LOVE OF MY MOTHER

مجھے ہمیشہ اپنی امی سے یہ شکایت رہی کہ وہ مجھ سے زیادہ بھائی سے پیار کرتیں ہیں امی کے ساتھ سونے کی بات آئی تو دونوں کی ضد میں جیت بھائی کی ہوئی.
کھانا کھلانے کی باری آتی تو پھر سے وہی ضد، اور جیت پھر بھائی کی.
تب میں ناراض ہوتی تو اماں مجھے ہمیشہ یہی کہتی تھیں "بیٹیاں ضد نہیں کرتی ہوتی وہ بات مانتی اچھی لگتی ہیں۔" اس وقت میں سوچتی تھی کبھی اچھی بیٹی نہیں بنوں گی، بات نہیں مانوں گی، بہت ضد اور بد تمیزی کروں گی. اور ایسا ہی ہوا میں وقت کے ساتھ بہت خود سر، ضدی، ڈھیٹ ہو گئی تھی کسی کی نہیں سنتی. اماں میرے لیے بہت پریشان ہوتیں اور کہتیں تھیں۔ "اس لڑکی میں پارہ بھرا ہے نچلا بیٹھنا اسے آتا ہی نہیں۔ پتا نہیں زندگی میں کیسے چلے گی"
وہ گھر میں لڑکیوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتیں تھیں میں ان سے کہتی اپ کیوں پڑھاتی ہیں؟ یہ لوگ اپنی اماں کے پاس کیوں نہیں پڑھتیں؟
تو کہتیں
"میں ان کو پڑھاتی ہوں یہ میرے لیے صدقہ جاریہ بن جائیں گی"
میں نے کبھی نہیں سوچا کہ صدقہ جاریہ کیا ہوتا ہے؟
مسجد سے کسی کے فوت ہو جانے کا اعلان سنتیں تو فورا کام چھوڑ چھاڑ قرآن پاک لے کر بیٹھ جاتیں میں پوچھتی
آپکو کیا پتہ کون فوت ہوا ہے؟ اور فوت ہونے والے کو کیا پتہ آپ کون ہیں؟
تو کہتیں
" الله کو تو پتہ ہے نہ پھر جب میں کسی کو ایصال ثواب کروں گی تو ہی تو کوئی مجھے بھی کرے گا"
مجھے انکی باتوں کی کبھی سمجھ نہیں آئی انہوں نے کبھی اپنے حق میں کچھ نہیں بولا. میں انسے کہتی تھی جواب کیوں نہیں دیتیں آپ لوگوں کو؟
اور وہ بہت تحمل سے کہتیں
"جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے"
تب میں بس یہ سوچتی رہتی کہ "ارے اماں بھی جاہل ہیں بھلا خاموشی میں جواب کہاں ہوتا ہے"
یہ انکا معمول رہا ہر مہینہ کے شروع میں چاول بنا کر محلے کے بچوں کو کھلاتیں تھیں اس پر بھی میرا انسے جھگڑا ہوتا تھا کہ اتنے بچوں کو گھر بولا لیتیں ہیں ہنگامہ مچ جاتا ہے انکے گھروں میں بھجوا دیا کریں نہ.
تو بہت پیار سے کہتیں
"یہ گناہوں سے پاک ہوتے ہیں الله کے باغ کے پھول، اس لیے انہیں کھلاتی ہوں"
وہ ایسی ہی تھیں کبھی کسی سے شکایت نہیں کی، ہر تکلیف خاموشی اور صبر سے برداشت کر لیتیں تھیں۔
اور پھر وہ بیمار ہو گیں معلوم پڑا انھیں کینسر ہے لاسٹ اسٹیج۔ اماں بہت کمزور ہو گئیں تھیں انکو کھلانا، پلانا، پٹی کرنا، کپڑے بدلنا سب کام کر کے جب ایک دن فارغ ہوئی تو انکو دیکھا انکی آنکھوں میں آنسو تھے۔
