#سپاہی مقبول حسین ، #ایک ہیرو ، پاکستان کے سچے ہیرو





‏بھارت میں 40 سال تک قید رہنے والے سپاہی مقبول حسین رہا ہوئے تو سیدھے اپنی یونٹ میں پہنچے۔ تشدد کے باعث بولنے کی صلاحیت کھو چکے تھے۔ یونٹ کمانڈر کو لکھ کر کہا کہ سپاہی مقبول حسین ڈیوٹی پر حاضر ہے۔  اللہ درجات بلند فرمائے۔ آمین

انا للہ و انا الیہ راجعون،



پورا پڑھیں اور شئیر کریں۔

17ستمبر 2005 ء کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام نے قیدیوں کا ایک گروپ پاکستانی حکام کے حوالے کیا-اس گروپ میں مختلف نوعیت کے قیدی تھے-ان کے ہاتھوں میں گٹھڑیوں کی شکل میں کچھ سامان تھا جو شاید ان کے کپڑے وغیرہ تھے-لیکن اس گروپ میں ساٹھ پینسٹھ سالہ ایک ایسا پاکستانی بھی شامل تھا-جس کے ہاتھوں میں کوئی گٹھڑی نہ تھی-
جسم پر ہڈیوں اور ان ہڈیوں کے ساتھ چمٹی ہوئی اس کی کھال کے علاوہ گوشت کا کوئی نام نہیں تھا-اور جسم اس طرح مڑا ہوا تھا جیسے پتنگ کی اوپر والی کان مڑی ہوتی ہے-خودرو جھاڑیوں کی طرح سرکے بے ترتیب بال جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ طویل عرصے تک ان بالوں نے تیل یا کنگھی کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی-اور دکھ کی بات کہ پاکستان داخل ہونے والے اس قیدی کی زبان بھی کٹی ہوئی تھی لیکن ان سارے مصائب کے باوجود اس قیدی میں ایک چیز بڑی مختلف تھی اور وہ تھیں اس کی آنکھیں جن میں ایک عجیب سی چمک تھی-پاکستانی حکام کی طرف سے ابتدائی کارروائی کے بعد ان سارے قیدیوں کو فارغ کردیا گیا-سارے قیدی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے-لیکن یہ بوڑھا قیدی اپنے گھر جانے کی بجائے ایک عجیب منزل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا-کانپتے اور ناتواں ہاتھوں سے وہ ٹوٹے ہوئے الفاظ لکھ لکھ کر اپنی منزل کا پتہ پوچھتا رہا اور ہر کوئی اسے ایک غریب سائل سمجھ کر اس کی رہنمائی کرتا رہا-اور یوں 2005 ء میں یہ بوڑھا شخص پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ تک پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ایک عجیب دعوی- کردیا-اس دعوے کے پیش نظر اس شخص کو رجمنٹ کمانڈر کے سامنے پیش کردیا-کمانڈر کے سامنے پیش ہوتے ہی نہ جانے اس بوڑھے ناتواں شخص میں کہاں سے اتنی طاقت آگئی کہ اس نے ایک نوجوان فوجی کی طرح کمانڈر کو سلیوٹ کیا اور ایک کاغذ پر ٹوٹے ہوئے الفاظ میں لکھا
”سپاہی مقبول حسین نمبر 335139 ڈیوٹی پر آگیا ہے اور اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہے“کمانڈر کو کٹی ہوئی زبان کے اس لاغر ، ناتواں اور بدحواس شخص کے اس دعوے نے چکرا کے رکھ دیا-کمانڈر کبھی اس تحریر کو دیکھتا اور کبھی اس بوڑھے شخص کو جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک نوجوان فوجی کی طرح بھرپور سلیوٹ کیا تھا-کمانڈر کے حکم پر قیدی کے لکھے ہوئے نام اور نمبر کی مدد سے جب فوجی ریکارڈ کی پرانی فائلوں کی گرد جھاڑی گئی اور اس شخص کے رشتہ داروں کو ڈھونڈ کے لایا گیا تو ایک دل ہلا دینے والی داستان سامنے آئی -اور یہ داستان جاننے کے بعد اب پھولوں، فیتوں اور سٹارز والے اس لاغر شخص کو سلیوٹ مار رہے تھے-اس شخص کا نام سپاہی مقبول حسین تھا-65 ء کی جنگ میں سپاہی مقبول حسین کیپٹن شیر کی قیادت میں دشمن کے علاقے میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو تباہ کرکے واپس آرہا تھا کہ دشمن سے جھڑپ ہو گئی-سپاہی مقبول حسین جو اپنی پشت پر وائرلیس سیٹ اٹھائے اپنے افسران کے لئے پیغام رسانی کے فرائض کے ساتھ ہاتھ میں اٹھائی گن سے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہا تھا مقابلے میں زخمی ہو گیا-سپاہی اسے اٹھا کر واپس لانے لگے تو سپاہی مقبول حسین نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ بجائے میں زخمی حالت میں آپ کا بوجھ بنوں، میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کیلئے محفوظ راستہ مہیا کرتا ہوں-ساتھیوں کا اصرار دیکھ کر مقبول حسین نے ایک چال چلی اور خود کو چھوٹی کھائی میں گرا کر اپنے ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل کرلیا- دوست تلاش کے بعد واپس لوٹ گئے تو اس نے ایک مرتبہ پھر دشمن کے فوجیوں کو آڑے ہاتھوں لیا- اسی دوران دشمن کے ایک گولے نے سپاہی مقبول حسین کو شدید زخمی کردیا- وہ بے ہوش ہو کر گرپڑا اور دشمن نے اسے گرفتار کرلیا- جنگ کے بادل چھٹے تو دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا تو بھارت نے کہیں بھی سپاہی مقبول حسین کا ذکرنہ کیا-اس لئے ہماری فوج نے بھی سپاہی مقبول حسین کو شہید تصورکرلیا-بہادر شہیدوں کی بنائی گئی ایک یادگار پر اس کا نام بھی کندہ کردیا گیا-ادھربھارتی فوج خوبصورت اور کڑیل جسم کے مالک سپاہی مقبول حسین کی زبان کھلوانے کیلئے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑنے لگی-اسے 4X4فٹ کے ایک پنجرا نما کوٹھڑی میں قید کردیا گیا- جہاں وہ نہ بیٹھ سکتا تھا نہ لیٹ سکتا تھا-دشمن انسان سوز مظالم کے باوجود اس سے کچھ اگلوانہ سکا تھا-سپاہی مقبول حسین کی بہادری اور ثابت قدمی نے بھارتی فوجی افسران کو پاگل کردیا-جب انہوں نے دیکھا کہ مقبول حسین کوئی راز نہیں بتاتا تو وہ اپنی تسکین کیلئے مقبول حسین کو تشدد کا نشانہ بنا کر کہتے ”کہو پاکستان مردہ باد“ اور سپاہی مقبول حسین اپنی ساری توانائی اکٹھی کرکے نعرہ مارتا پاکستان زندہ باد، جو بھارتی فوجیوں کو جھلا کے رکھ دیتا-وہ چلانے لگتے اور سپاہی مقبول کو پاگل پاگل کہنا شروع کردیتے اور کہتے کہ یہ پاکستانی فوجی پاگل اپنی جان کا دشمن ہے اورسپاہی مقبول حسین کہتا ہاں میں پاگل ہوں---ہاں میں پاگل ہوں--- 

