لیلائے آزادی کا مجنوں. امان الله خان بانی سپریم ہیڈ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ




تایخ انسانیت میں کھربوں لوگ آئے اور گزر گئے  اُن کے نام و نشان تک مٹ گئے لیکن اسی روح زمین پر قوموں کی تاریخ میں ایسی عہد ساز شخصیات نے بھی جنم لیاجنہوں نے عہد حاضر کے رُخ موڑے۔ جنہوں نے  خود کو کسی بڑے اجتماعی مقصد کے ساتھ وابستہ کر کے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں صرف کیں ہیں۔ اکثر اوقات اپنی جانوں تک اس مقصد کے لئے قُربان کر دیتے ہیں۔ ایسی شخصیات بھلے اس مقصد کے حصول تک زندہ رہیں یا اس کے اس حصول سے پہلے مر جائیں۔ مرتی نہیں ہیں تاریخ ان کو ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ خود تاریخ اور تاریخ کے معمار بن جاتے ہیں۔ تاریخ انہیں ایک ایسی علامت بنا دیتی ہے جو آنے والے انسانوں کے لئے راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ اجتماعی مقصد ہی انسانی تاریخ کے ان شُرفاء کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ گزشتہ تہتر سال سے بُری طرح منقسم اور محکوم ریاست جموں کشمیر کے عوام کی قومی آزادی اور ریاست کی وحدت کی بحالی کے لئے کی جانے والی اعصاب شکن اور مُشکل جدوجہد کی تاریخ میں بھی ایک ایسا نام ہے جو بلا شبہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کے ماتھے پر ایک روشن علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔ اور وہ نام اس ریاست کے ایک قابل فخر سپوت، لیلائے آزادی کے مجنوں، وحدت جموں کشمیر کے داعی، ریاستی تشخص کے علمبردار،  نظریاتی سیاست کے ا مین و پاسدار، مقدمہ جموں کشمیر کے بہترین وکیل، اپنی ذات، صفات اور کردار میں ایک تحریک ایک تاریخ، لازوال عزم او ہمت اورحوصلے کے مالک، کشمیریت کے روح رواں  اور مزاحمت کی علامت قائد تحریک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ جناب امان اللہ خان  صاحب کا ہے۔ یہ وہ نام ہے جس کا مطلب ناقابل مصالحت جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب با مقصد جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب پُر امید جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مقصد با کردار جدوجہد ہے،  یہ وہ نام ہے جس کا مطلب سچائی پر مبنی جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب جدوجہد کی سچائی پر یقین ہے اور یہ وہ نام ہے جس کا مطلب جہد مسلسل ہے۔ آج اس عظیم انسان کی چوتھی برسی ہے۔   لیلائے آزادی کے مجنوں اور کشمیریوں کی جہد مسلسل کی ایک توانا آواز  امان اللہ خان  آج سے  چار سل قبل 26  اپریل  2016  کو  جنت ارضی  ریاست جموں کشمیر کی آزادی، خود مختاری اور خوشحالی کا خواب  اپنی آنکھوں میں سجائے اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے  زندگی کی اس قید سے آزاد ہو گئے لیکن ریاست جموں کشمیر کی قوم کے لئے اپنے ورثے میں ایک سوچ، ایک فکر، نظریہ اور عقیدہ چھوڑ گے جو انکے نام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔  انسان کو موت آجاتی ہے لیکن مشن کبھی نہیں مرتے، یقین کی راہ پر چلنے والے اس مسافر کے جسم کی موت سے اس کا کردار نہیں مر سکتا جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔  اللہ کرے وہ وقت آئے جب استور میں اُن کی قبر پر جا کر آزادی کی نوید سنانے کا موقع نصیب ہو۔  
امان اللہ خان 24 اگست 1931  کو گلگت کے علاقے استور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام جمعہ خان تھا جو نائب تحصیلدار ریٹائر ہونے کے بعد سات دیہاتوں کے نمبردار تھے۔  بچپن میں ہی والد کی وفات کے بعد گھریلو حالات نے انہیں بھارتی مقبوضہ کشمیر ضلع کپواڑہ پہنچا دیا۔ جہاں سے انہوں نے بُنیادی تعلیم حاصل کی اور 1950 میں میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور سری نگر کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ایئر کے امتحانات سے قبل ہی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف ورانٹ گرفتاری جاری ہوئے تو آپ بھاگ کر جموں چلے گے جہاں دو ہفتے قیام کے بعد 02 جنوری 1952 کو براستہ جموں سیالکوٹ پاکستان آگے۔  جہاں راولپنڈی، پشاور کے بعد کراچی منتقل ہوئے اور 1962 میں کراچی ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں ایم اے آئی آر میں داخلہ لیا لیکن تحریکی مصروفیات کی وجہ سے امتحانا ت نہ دے سکے۔  نصف صدی سے زائد ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی، اس کی آزادی اور خود مُختاری کے لئے سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر غیر متزلزل محو جدوجہد رہے اس دوران  امان اللہ خان کی زندگی میں نشیب و فراز آئے لیکن وہ قائد تحریک کے جذبہ حریت کو نہیں روک سکے اور وہ سُرخرو ہوئے۔ امان اللہ خان بیک وقت ایک مدبر سیاستدان، ایک بہادر کمانڈر، ایک عظیم دانشور اور ایک بہترین سفارتکار تھے۔