میں نے پوچھا کیا ہوا؟
تو کہتی ہیں
"شکر ادا کر رہی ہوں رب کا۔ کہ بیٹی دی نہ ہوتی تو کون سمبھالتا مجھے"
مجھے لگا میری ساری بچپن کی شکایتیں ختم ہو گئی ہوں اماں کو محبت تھی مجھ سے.
یہ محبت ہی تو تھی کہ رات بھائی کو لے کر سوتی تھیں پر صبح وہ میرے پاس سے اٹھتین
یہ بھی تو محبت ہی تھی نہ کہ بھائی کو پہلے کھانا کھلانے کے بعد وہ پلیٹ اٹھاے میرے پیچھے پیچھے پھرتیں، نخرے اٹھاتیں میرے.
جب ابا کہتے
"رابی سے کام کروا لیا کرو تھک جاتی ہو اب تم"
تو کہتیں
" نہیں میری بیٹی کے ہاتھ خراب ہو جایں گے"
یہ بھی تو محبت ہی تھی نہ.
اور پھر وہ چلی گئیں ہمیشہ کے لیے.
انہیں سب سے زیادہ میری فکر تھی کہتیں تھیں
"مجھے نچلا بیٹھنا نہیں آتا میں پتہ نہیں کیسے چلوں گی لوگوں کے ساتھ"
وہ سہی کہتیں تھیں پر
"اب وہ پارہ ختم،اب میں ہر کسی کی سن لیتی ہوں،نچلا بیٹھنا سیکھ لیا ہے میں نے اب میں لوگوں کو جواب نہیں دیتی سمجھ گئی خاموشی بہترین جواب ہے"
آپکے جانے کے بعد کوئی تبدیلی نہیں آئی مجھ میں. میں جیسے پہلے ہنستی تھی اب بھی ویسے ہی ہنستی ہوں. بس اتنا ہوا ہے "پہلے میں ہنستی تھی کیوں کے میں خوش تھی۔
اب میں ہنستی ہوں کہ لوگ سمجھیں میں کتنی خوش ہوں"
"پہلے میں روتی تھی آپ مجھے اپنی گود میں لے لیتیں تھیں
اب میں روتی ہوں تو میں تکیہ میں منہ چھپاتی ہوں"
"پہلے جب اسکول سے گھر آتی تھی آپ
مجھے دروازے پے ملتی تھیں،اب دروازہ بند ملتا ہے، پہلے آپ پانی کھانا دیتیں تھیں۔اب میں خود بناتی ہوں، اب آپ کی بیٹی کے ہاتھ بھی خراب نہیں ہوتے، اب سردی میں کپڑے دھو کے نکلنے پر کوئی میرے لیے چاۓ بنا کے نہیں رکھتا، کوئی مجھے زبردستی انڈا بوائل کر کے نہیں کھلاتا، کوئی نہیں کہتا
"ٹھنڈ ہے سن لے ماں کی بات کھا لے بیمار پڑ جاۓ گی "
"کوئی دودھ کا گلاس لیے میرے پیچھے نہیں پھرتا، کوئی نہیں کہتا ایسے دودھ نہیں پینا تو جام شیریں ڈال کے لا دیتی ہوں" بس کچھ بھی تو نہیں بدلہ آپکے بعد کچھ بھی نہیں.
سانس ویسے ہی چلتی ہے۔ کھانا، پینا سب ویسا ہے، ہنسنا، بولنا بھی ویسا ہی ہے. اور آپکی نند کہتی ہیں۔
"اس کڑی نوں کوئی دکھ نہیں ماں دا"
آپکو پتہ ہے نہ مجھے کتنا برا لگتا تھا کوئی مجھ پے ترس کھائے مجھے اب بھی برا لگتا ہے اس لیے کسی کے سامنے نہیں روتی میں. کسی کی فضول باتوں کا جواب بھی نہیں دیتی.
آپنے کہا تھا نہ "جاہلوں کی باتوں کا بہترین جواب خاموشی ہے"
اب میں یہی کرتی ہوں
"بس خاموش رہتی ہوں