- اپنے ملک کے ایک ایک ایک ذرّے کے لئے---ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کے کونے کونے کے دفاع کیلئے--- ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کی عزت و وقار کے لئے--- سپاہی مقبول حسین کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ دشمنوں کے ذہنوں پر ہتھوڑوں کی طرح لگتے- آخر انہوں نے اس زبان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا انہوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی اور اسے پھر 4x4 کی اندھیری کوٹھڑی میں ڈال کر مقفل کردیا-سپاہی مقبول حسین نے 1965ء سے لیکر 2005ء تک اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال اس کوٹھڑی میں گزار دیئے اب وہ کٹی زبان سے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تو نہیں لگا سکتا تھا لیکن اپنے جسم پر لباس کے نام پر پہنے چیتھڑوں کی مدد سے 4x4 فٹ کوٹھڑی کی دیوار کے ایک حصے کو صاف کرتا اور ا پنے جسم سے رستے ہوئے خون کی مدد سے وہاں پاکستان زندہ باد لکھ دیتا-یوں سپاہی مقبول حسین اپنی زندگی کے بہترین دن اپنے وطن کی محبت کے پاگل پن میں گزارتا رہا- آئیں ہم مل کر آج ایسے سارے پاگلوں کو سلیوٹ کرتے ہیں....🇵🇰

یہ ہیں پاکستان کے سچے ہیرو یہ ہیں پاکستان کا اصل چہرہ ....یہ ہے پاکستان...

