سیاحوں کی خاطر جان دینے والا "واجد عباسی"


سیاحوں کی خاطر جان دینے والا "واجد عباسی"



























سیاحوں کی خاطر جان دینے والا "واجد عباسی"
اہالیانِ مری و گلیات کی تابندہ روایات میں مہمانوں کو عزت و اکرام سے نوازا جاتا ہے اور یہ کوئی زبانی کلامی باتیں نہیں بلکہ یہ تاریخ واجد عباسی جیسے ہیروں کی زندگیوں سے مزین ہے جسے جُھٹلانا قرین ناانصافی ہو گی.
واجد عباسی مرحوم ، مری کے آبائی گاؤں چٹہ موڑ - دھار جاوا کے باسی تھے۔ انکی قبر آج بھی انکی قربانی کی داستان سناتی ہے۔ انکا خاندان ان کی یاد میں آج بھی آنسو تو بہاتا ہے لیکن ساتھ ساتھ ان کی موت کو باعثِ فخر بھی سمجھتا ہے۔
2014 کے اوائل میں ایک نوبیاہتا جوڑا مری پہنچتا ہے جو اپنی نئی زندگی کی شروعات خوبصورت ہنی مون سے کرنا چاہتا تھا۔ پنجاب سے آئے ہوئے اس جوڑے نے مری کے ایک ہوٹل میں دو دن قیام کیا اور پھر انہوں نے مری سے ملحق ایوبیہ نتھیاگلی گلیات کے خوبصورت علاقوں کی سیر کا اعادہ کیا، اسی سلسلے میں قدرت نے ان کا رابطہ واجد عباسی سے کروایا جو کیب چلاتے تھے اور سیّاحوں کو مری کے خوبصورت مقامات گھماتے تھے۔ اگلی صبح طے شدہ وقت کے مطابق نوبیاہتا جوڑا ایوبیہ کیلیے روانہ ہو چکا تھا۔
یہ ہنستا مسکراتا جوڑا، خوشگوار زندگی کی پہلی سیڑھی پر براجمان تھا۔ خاتون سنہری زیور کے ساتھ لدی ہوئی تو تھی بلکہ دونوں میاں بیوی عمدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے جو اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ ایک خوشحال گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں مگر ان کی خوشیوں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی۔
ایوبیہ گھومتے ہوئے ایک ڈاکووں کے گروہ نے اس جوڑے کا تعاقب اس وقت شروع کر دیا جب ان کو لگا کہ خاتون کے بھاری اور قیمتی زیور ہے۔ انہوں نے واپسی پر جنگل میں گاڑی روکنے کا منصوبہ بنایا کیونکہ ہجوم میں انکے لئیے یہ کام مشکل تھا۔ میاں بیوی شام کو واپسی کی نیت سے گاڑی کی طرف بڑھے تو ڈرائیور واجد عباسی انکا گاڑی میں انتظار کر رہے تھے۔
گاڑی واپس مری کی طرف چل پڑی تھی تھوڑی ہی دور جا کر "کُوزہ گلی " کے مقام سے ذرا پیشتر ایک نامعلوم جیپ نے واجد عباسی کا راستہ روکنا چاہا اور گاڑی کو ایک طرف روک لیا۔ اسلحے سے لیس ان افراد نے واجد عباسی کو بھاگ جانے کا کہا اور شادی شدہ جوڑے کو سب کچھ انکے حوالے کرنے کا کہا، ان ڈاکووں نے منہ چھپا رکھا تھا اور پہچاننا مشکل تھا۔
واجد عباسی نے جان بچانے ، بھاگ جانے سے زیادہ سیّاح مہمان جوڑے کی حفاظت کو مقدم جانا اور جانے سے انکار کر دیا۔ طویل تکرار کے بعد واجد عباسی نے آگے بڑھ کر واپس نکلنے کی کوشش کی لیکن ان ڈاکووں نے رستہ روکنے کیلیے آگے بڑھے اور اسی کشمکمش میں ڈاکوؤں نے فائر کھول دیے اور چار گولیاں واجد عباسی کے پیٹ میں اتار دی۔ فائر کرنے کے بعد ڈاکوؤں نے زخمی حالت میں گاڑی چلانے والے واجد عباسی کا پیچھا کیا لیکن کُوزہ گلی بازار سے پہلے انہوں نے محاسبہ ختم کر دیا اور فرار ہو گئے۔
واجد عباسی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے کوزہ گلی کے مقام پر بے ہوش ہو گئے. اگلے دن واجد عباسی ہسپتال منتقل ہو چکے تھے۔
وقت گزرتا گیا واجد عباسی ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئے مگر یہ حادثہ اور گہرے زخم انکی زندگی کو دیمک کی طرح کھاتت جا رہے تھے اور ٹھیک تین مہینے بعد سخت علالت میں 29 اپریل 2014 کی شام پانچ بجے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
حضور والیٰ! یہ پچھلی صدی کی باتیں نہیں ہیں کہ ان پر زمانوں کی گرد جم گئی ہو گی۔ یہ اسی صدی کے عظیم لوگ ہیں جنہوں نے داستانیں رقم کی ہیں اور یہی روایات اور جذبات کوہسار میں بسنے والوں کی پہچان ہیں جنہیں ملک کے مختلف گوشوں سے صرف مُٹھی بھر چند لوگوں کی وجہ سے گالی دی جاتی ہے۔



No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...