JAYSA KARO GAY WAYSA BHARO GAY. YE TEHREER BHOT SARAY LOGU KI ANKHAIN KHOLNY KAY LIE HAI.

ﮐﭽﮫ ﻗــــــــﺮﺽ ﭼﮑﺎﻧﮯ ﭘﮍﺗﮯ ھﯿﮟ..!! "
ﺍﺳﮯ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﯿﺴــــــــﺮﺍ ﺩﻥ ﺗﮭﺎ.. ﺁﺝ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮩﯿﮧ ﮐــــــــﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺍﺱ ﻟﮍﮐــــــــﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭ ﮐﺮ ھﯽ ﺭھﮯ ﮔﺎ.. ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮑﻨــــــــﯽ ﭼﭙﮍﯼ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﻦ ﺍﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺁﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕــــــــﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ندا ﻧﺎﻣﯽ ﯾﮧ ﻟﮍﮐﯽ ﺍﺳﮑــــــــﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ھﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺭھﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺘﻨﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟــــــــﻮﺍﺏ ﭘﮑﯽ ﻧﺎﮞ ﺗﮭﺎ..!
عمیــــــــر ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺍﻭﺑﺎﺵ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮔــــــــﺮﻭﮦ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ ﺟﻮ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﻼ ﭘﮭﺴﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾــــــــﺮ ﺍﻭﺭ ﻭﯾﮉﯾﻮﺯ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﻠﯿﮏ ﻣﯿﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ.. ﺁﺝ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺷــــــــﺮﻁ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﭘﭩﺎ ﮐﺮ ھﯽ ﭼﮭــــــــﻮﮌﻭﮞ ﮔﺎ..
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﻼﻥ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻄﺎﻧﯽ ﻣﺴﮑــــــــﺮﺍھﭧ ﮐﮯ ساتھ ﻧﯿﭧ ﺁﻥ ﮐﯿﺎ ' ﻭﯾﺐ ﮐﯿﻢ ﺳﯿﭧ ﮐﯿﺎ ' ندا ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﺴﺞ ﮐﯿﺎ ' ﺍﻭﺭ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺐ ﺁﻥ ﻻﺋﻦ ھــــــــﻮ ﮔﯽ..
کچھ دیر ﺑﻌﺪ ندا ﮐﺎ ﻣﯿﺴﺞ ﺁﯾﺎ.. " ﺟﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ.. ﮐﯿﺎ ﺿــــــــﺮﻭﺭﯼ ﺑﺎﺕ ھﮯ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﻮﭼﮭﻨﯽ ھﮯ..؟ "
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ.. " ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺑﮭــــــــﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺎ ﻣﯿﺴﺞ ﺁﯾﺎ ھﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐــــــــﮧ ﺁﭖ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐــــــــﯽ ھﻮ ھﯽ ﻧﮩﯿﮟ.. ﺁﭖ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮍﮐﺎ ھﻮ ﺟﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﻮﻗــــــــﻮﻑ ﺑﻨﺎ ﺭھﯽ ھﻮ.. ﺍﺏ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﭘــــــــﺮﻭﻓﺎﺋﻞ ﭘﺮ ﺷﮏ ھﮯ.. ﺍﺏ ﺁﭖ ھﯽ ھــــــــﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺱ ﺷﮏ ﮐﻮ ﺩﻭﺭ ﮐــــــــﺮ ﺳﮑﺘﯽ ھﯿﮟ.. ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒــــــــﺮ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻭﯾﺐ ﮐﯿﻢ آﻥ ﮐــــــــﺮﺩﯾﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺷﮏ ﺩﻭﺭ ھﻮ ﺟﺎﺋﮯ.. "
ندا (ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ).. " ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐــــــــﺮﺳﮑﺘﯽ.. ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷــــــــﺮﯾﻒ ﻟﮍﮐﯽ ھﻮﮞ.. "
عمیــــــــر.. " ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺷــــــــﺮﯾﻒ ﻟﮍﮐﺎ ھﻮﮞ.. ﺩﻭ ﻣﻨﭧ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺑﺎﺕ ھﮯ.. ﻣﯿﮟ ﻗﺴــــــــﻢ ﮐﮭﺎﺗﺎ ھﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮭــــــــﺮﻭﺳﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌﻭﮞ ﮔﺎ.. ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﮐــــــــﺮﻭﮞ ﮔﺎ.. ﺍﭼﮭﺎ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺴﻠــــــــﯽ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﭖ ﯾﻮﮞ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﻭﯾﺐ ﮐﯿﻢ ﭘﺮ ﺁ ﺟﺎﺋﯿﮟ.. ﻓﯽ ﺍﻟﺤﺎﻝ ﺍﭘﻨﺎ ﭼﮩــــــــﺮﮦ ﻣﺖ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﺁﻭﺍﺯ ھﯽ ﺳﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ.. "
ندا.. " ھﻤﻤﻤﻢ.. ﺳﻮﭼﺘــــــــﯽ ھﻮﮞ.. "
عمیــــــــر (ﻭﺍﺭ ﮐﺎﺭﯼ ﭘﮍﺗﺎ دیکھ ﮐﺮ).. " ﺍﺏ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﻨﺎ.. ﺁﭖ ﺍﭼﮭﯽ ﻟﮍﮐﯽ ھﻮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺨﺖ ﺭﻭﺋﯿﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﯿــــــــﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻗــــــــﺪﺭ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ ھﮯ.. ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ھﻤــــــــﯿﺸﮧ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﭼﺎھﺘﺎ ھﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾــــــــﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﺎ.. "
ندا.. " ﺍﻭﮐﮯ.. ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺗﮭــــــــﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻭﯾﺐ ﮐﯿﻢ ﺁﻥ ﮐﺮﻭﮞ ﮔﯽ.. ﭼﮩــــــــﺮﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﺳﺨﺘﯽ ﺳﮯ ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ھﻮﺍ ھﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﺑﮭــــــــﺮﻭﺳﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮﮌ ﺳﮑﺘﯽ.. ﺻــــــــﺮﻑ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﻟﯿﻨﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺷﮏ ﺩﻭﺭ ھــــــــﻮ ﺟﺎﺋﮯ.. "
عمیــــــــر ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭼﻠﻮ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﻧﯽ.. ﺁﮬﺴﺘﮧ ﺁﮬﺴﺘﮧ ﺍﺗﺎﺭ ﻟﻮﮞ ﮔﺎ ﺷﯿﺸﮯ ﻣــــــــﯿﮟ..!
ﻭﯾﺐ ﮐﯿﻢ ﺁﻥ ھﻮﺗﮯ ھﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ندا عمیــــــــر ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭ ﭘﺎﺗﯽ ' عمیــــــــر ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﭘﮭﭧ ﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺠﻠــــــــﯽ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ھﭩﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺳــــــــﺎﻧﭗ ﻧﮯ ﮈﺱ ﻟﯿﺎ ھﻮ.. ﻭہ ﮐــــــــﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮐﺎﻧﭙﻨﮯ ﻟﮕﺎ..
ﮐﻤــــــــﺮﮮ ﮐﯽ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﭘﺮ ﭨﻨﮕﯽ ﺩﮬﻨﺪﻟﯽ ﺳﯽ ﻧﻈــــــــﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳــــــــﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﭘﺮ ﻃﺎﻕ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ھﻮﺋﯽ ﮔــــــــﮍﯾﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺑﮩــــــــﻦ ﮐﻮ ﻻ ﮐﺮﺩﯼ ﺗﮭﯽ...........!!
دنیا مکافات عمل ہے یہ یاد رکھنا
جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