چھوٹا دھماکہ، بڑا دھماکہ* کرونا وائرس اصل میں وہ چھوٹا دھماکہ ہے،

*

چھوٹا دھماکہ، بڑا دھماکہ*

کرونا وائرس اصل میں وہ چھوٹا دھماکہ ہے، جسکے بعد ایک بڑا
 ۔۔۔ بلکہ آخری دھماکہ ہوگا _ اصل میں اس وائرس کے زریعے، تمام دنیا میں اسکی ویکسین لگوانا لازمی قرار دے دیا جائے گا _ آپ بغیر ویکسین لگوائے اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیے ہوئے، نہ ہوائی سفر کرسکیں گے، نہ حج و عمرہ، نہ زیارتوں کو جا سکیں گے ، یہاں تک کہ نکاح نامہ یعنی شادی بھی نہ ہوسکے گی _ بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا _ اس کام میں پہلے سے شامل بل گیٹس جیسے مخیر حضرات دل کھول کر غریب ممالک کی امداد کریں گے _
اب آپکی شاید سمجھ میں یہ بھی آ جائے ، کہ ایک کمپیوٹر سافٹویئر کی صلاحیت رکھنے والے دنیا کا امیر ترین شخص، اپنا کام چھوڑ کر ویکسین کی فیلڈ میں کیوں گھس گیا تھا
اس کام میں پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے _ مگر اسکے بعد تمام لوگوں کی رگوں میں یہ ویکسین دوڑ رہی ہوگی، یوں سمجھیں کہ ایک سرکاری وائرس دوڑ رہا ہوگا ، جسے کبھی بھی، کسی بھی طرح سے متحرک کیا جاسکے گا _ کبھی بھی کہیں بھی کوئی وبا پھیلائی جاسکے گی، اور کم خرچ اور بالا نشین انداز سے ایسا حملہ کیا جاسکے گا، کہ جس میں نہ ہتھیار استعمال ہونگے ، نہ املاک کو نقصان پہنچے گا _
اسی دوران دشمن کو ویکسین بیچ کر اور قرضہ دے کر مزید اپنے جال میں پھنسایا جا سکے گا _ تو بھائیوں، کرونا یا کووڈ-19, کا کام صرف آپکو ویکسین لگوانے کے لیے تیار کرنا ہے _ اصل دھماکہ اس کے بعد ہوگا _ اللہ ہم سب کو دجال کی چالوں اور فتنہ سے محفوظ رکھے _
*ایک* *نئی* *تھیوری* ...: کرونا وائرس، 5G اور ایجنڈہ نینو چپ ۔ ۔ ۔ ۔ !
اکانومسٹ میگزین اپریل 2020 شمارے میں 5 خفیہ پلانز کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس تحریر میں پانچوں یہودی پلانز کو ڈی کوڈ کیا جائے گا۔
نمبر 1 : *Everything* *is* *Under* *Control*
اس کے معنی ہیں
"ہر چیز طے شدہ منصوبے کے مطابق ہمارے کنٹرول میں ہے"۔
ایک طرف پوری دنیا کرونا سے ڈر کر گھروں میں بیٹھی ہوئی ہے، حکومتیں سکڑ کر دارالحکومتوں تک محدود ہو گئیں،
عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے، کئی ممالک کو اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے خطرے کا سامنا ہے
لیکن آپ دیکھیں وہیں یہودی میگزین فخریہ کہتا ہے کہ Everything is Under Control.
یہ بات عقلمندوں کے کان کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے۔
کرونا وائرس کے ذریعے جس جال کو بچھایا گیا ہے وہ بالکل توقعات کے عین مطابق پورا ہو رہا ہے
تبھی تو یہودی میگیزین فخریہ کہتا ہے کہ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ان کے کنٹرول میں ہے۔
نمبر 2 : *Big* *Government*
اس سے مراد عالمی حکومت ہے۔
اس بڑی حکومت کو یہودی دانا بزرگوں کی خفیہ دستاویزات
دی الیومیناٹی پروٹوکولز میں
"سپر گورنمنٹ" کے نام سے بار بار بیان کیا گیا ہے۔
جن کے مطابق پوری دنیا کی ایک ہی "عالمی سپر گورنمنٹ" بنائی جائے گی
جس کا حکمران فرعون و نمرود کی طرح پوری دنیا پر اپنے مسیحا کے ذریعے حکمرانی کرے گا
یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھوں گا کہ ان کی عالمی حکومت بن چکی ہے۔
یہ اقوام متحدہ ہے۔
