈ، نہ الماری تھی نہ فریج۔ بس ایک کونے میں بجھا چولہا صابر کی مفلسی کو منہ چڑا رہا تھا اور دوسرے کونے میں دو پھول سی بچیاں بھوک کی چادر تانے سو رہی تھیں۔ صابر کی بیگم نے بتایا کہ بھائ صاحب جب بچیوں کا رونا برداشت نہ ہوا تو میں نے کھانسی کا شربت پلا کر سلا دیا۔۔۔
اندر روح تک جیسے کسی نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہو۔ 
سِسکتے دل، کپکپاتے ہاتھوں اور نم آنکھوں کے ساتھ راشن کے تھیلے کمرے کے کونے میں رکھ کر ایک پیار بھری نظر بچیوں پر ڈال کر اس دعا کے ساتھ صابر کے گھر سے نکل گیا کہ اے اللّٰہ! ان بچیوں کے نصیب اچھے فرما، اپنی مخلوق پر رحم فرما، بھوکوں کی مدد فرما آمین۔۔۔۔۔۔
آپ سب بھی اپنے اپنے محلے میں ڈھونڈئیے کہ کوئ صابر آپ کی گلی میں بھی تو نہیں رہتا؟؟؟؟؟
منقول

مرد حضرات کے لئے الائچی طاقت کا خزانہ



مرد حضرات کے لئے الائچی طاقت کا خزانہ ،روز ایک الائچی کھانے سے ۔۔۔۔۔۔
 سبز الائچی منہ کو بدبو سے پاک اور سانس خوشگوار کرنے کے علاوہ چائے کو خوشبودار کرنے میں بھی استعمال ہوتی ہےسینے کی جلن کی شکایت ہو یا پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہوں، گیس بھر گئی ہو، قبض ہو یا آنتوں کی سوزش کا مرض لاحق ہو،الائچی کے بیج سے استعفادہ کیا جا سکتا ہے۔ امراض جگر اور پتے کے درد میں بھی اس سے افاقہ ہوتا ہے۔ یہ خوشبودار مسالہ بھوک بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ چھوٹی الائچی کو پانی یا چائے میں جوش دے کر  پینے سے عام نزلہ زکام، کھانسی، برونکائٹس، منہ کے چھالے گلے کی خراش اور اسی قسم کے دیگر انفیکشن سے نجات مل جاتی ہے  نظام سبز الائچی قدرتی طور پر ایک منٹ کا درجہ رکھنے کے ساتھ ساتھ نظام انہضام کو بہتر بناتی ہے. کچھ لوگ الائچی کو محرک کے طور پر اور پیشاب کے عوارض میں بھی استعمال کرتے ہیں۔ جدید تحقیقات کی روشنی میں الائچی کے جو فوائد سامنے آئے ہیں ان کے مطابق الائچی معدے اور آنتوں کے امراض سے تحفظ فراہم کرتی ہے، خون میں کولیسٹرول کی سطح مناسب رہتی ہے، جسم میں دوران خون بہتر ہوتا ہے، قلبی شریانی امراض سے تحفظ ملتا ہے۔ پیشاب کے راستے کے انفیکشنز مثلاً Cystitis, Nephritis اور سوازک جیسی اذیت ناک بیماری میں بھی چھوٹی الائچی سے فائدہ ہوتا ہے۔ اس میں قوت باہ بڑھانے کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے اور بہت سی مردانہ کمزوریاں اس سے دور ہوتی ہیں۔جن مر د حضرات کی منی پتلی ہو وہ ہر رات کو  سبز الائچی کا استعمال کر یں منی گاڑی ہوجائے گی سبز الائچی میں موجود پوٹاشیم، کیلشیم اور میگنیشیم  کے مرکبات سے بھرپور ہوتی ہے اس لئے یہ خون کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ دل کے امراض میں کمی کا باعث بنتا ہے اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔
الائچی کو چبانے سے منہ میں بننے والے لعاب میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، جو خوراک کو ہضم کرنے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ السر کی بیشتر اقسام میں بھی فائدہ مند ہے سبز الائچی کا سفوف آدھی چمچ صبح نہار منہ مسلسل استعمال کرنے سے پسینے کی بدبو کو خوشبو میں بدل دیتی ہے
۔

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...