Pashtoon Movement kay Aitrazaat aur Un Ka Jawab


1-: ہمیں ستر برسوں کا حساب چاہیے ، فاٹا کے ساتھ ریاست نے ہمیشہ ناانصافی کی ہے، "منظور پشتون "

جواب۔
ہاں فاٹا کے ساتھ کے ناانصافی ہوئی ہے ، اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو گزشتہ ستر سال سے پختونوں کا خون چوس رہے۔ آپ حساب مانگے نہ اسفندیار ولی ، محمود اچکزئی ، فضل الرحمٰن سے یہ سب پختونوں کی تباہی میں برابر کے شریکِ ہیں، بدقسمتی سے یہ پختونوں کا خون چوسنے والے آپ کے دائیں بائیں موجود ہیں۔

2-: فوج نے فاٹا، وزیرستان برباد کیا ھے ، پورے ملک میں دہشتگردی کروانے والی خود فوج ہے۔ " منظور پشتین"
جواب۔
ارے واہ یعنی کے ان دس پندرہ ہزار فوجیوں کی قاتل فوج خود ہے جو دہشتگردی کی بھینٹ چڑے، فوج نے خود اپنے ہزاروں افسران ذبیحہ کروائے، فوجیوں نے خود اے پی ایس پر حملہ کر کے اپنوں بچوں کہ گلے کاٹے، منظور پشتین صاحب آپ کے خیال میں کراچی میں بیس بیس بوری بند لاشیں گروانے والی فوج خود تھی۔

ویسے کتنی پاگل فوج ہے ، جو دہشتگردوں سے گولیاں کھاتی ہے اور عوام سے گالیاں ، آپ کی نظر میں یہ سب کچھ پیسے کے لیے کیا جاتا ہے، حضور دس بیس ہزار مجھ سے لے کر اپنے کسی گھر والے کا سر کاٹ دو؟؟؟ کیا خیال ہے منظور صاحب ؟؟؟

3:- اب پشتونوں کو جاگنا ہوگا ، پنجابیوں کو سبق سکھانا ہوگا، پنجابیوں نے ہمیں تعلیم اور ترقی سے دور رکھا
"علی وزیر منظور پشتون کا قریبی ساتھی "
جواب:-

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ پنجابیوں نے آپ کو ترقی سے کیسے دور رکھا، گزشتہ ستر سالوں میں کسی ایک پنجابی کا نام بتا دو جسے تم نے ووٹ دیا ، 

باچا خان ، ولی خان ، محمود اچکزئی ،اسفند یار ولی، فضلِ الرحمن ، وہ گدھ ہیں جنہیں تم ستر سال سے اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے ہو، ہمت ہے تو ان کا گریبان پکڑو جو پشتونوں کو گدھ کی طرح نوچ کر کھا گئے۔ 
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تم انہیں کے اشاروں پر ناچ پر پاکستان کو گالیاں دے رہے ہو۔

4:- چیک پوسٹیں ختم کی جائیں ، پنجابی افسران چیک پوسٹیں پر پشتونوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ منظور 