صرف اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ان کا منصوبہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی بھی وقت دنیا میں کرائسز پیدا کرکے (جیسے اس وقت ہیں) اقوام متحدہ کو ایک عالمی سپر حکومت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کے جو بھی ادارے ہوں گے انہیں وزارتوں میں تبدیل کرکے اسے عالمی سپر گورنمنٹ قرار دے دیا جائے گا اور اس حکومت کی باگ دوڑ یہودی النسل ایسے شخص کے ہاتھ دی جائے گی
جو دجال کے لیے ہیکل سلیمانی تعمیر کرے گا اور یہودیوں کو چھوڑ کر باقی پوری دنیا کی اقوام کو اپنا غلام بنا لے گا۔
اب موجودہ دور میں آ جائیں،
برطانوی وزیراعظم سے لیکر بہت سے عالمی رہنماؤں نے اب کھل کر کہنا شروع کر دیا ہے کہ
ایک عالمی حکومت بننی چاہیے۔ یہ سب اسی عالمی سپر گورنمنٹ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
اب اگر اقوام متحدہ کا کوئی ایسا حکمران بن جائے جو ویکسین دینے کا اعلان کر دے
تو دنیا کا کون سا ملک ہو گا جو اس کی حکمرانی تسلیم نہ کرے گا ؟؟
نمبر 3 : *Liberty*
لبرٹی کا مطلب ہے "آزادی"۔
یہاں آزادی سے مراد دنیا کو جو آزادی حاصل ہے اس کا کنٹرول اس "خفیہ ہاتھ" کے پاس ہے
جو اکانومسٹ نے بطور علامت اپنے کور فوٹو پر نمایاں کیا ہے۔
یہ وہ "خفیہ ہاتھ" ہے جو پردے میں رہ کر پوری دنیا کو چلاتا ہے۔
آپ اس ہاتھ کو یہودیوں کے 13 خفیہ خاندان سمجھیں
جو پوری دنیا کی معیشت، زراعت، میڈیا، حکومت الغرض ہر چیز کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں، ورلڈ بینک ہو یا آئی ایم ایف یہ تمام ادارے ان کے فنڈز سے چلتے ہیں،
اقوام متحدہ کا خرچہ پانی یہی دیتے ہیں، اقوام متحدہ کے تمام بڑے اداروں کے سربراہاں ان کے اپنے لوگ اور یہودی النسل ہیں۔
نمبر 4 : *وائرس*
یعنی کہ "کرونا وائرس" کا کنٹرول بھی اسی "خفیہ ہاتھ" کے پاس ہے۔ جب پوری دنیا وائرس کے خوف سے کانپ رہی ہے
تو یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ وائرس ان کے قابو میں ہے؟
اسرائیلی وزیر دفاع خود کہتے ہیں کہ ہمیں وائرس سے کوئی پریشانی نہیں ہے.
کیونکہ جب 70 فیصد آبادی کو کرونا متاثر کر لے گا تو پھر ازخود ختم ہو جائے گا۔
یعنی وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ اتنے فیصد آبادی متاثر ہو گی لیکن ساتھ ہی کسی قسم کی انہیں پریشانی بھی نہیں ہے،
یہ اس بات کی علامت ہے کہ پردے کے پیچھے وہ بہت کچھ جانتے ہیں جب ہی تو بالکل مطمئن ہیں،
اسی لیے نہ لاک ڈاؤن کرتے ہیں نہ ہی انہیں کوئی پریشانی ہے بلکہ اعلانیہ کہتے ہیں کہ وائرس ان کے قابو میں ہے۔
نمبر 5 : *The* *Year* *Without* *winter*
اس کو اگر ڈی کوڈ کریں تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس سال دنیا کو موسم سرما گھروں میں قید رہ کر گزارنا پڑ سکتا ہے۔
یاد رہے اس وقت سال کا چوتھا مہینہ اپریل چل رہا ہے
لیکن انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ اس سال موسم سرما نہیں ہو گا
یعنی دنیا موسم سرما کے مزے اس سال نہیں لے سکے گی ۔
یہاں یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ کرونا وائرس پر بنی فلم Contagion میں بھی ایک ڈائلاگ بالکل ایسا ہی سننے کو ملتا ہے۔
ایک لڑکی ویکسین کی عدم دستیابی پر اکتاتے ہوئی کہتی ہے کہ یعنی اس سال میرا موسم سرما برباد ہو جائے گا
کیونکہ مجھے گھر میں قید رہ کر گزارنا ہو گا۔
اکانومسٹ میگزین، کانٹیجئین فلم اور موجودہ صورتحال کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔
اسکے علاوہ ۔ ۔ ۔۔
