1-: ہمیں ستر برسوں کا حساب چاہیے ، فاٹا کے ساتھ ریاست نے ہمیشہ ناانصافی کی ہے، "منظور پشتون "
جواب۔
ہاں فاٹا کے ساتھ کے ناانصافی ہوئی ہے ، اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو گزشتہ ستر سال سے پختونوں کا خون چوس رہے۔ آپ حساب مانگے نہ اسفندیار ولی ، محمود اچکزئی ، فضل الرحمٰن سے یہ سب پختونوں کی تباہی میں برابر کے شریکِ ہیں، بدقسمتی سے یہ پختونوں کا خون چوسنے والے آپ کے دائیں بائیں موجود ہیں۔
2-: فوج نے فاٹا، وزیرستان برباد کیا ھے ، پورے ملک میں دہشتگردی کروانے والی خود فوج ہے۔ " منظور پشتین"
جواب۔
ارے واہ یعنی کے ان دس پندرہ ہزار فوجیوں کی قاتل فوج خود ہے جو دہشتگردی کی بھینٹ چڑے، فوج نے خود اپنے ہزاروں افسران ذبیحہ کروائے، فوجیوں نے خود اے پی ایس پر حملہ کر کے اپنوں بچوں کہ گلے کاٹے، منظور پشتین صاحب آپ کے خیال میں کراچی میں بیس بیس بوری بند لاشیں گروانے والی فوج خود تھی۔
ویسے کتنی پاگل فوج ہے ، جو دہشتگردوں سے گولیاں کھاتی ہے اور عوام سے گالیاں ، آپ کی نظر میں یہ سب کچھ پیسے کے لیے کیا جاتا ہے، حضور دس بیس ہزار مجھ سے لے کر اپنے کسی گھر والے کا سر کاٹ دو؟؟؟ کیا خیال ہے منظور صاحب ؟؟؟
3:- اب پشتونوں کو جاگنا ہوگا ، پنجابیوں کو سبق سکھانا ہوگا، پنجابیوں نے ہمیں تعلیم اور ترقی سے دور رکھا
"علی وزیر منظور پشتون کا قریبی ساتھی "
جواب:-
مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ پنجابیوں نے آپ کو ترقی سے کیسے دور رکھا، گزشتہ ستر سالوں میں کسی ایک پنجابی کا نام بتا دو جسے تم نے ووٹ دیا ،
باچا خان ، ولی خان ، محمود اچکزئی ،اسفند یار ولی، فضلِ الرحمن ، وہ گدھ ہیں جنہیں تم ستر سال سے اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے ہو، ہمت ہے تو ان کا گریبان پکڑو جو پشتونوں کو گدھ کی طرح نوچ کر کھا گئے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ابھی تم انہیں کے اشاروں پر ناچ پر پاکستان کو گالیاں دے رہے ہو۔
4:- چیک پوسٹیں ختم کی جائیں ، پنجابی افسران چیک پوسٹیں پر پشتونوں کی تذلیل کرتے ہیں۔ منظور
جواب :-
فوج میں کوئی پنجابی سندھی نہیں ہوتا ، دوسری بات چیک پوسٹیں تمھاری ہی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہیںِ ،
چیک پوسٹوں کے خاتمے کے بعد افغانستان میں موجود دہشتگرد دوبارہ پاکستان آگئے تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ۔
جس دور میں لوگوں کی لاشیں بازاروں میں لٹکا دی جاتی تھیں ، اس دور سے چیک پوسٹیں ہزار درجے بہتر ہیں۔
5:- ہم لوگ اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ، ہمیں امن چاہیے ، فوج ہمیں غدار کیوں کہتی ہے، منظور پشتون
جواب-
محترم حقوق مانگنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے ، یہ کونسے حقوق ہیں جن کے لیے آپ کے پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دے رہے ہیں ، ہمیں بھی بتا دیں لڑ او بر افغان کا نعرہ مار کر ہندوستان کے پرچم اٹھا کر آپ کن حقوق کی بات کر رہے ہیں
منظور پشتون صاحب کوئی کسی کو غدار نہیں کہتا یہ فتوے حقوق مانگنے پر کبھی نہیں لگتے ، ایک سال پہلے آپ کہ ہی صوبے کی حکمران جماعت نے ملک کے وزیراعظم کو نااہل کروا کر گھر بھیجا ، پرویز خٹک، عمران خان نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کتنے دھرنے دیئے ، کسی نے ان کو غدار کہا؟؟؟
اگر یہی عمران خان آپ کے عمر داؤد کی طرح بھارت کا جھنڈا اٹھاتا ، اگر عمران کے سپورٹر آپ کے حمایتیوں کی طرح پاکستان اور قائداعظم کو گالیاں دیتے تو یقیناً انہیں بھی گالیاں ہی پڑنی تھیں،
6:- سوچ رہے ہیں کہ آٹھ اکتوبر کے جلسے میں پاکستان کا جھنڈا بطور احتجاج نا لہرائیں ۔۔ علی وزیر۔
جواب :-
سیدھی طرح کہیں نہ کہ آپ آہستہ آہستہ محمود اچکزئی کا پیسہ حلال کرنا چاہتے ہیں ، بے شرمی اور منافقت کی بھی اک حد ہوتی ہے ، خدا کا خوف کرو یہ حقوق کے نام پر کیوں معصوم لوگوں کا خوں بہانا چاہتے ہو، اگر تمہیں پاکستان کے جھنڈے سے اتنی ہی نفرت ہے تو اپنی نوکریاں ، تعلیمی اسناد ، جائدادیں ، گاڑیاں گھر پیسہ بھی بطور احتجاج چھوڑ دو ۔ تم لوگوں کا مقصد اگر پختونوں کو حقوق دلوانا ہوتا تو کبھی بھی تم محمود اچکزئی کی چوکھٹ پر نا بیٹھتے
دنیا جانتی ہے کہ گزشتہ پندرہ سالوں کی نسبت پاکستان زیادھ پر امن ، بس تم لوگوں سے یہ امن برداشت نہیں ہوتا ۔
No comments:
Post a Comment