جواب :-
فوج میں کوئی پنجابی سندھی نہیں ہوتا ، دوسری بات چیک پوسٹیں تمھاری ہی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیںِ ،
چیک پوسٹوں کے خاتمے کے بعد افغانستان میں موجود دہشتگرد دوبارہ پاکستان آگئے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ۔ 
جس دور میں لوگوں کی لاشیں بازاروں میں لٹکا دی جاتی تھیں ، اس دور سے چیک پوسٹیں ہزار درجے بہتر ہیں۔

5:- ہم لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ، ہمیں امن چاہیے ، فوج ہمیں غدار کیوں کہتی ہے، منظور پشتون 

جواب-
محترم حقوق مانگنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ، یہ کونسے حقوق ہیں جن کے لیے آپ کے پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دے رہے ہیں ، ہمیں بھی بتا دیں لڑ او بر افغان کا نعرہ مار کر ہندوستان کے پرچم اٹھا کر آپ کن حقوق کی بات کر رہے ہیں

منظور پشتون صاحب کوئی کسی کو غدار نہیں کہتا یہ فتوے حقوق مانگنے پر کبھی نہیں لگتے ، ایک سال پہلے آپ کہ ہی صوبے کی حکمران جماعت نے ملک کے وزیراعظم کو نااہل کروا کر گھر بھیجا ، پرویز خٹک، عمران خان نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کتنے دھرنے دیئے ، کسی نے ان کو غدار کہا؟؟؟

اگر یہی عمران خان آپ کے عمر داؤد کی طرح بھارت کا جھنڈا اٹھاتا ، اگر عمران کے سپورٹر آپ کے حمایتیوں کی طرح پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دیتے تو یقیناً انہیں بھی گالیاں ہی پڑنی تھیں،

6:- سوچ رہے ہیں کہ آٹھ اکتوبر کے جلسے میں پاکستان کا جھنڈا بطور احتجاج نا لہرائیں ۔۔ علی وزیر۔ 

جواب :-
سیدھی طرح کہیں نہ کہ آپ آہستہ آہستہ محمود اچکزئی کا پیسہ حلال کرنا چاہتے ہیں ، بے شرمی اور منافقت کی بھی اک حد ہوتی ہے ، خدا کا خوف کرو یہ حقوق کے نام پر کیوں معصوم لوگوں کا خوں بہانا چاہتے ہو، اگر تمہیں پاکستان کے جھنڈے سے اتنی ہی نفرت ہے تو اپنی نوکریاں ، تعلیمی اسناد ، جائدادیں ، گاڑیاں گھر پیسہ بھی بطور احتجاج چھوڑ دو ۔ تم لوگوں کا مقصد اگر پختونوں کو حقوق دلوانا ہوتا تو کبھی بھی تم محمود اچکزئی کی چوکھٹ پر نا بیٹھتے 

دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں کی نسبت پاکستان زیادھ پر امن ، بس تم لوگوں سے یہ امن برداشت نہیں ہوتا ۔

Extreme emotional scenes at Salman Khan's house

People were crying and weeping when they saw him. Salman also respond with love to his fans.


Bollwood Salman Khan Released from Jail after getting bail from jail.  Fans of Salman Khan was sad because of Salman Khan Jailed.
 Fans all are very happy after Salman Khan Bail from Jail. They gathered in large number to welcome their favorite hero. Saloo Bhai also respond his fans with love.