کچھ اور عوامل بھی ہیں جنہیں ابھی تک اکانومسٹ میگزین نے نمایاں نہیں کیا۔
شاید اگلے مہینے کے شمارے میں ظاہر کر دیں۔ میں آپ کو پہلے ہی آگاہ کر دیتا ہوں۔
*پہلا* *پروجیکٹ* *5G* *ہے* :
سب سے پہلے 5G انسٹالیشن ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران دنیا کے بیشتر ممالک میں چپکے سے کی جا رہی ہے۔
عالمی میڈیا کو اس کی رپورٹنگ سے روکا گیا ہے۔ میڈیا پر آپکو 5G کے متعلق کوئی خبر نہیں ملے گی۔
لندن میں مکمل لاک ڈاؤن ہے لیکن وہاں 5 جی انسٹالیشن کا عملہ پھر بھی دن رات پولز پر ٹاورز نصب کرنے میں مصروف ہے۔
پاکستان میں ٹیلی نار اور زونگ کمپنیوں نے اشتہارات کے ذریعے 5جی کی پروموش شروع کر دی ہے۔
آخر یہ 5G کیا بلا ہے؟
یہ دراصل انٹرنیٹ اسپیڈ کی تیز ترین رفتار ہے
جو اگر کسی علاقے میں لگا دی (انسٹال) کر دی جائے تو اس پورے علاقے کو ایک "سپر کمپیوٹر" کے ذریعے ہر وقت وڈیو پر دیکھا جا سکے گا،
علاقے کا کوئی فرد ایسا نہیں بچے گا جس کی جاسوسی ممکن نہ ہو۔
موبائل سے لیکر ٹی وی. ایل سی ڈی یا ایل ای ڈی ، فرج، آٹو پارٹس اور گھر کی تمام اشیاء میں نصب چھوٹے خفیہ کمیروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے ہر فرد کی جاسوسی ممکن ہو جائے گی۔
ملٹری سطح پر یہ کام پہلے ہی دنیا کی بڑی افواج کرتی رہی ہیں
لیکن عوامی سطح پر اسے لانے کا بہت زیادہ سائنسی نقصان بھی ہے
کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی شعائیں انسانی دماغ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں،
ماہرین کے مطابق 5G سگنلز میں رہنے والا انسان ایسا ہو گا جیسے اسکا دماغ مائیکرو ویو اوون میں پڑا ہوا ہو۔
یہ انسان کو مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار کر دے گی
لیکن خفیہ ہاتھ کو اس کی پرواہ نہیں کہ انسانوں کے دماغ پر کیا بیتتی ہے،
انہیں صرف پوری دنیا کو ڈجیٹلائیز کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے لاکھوں انسانوں کو مارنا پڑا تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
دوسرا پروجیکٹ *Nano* *Chip* بذریعہ ویکسین :
حال ہی میں ایک آرٹیکل پڑھا جس میں بل گیٹس نے 1 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔
یہ اعلان پوری دنیا کو ڈجیٹلائیز کرنے کے متعلق تھا۔ سوال یہ ہے کہ پوری دنیا کو ڈجیٹلائز کیسے کیا جائے گا؟
اسکا جواب ہے 5G اور Nano chip سے۔
دیکھیں 5G کے ٹاورز بظاہر تو آپ کو انٹرنیٹ کی تیز سپیڈ دینے کے لئے ہوں گے
لیکن ان کا اصل خفیہ مقصد انسانوں میں لگی نینو چپ
(بہت زیادہ چھوٹی چپ)
میں جمع ہونے والا ڈیٹا
(یعنی آپ کی دماغی سوچ) کسی خفیہ جگہ جمع کرنا ہو گا۔
وہ "خفیہ ہاتھ"جسے آپ اکانومسٹ میگزین پر دیکھ سکتے ہیں پوری دنیا کے انسانوں کے دماغوں میں پیدا ہونے والی سوچ کو کسی نامعلوم جگہ پر اپنے "سپر کمپیوٹر" کے ذریعے دیکھے گا۔
میں وثوق سے کہہ دیتا ہوں
وہ یہودیوں کا مسیحا ہو گا جو "اقوام متحدہ کی سپر گورنمنٹ" سنبھالتے ہی ان ٹیکنالوجیز سے انسانوں کے دماغ بھی پڑھ لے گا
بلکہ کسی کے بولنے سے پہلے اس کے خیالات بھی جان لے گا۔
بالکل ایسی ہی ایک حدیث بھی ملتی ہے کہ دجال ایک جگہ سے گزرے گا جہاں کسی شخص کے والدین فوت ہو گئے ہوں گے،
وہ شخص سوچ رہا ہو گا کہ کاش میرے والدین دوبارہ زندہ ہو جائیں،
دجال اس کی یہ سوچ اور خواہش پہچان لے گا اور اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کے پاس جا کر اسے کہے گا کہ اگر میں تمہارے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تم مجھے خدا مان لو گے۔