سلمان خان کے گھر پہنچنے پر انتہائی جذباتی مناظر








Mulla Muhammad Ummar


آج کےلیےلیڈران دوپل چارسڑکیں بناکراخبارات میں بیانات دیتےھےاورتصویریں چھاپتےھے کہ ھم نےتیر مارآھے
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نےمکےمدینےمیں کوئی پل کوئی سڑک نھیں بنائی ایک قوم بنائی
ابتدائی زندگی ترميم
ملا محمد عمر 1959ء افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں پیداہوئے تهے۔ دینی مدرسوں سے تعلیم پائی۔ وہ دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے تهے۔ وہ ایک اسلام پسند پشتون تهے۔ پہلے وہ روسی فوجوں کے خلاف گوریلا جنگ لڑتے رہتے تهے۔ ایک معرکے میں وہ زخمی ہوئے تهے اور انکی ایک آنکھہ ختم ہو گئی تهی ۔
ذاتی زندگیترميم
بحیثیت حکمران انھوں نے افغانستان میں امن ‍ قائم کیا۔ اور منشیات کا خاتمہ کیا۔ یہ وہ کام ہیں جو ان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکا۔ یاد رہے کہ طالبان کابل پر قبضے کے ایک سال بعد بامیان پر قبضہ کر پائے تھے۔
ملا عمر نے بہت کم انٹرویو دیے۔ اور ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔
ملا محمد عمر کی زندگی اور افغانستان کی سیاست میں1979ء کا سن کافی اہمیت رکھتا ہے- اسی برس ایک طرف تو افغانستان کے پڑوسی ملک ایران میں خمینی انقلاب آتا ہے اور مغربی ذرائغ ابلاغ میں لفظ فنڈامینٹلزم یعنی قدامت پرستی پہلی دفعہ سنائی دیتا ہے- دوسری طرف روسی افواج افغانستان میں داخل ہوتی ہیں- یہ سرد جنگ کا دور تھا- مغربی ممالک بالخصوص امریکا پاکستان کے سہارے کمیونسٹ افواج کے خلاف افغانستان میں جنگجوؤں کی امداد کرتے ہیں- یہ جنگجوؤں کو اس وقت مجاہدین کہا جانے لگا تھا- انہیں میں بیس برس کا ایک نوجوان شامل تھا جس کا نام محمد عمر تھا-
روس کی واپسیترميم
1989ء میں روسی افواج کی افغانستان سے واپسی کے بعد ملامحمد عمر اپنے گا ؤں واپس چلے جاتے ہیں- جہاں وہ مدرسے میں تعلیم و تربیت میں مصروف ہو جاتے ہیں اور مقامی مسجد میں نماز پڑھاتے ہیں- بظاہر وہ سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ روسی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں لاقانونیت کا دور شروع ہوجاتاہے- کل کے مجاہدین اب شرپسندی پر اتر آتے ہیں- جن کے ہاتھ میں طاقت ہے ان کی من مانی ہے- کہیں عورتوں کی آبروریزی کی جاتی ہے تو کہیں مسافروں کو لوٹ لیا جاتا ہے- افغانستان کی سڑکوں پر ظلم و ستم کرنیوالوں نے چیک پوسٹیں بنا رکھی ہیں۔
سوچ میں تبدیلیترميم
یہاں پر یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ 1989ء میں روسی افواج کی واپسی سے 1994ء تک ملامحمد عمر کی زندگی اپنے گا ؤں تک محدود رہتی ہے- لیکن 19944 میں ہونے والا ایک واقعہ محمد عمر کو افغانستان کی سیاست میں جھونک دیتا ہے۔ ان کو یہ خبر ملتی ہے کہ کچھ شر پسند عناصر نے گا ؤں کی لڑکیوں کو اغوا کر لیا ہے- انکی اجتماعی عصمت دری کی خبر سن کر ملامحمد عمر اپنے چند طالب علموں کو جمع کرتے ہوئے ان لڑکیوں کی جان بچاتے ہیں- ان کے یہی ساتھی بعد میں چل کر طالبان کہلاتے ہیں۔
دوسرا واقعہ جس نے شاید ملا محمد عمر کو طالبان کی سربراہی کے لیے مجبور کر دیا وہ یہ ہے کہ دو سابق جنگجوؤں نے قندھار کے مرکز میں ایک خوبصورت لڑکے کے لیے ٹینکوں سے جنگ لڑی- لاقانونیت کے اس ماحول کی وجہ سے ملا محمد عمر نے طالبان کو منظم کرنا شروع کیا- رفتہ رفتہ انکی اہمیت بھی بڑھتی گئی- اور پہلی دفعہ ان کی ضرورت پاکستان کو اس وقت پڑی جب پاکستانی ٹرکوں کے ایک قافلے کو مقامی جنگجوؤں نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ ٹرکوں کا یہ قافلہ افغانستان کے ذریعے وسطی ایشیا کے لیے ایک تجارتی راہ کی تلاش میں تھا- بع۔ میں ملا محمد عمر کی حمایت سے ان ٹرکوں کو چھڑایا گیا-
کابل پر قبضہترميم
ملا محمد عمر کی قیادت میں پاکستان اور عربوں کی مدد سے طالبان نے 1996میں کابل پر قبضہ کر لیا۔ اور افغانستان کو اسلامی امارات قرار دیکر ملا محمد عمر کو امیرالمومنین کے خطاب سے نوازا گیا- جلد ہی طالبان نے افغانستان کے نوے فیصدی حصے پر قبضہ کر لیا- افغانستان پرگزشتہ بائیس برسوں میں سے پانچ برس طالبان کا قبضہ رہا۔ تقریبًا سات برس لاقانونیت کی نظر تھے اور دس برس روسی افواج قابض تھیں۔
حلیہ اور شخصیتترميم
ملا محمد عمر مقامی کسانوں کی بولی بولتے تهے- وہ پانچ فٹ گیارہ انچ لمبے تهے- کبھی کبھی چشمہ لگاتے تھے- اور تفریح کے لیے اپنے دوست اسامہ بن لادن کے ساتھ مچھلی پکڑنے جاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی دو ایک بیوی اور آٹھ یا نو بچے ہیں- ان کے گھر پر 1999ء میں بم سے ایک حملہ کیا گیا جس میں ان کا گھر تباہ ہو گیا اور ان کے دو بھائی اور ان کی پہلی بیوی سے تین بچے ہلاک ہو گئے۔افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران روسیوں کیخلاف لڑتے ہوئے کہیں بار ملا عمر زخمی بھی ہوئے تھے جس میں انہوں نے اپنی دائیں آنکھ بھی کھودی تھی۔ معروف پاکستانی صحافی اوریا مقبول جان کا ملا عمر کی شخصیت کے متعلق کہنا ہے کہ میں 1988ء میں چمن میں ہوتا تھا وہاں اکثر قبائلی لڑائیاں ہوا کرتی تھی،ایک مرتبہ جب نورزئی اور اچکزئی قبیلے کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی تو میں نے ملا عمر کو دیکھا کہ بہت پریشان تھے،وہ ہمیشہ اس بات سے دکھی ہوتے تھے کہ میری قوم آپس میں کیوں ایک دوسرے سے لڑ رہی ہے۔ ملا عمر نے جب ابتدائی میں افغانستان پر قبضہ کیا تو سب سے پہلےصوبہ کندہار سے شروع کیا۔
اسامہ اور عمرترميم
اگرچہ مغربی میڈیا اسامہ بن لادن اور ملا محمد عمر کی سیاست میں زیادہ تفریق نہیں کرتے لیکن یہ بات اہم ہے کہ اسامہ بن لادن ذاتی طور پر مغربی ممالک کے خلاف لڑ رہے چاہتے تھے جبکہ ملا محمد عمر نے عالمی سیاست میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے- انہوں نے اپنا پہلا غیر ملکی ریڈیو انٹرویو بی بی سی کی پشتو سروس کو 25 فروری 1998 کو دیا۔ ملا محمد عمر صرف ایک دفعہ افغانستان سے باہر گئے ہیں- اور یہ واقعہ تب پیش آیا جب روسی افواج کے خلاف لڑتے وقت انکی ایک آنکھ میں چوٹ لگی تھی- اور انہیں پاکستان آنا پڑا جہاں عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کے ڈاکٹروں نے ان کی آنکھ کا آپریشن کیا- وہ آج بھی صرف ایک آنکھ سے ہی دیکھ سکتے ہیں۔
افغانستان پر امریکا قبضے اور طالبان کے خاتمے کے بعد ملا عمر آج تک روپوش ہیں ان کے آڈیو بیانات سامنے آتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کے متعلق آج تک کوئی نہیں جان سکا کہ وہ کہاں ہیں۔
امریکا کا مطالبہ اور افغانستان پر جنگترميم
تفصیلی مضامین کے لیے ملاحظہ کریں: افغانستان میں سوویت جنگ، جنگ افغانستان 2002ء اور جنگ افغانستان (2001ء– تاحال)
1979ء جب سوویت اتحاد یا عام طور پر جسے روس کہا جاتا تھا،روس نے افغانستان پر اپنا قبضہ چاہا جس کے لیے روس ایک اور خود مختار ملک افغانستان میں کھود پڑا، اسی بات نے پورے اسلامی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں روسیوں سے نمٹنے کے لیےمجاہدین کی تنظیم وجود میں آئی جس کو پاکستان،سعودی عرب،امریکا سمیت بیشتر اسلامی ممالک نے امداد فراہم کی۔ ایک طویل عرصے کے بعد مجاہدین کامیاب ہو گئے اور سوویت اتحاد کو ایک زبردست شکست دیا جس کی نتیجے میں نہ صرف سوویت اتحاد کو افغانستان سے بھاگنا پڑا بلکہ سویت اتحاد جو ایک عظیم ملک تک جو ایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر پھیلا ہوا تھا،شکست کے بعد سوویت اتحاد بھی نہ بچ سکا اور تکڑے تکڑے ہو گیا جس سے نئے ممالک وجود میں آئے جن میں روس، ازبکستان،ترکمنستان، تاجکستان، آرمینیا،یوکرین، جارجیا وغیرہ شامل ہیں۔ ایک طویل لڑائی اور خون ریزی کے بعد افغان مجاہدین جب فتح یاب ہوئے تو افغانستان میں اسلامی امارت افغانستان قائم ہوا جس کو پاکستان اور سعودی عرب نے کھل کر تسلیم کیا۔