وہ شخص بولے گا ہاں کیوں نہیں،
پھر دجال اپنے شیاطین کو حکم دے گا وہ اس شخص کے والدین کے مردہ اجسام میں داخل ہو کر زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے اور اس شخص کو کہیں گے کہ بیٹا یہ (دجال) تمہارا رب ہے اس کی بات مان لو، اس کی اطاعت کرو۔
یہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دجال اور اس کی قوتوں کو شیاطین کی مدد حاصل ہو جائے گی۔
یعنی وہ کسی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے جس سے دنیا میں موجود غیر مرئی مخلوق یعنی "جنات" سے ان کا رابطہ ممکن ہو جائے گا اور اسی کی مدد سے دجال شیطانوں سے مدد لے گا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اللہ روئے زمین کے تمام شیاطین کو دجال کے تابع کر دے گا
(تاکہ اس فتنہ عظیم سے دنیا کے آخری بہترین مسلمانوں کی آزمائش کرے)۔
اب اس سارے منظرعام کو اگر مختصر بیان کیا جائے تو یہ کچھ ایسا ہو گا کہ؛
"خفیہ ہاتھ" کامیاب ہو رہا ہے، ہر چیز طے شدہ منصوبے کے مطابق ان کے کنٹرول میں ہے۔
کرونا وائرس سے دنیا کو لاک ڈاؤن کروا کے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو رہے ہیں،
ساتھ ہی انہوں نے چپکے سے 5G انسٹالیشن شروع کر دی ہے
اور بل گیٹس نے نینو چپس کی شروعات کے لئے اقوام متحدہ سے 1 بلین ڈالر کا معاہدہ بھی کر لیا ہے ،
اس معاہدے میں ویکسین بنے گی اور اسی ویکسین کے اندر اتنی چھوٹی نینو چپ ہو گی کہ جو انسان کو خوردبین سے ہی نظر آ سکتی ہے،
وہ دنیا کے ہر انسان کو دی جائے گی۔ *Contagion* فلم میں جو ویکسین سب کو دی جاتی ہے وہ ناک میں ڈالی جاتی ہے اور ساتھ ہی ایک ڈجیٹل کڑا ہاتھ میں پہنا دیا جاتا ہے
جس سے ان کو کسی "خفیہ جگہ" سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔
اب مجھے پورا یقین ہے
بل گیٹس بھی اقوام متحدہ کو چلانے والے "خفیہ ہاتھ" کے ساتھ مل کر ایسی ہی ویکسین بنائے گا جو ناک یا منہ میں ڈالی جائے گی اور اسی کے ذریعے نینو چپ بھی ہر انسان کے جسم میں داخل کی جائے گی۔
چونکہ چپ انتہائی چھوٹی ہے اور کسی بھی ویکسین کے ذریعے جسم میں ڈالی جا سکتی ہے
لہذا کسی انسان کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ وہ چپ زدہ ہو چکا ہے۔
دجال کو دنیا میں خوش آمدید کہنے کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جو پہلے سے اس فتنے سے آگاہ ہوں گے وہی اس سے بچ پائیں گے ۔
جو لاعلم ہوں گے وہ پھنس جائیں گے، بہک جائیں گے، گمراہ ہو جائیں گے،
سیلابی پانی میں تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔
خواتین و حضرات سے درخواست ہے کہ اس دجال کے فتنے کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی بھر پور کوشش کریں
اور اس فتنے سے بچنے کے لئے دین اسلام میں جو راہنمائی دی گئی ہے اسے اپنی زندگیوں میں فوری طور پر اختیار کریں
تاکہ کہیں بے خبری میں اپنی دنیا و آخرت اپنے ہاتھوں سے برباد نہ کر لیں
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورہ الکہف کی پہلی دس آیات کی روزانہ تلاوت کریں اور دجال کے فتنے سے بچنے کی مسنون دعائیں یاد کر کے اپنے معمول کے اذکار میں
شامل فرمائیں
اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کرنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین ثم آمین

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...