اس کے بعد سانحہ گیارہ ستمبر (نائن الیون) پیش آیا جس کا الزام امریکا نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ اسامہ نے جا کر افغانستان میں پناہ لی، یاد رہے کہ اس وقت اسلامی امارت افغانستان کی حکومت مجاہدین یا افغان طالبان کے ہاتھوں میں تھی جس کی قیادت ملا محمد عمر کر رہے تھے۔ امریکا نے ملا محمد عمر سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرے ورنہ انجام برا ہوگا۔ اس کے جواب میں ملا عمر نے کہا کہ اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگر تمہارے گھر میں کوئی پناہ لے تو اس کی حفاظت کرو۔ ملا عمر نے اسلامی اور پشتون روایات کی پاسداری کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو حوالہ کرنے سے واضح طور پر انکار کر دیا۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملا عمر نے ہزاروں علما کو دعوت پر بلایا کہ کیا اسلام ہمیں اس بات کا اجازت دیتا ہے کہ ہم اسامہ جیسے افراد کو کسی اور کے حوالے کرے تو علما نے ان کو کہا کہ اسلام کے مطابق اگر کوئی آپ کے گھر پناہ لے تو ہر گز اس کو دشمن کے ہاتھوں حوالے مت کرنا۔
اس کے بعد جب ملا عمر نے پھر واضح طور پر اسامہ بن لادن کو امریکا کے حوالے کرنے سے انکار کیا تو امریکا نے افغانستان میں افواج اتارے اور ایک اور جنگ شروع ہو گئی۔ امریکا کے پاس وسائل تھے جبکہ دوسری طرفاسلامی امارت افغانستان کے پاس اتنے وسائل اس لیے نہیں تھے کیونکہ امریکا کے بہ نسبت افغانستان ایک چھوٹا اور کمزور ملک تھا اور اس سے پہلے وہ سوویت اتحاد سے ایک عظیم جنگ کرچکا تھا جس سے افغانستان کمزور ہوا تھا۔ پاکستان بھی امریکا کیخلاف اسلامی امارت افغانستان کی مدد کرتا رہا لیکن آخر کار اسلامی امارت ختم ہو گئی اور ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے افغانستان کی حکومت چلی گئی۔ امریکہ اور طالبان کے مابین جنگ 20011 میں شروع ہوئی تھی اور تاحال جاری ہے۔
جنگ سے قبل خطابترميم”عجیب بات ہے کہ میں نہ حواس باختہ ہوتا ہوں اور نہ ہی بے دینوں کے ساتھ اسلام کے خلاف راستہ اختیار کرتا ہوں، باوجود یہ کہ میرا اوتدار بھی خطرے میں ہے، میری سربراہی اور کرسی بھی خطرے میں ہے۔ میری زندگی بھی خطرے میں ہے، پھر بھی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہوں، اگر میں کافروں کے مطالبے پر ایسی راہ اختیار کرلوں جو اسلام کے خلاف ہو اسن کے ساتھ موافقت کروں اور اسن کے ساتھ معاملات ٹھیک رکھوں تو میری ہر چیز مستحکم ہوگی، میری بادشاہی اور سلطنت بھی برقرار رہے گی اور اسی طرح طاقت، پیسہ اور جاہ و جلال بھی خوب ہوگا، جس طرح دیگر ممالک کے سربراہوں کا ہے، لیکن اسلام کی خاطر ہر قربانی کے لیے حاضر ہوں، سب کچھ کرنے کے لیے حاضر ہوں، جان قربان کرتا ہوں، سب کچھ سے بے پرواہ ہوچکا ہوں، سلطنت، اقتدار، طاقت اور ہر چیز کی قربانی کا عزم کرچکاہوں ، اسلامی غیرت کرتا ہوں، اسلام پر فخر کرتا ہوں، اس پاک وطن پر غیرت کرتا ہوں۔“
[5]
وفاتترميم
29 جولائی 2015 کو افغان مخابرات نے یہ خبر دی تھی کہ ملا محمد عمر کاکراچی میں انتقال ہو گیا ہے، کچھ طالبان نے اس بات کی تردید کردی تھی کیونکہ مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات ہور رہے تھے،لیکن جب اس خبر نے زور پکڑ لیا تو افغان طالبان نے 30 جولائی 2015 کو اس بات کی تائید کردی کہ ملا عمر کا صوبہ ہلمند میں انتقال ہوا تھا طالبان کے مطابق اُن کی وفات دل کے دورے کے باعث ہوئی۔ وفات کے وقت اُن کے ساتھ ان کے اہم کمانڈر عبد الجبار تھے۔ کمانڈر عبد الجبار نے ہی طالبان کے پانچ اہم کمانڈروں کو ملا عمر کی موت کی اطلاع دی۔ طالبان نے یہ بھی بتایا کہ نائب امیر ملا اختر منصور افغان طالبان کے نئے امیر ہونگے

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...