امان اللہ خان کی ریاست جموں کشمیر کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے نظریہ خود مُختار کشمیر کو ریاست کے باقی نظریات کے ہمقدم لا کر کھڑا کیا۔  جس کی ابتدا امان اللہ خان نے 1962  میں انگریزی ماہنامہ وائس آف کشمیر کے اجراء سے کی جو پوری طرح نظریہ خود مُختار کی تشہیر کرتا رہا جس کو بعد میں حکومتی دباوٗ کی وجہ سے بند کر دیا گیا لیکن انہوں نے اپنے قیام برطانیہ (1976 تا 1986) کے دوران دوبارہ اس کا اجراٗ کر کے نظریے کی تشہیر کی۔  امان اللہ خان نے 19963  میں  جی ایم لون کی مدد سے ریاست جموں کشمیر کی خود مُختاری کی داعی پہلی تنظیم کشمیر انڈیپنڈنس کمیٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا بوجہ اس کے خاتمے تک اس کے سیکرٹری کی حثیت سے کام کرتے رہے۔  امان اللہ خان 1965  میں بننے والی جموں کشمیر محاذرائے شماری کے شریک بانی ممبر اور پہلے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اس کے دو اہم شعبوں  (NLF)  اور کشمیر کمیٹی برائے افریشائی عوامی اتحاد کے اہم رُکن تھے اور1977 تک نظریہ خود مُختار کشمیر کو لٹریچر، جلسے جلوسوں، پریس کانفرنسوں اور مظاہروں کے ذریعے اجاگر کیا۔  امان اللہ خان نے 1977   میں جموں کشمیر محاذ رائے شماری برطانیہ کے آئین اور  نام میں تبدیلی کرتے ہوئے 29 مئی 1977  کو برمنگھم میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا قیام عمل میں لایا۔ اپنے قیام کے دو سال کے اندر اندر اس کی شاخیں برطانیہ کے مختلف شہروں اور امریکہ میں بھی بنا دیں۔ 1984 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی بُنیاد آزادکشمیر میں بھی رکھی۔  1988 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے عسکری ونگ جموں کشمیر نیشنل لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی جس نے مسئلہ جموں  کشمیر کو  سرد خانے سے نکال کردُنیا پر فلش پوائنت بنایا   اور قوم پر لگے بزدلی کے دھبے کو بھی دھویا۔  بدقسمتی سے اسی دوران لبریشن فرنٹ کریش پلان کے تحت تنظیم کے ٹکڑے کر دیے گئے جس سے تحریک آزادی کشمیر کو بہت نُقصان ہوا لیکن امان اللہ خان نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ تنظیم کو منظم کرنا شروع کیا۔ آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ریاست کی واحد تنظیم ہے جو ریاست کی تینوں اکائیوں سمیت پاکستان کے مختلف شہروں اور گلف، یو کے، یو ایس اے سمیت پوری دُنیا میں موجود ہے اور سیاسی اور سفارتی محاذ پر بر سر پیکار ہے۔ 
امان اللہ خان نے مسئلہ کشمیر پر اُردو، انگریزی میں تین کتابیں، 60  سے زائد پمفلٹ اور کتابچے لکھے اس کے ساتھ ساتھ 60  کے لگ بھگ انگریزی اور اردو اخبارات اور جرائد کو انٹرویو دیے۔ 100  سے زائد مضمون انگریزی میں اور تقریباً 30   اردو میں لکھے۔  انگریزی میں لکھے گے مضمون پاکستان، بھارت، برطانیہ اور عرب کے اخبارات میں شائع ہوئے وائس آف کشمیر کے اداریے، مضمون اور کالم اس کے علاوہ تھے اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے بیسیوں ریڈیو اور ٹی وی مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔  امان اللہ خان نے اقوام متحدہ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تین پریس کانفرنسوں سے خطاب کرنے کے علاوہ واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں بطور مہمان ایک مرتبہ خطاب کیا۔لندن میں تقریباً ایک درجن اور یورپ کے اہم دالحکومتوں میں ایک سے زیادہ پریس کانفرنسیں کی ہیں۔  امان اللہ خان کی اس جدوجہد کو دیکھتے ہوئے 1993  کے بعد ان کو آزادکشمیر تک محدود کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے وقتاً فوقتاً دنیا کے با اثر شخصیات، حکمرانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دانشوروں کو خط لکھ کر  اُن کو مسئلہ جموںکشمیر کے بارے میں اگاہ کیا۔
امان اللہ خان نے ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور خود مُختاری کے لئے آزادکشمیر گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان میں کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے مشہور عقوبت خانوں ،  برطانیہ بلجئم اور امریکہ میں بھی طویل اور قلیل مدتی قیدیں کاٹی۔ ان اسیریوں کے دوران ان کو ذہنی اور جسمانی تشدد اذیتیں بھی دی جاتی رہی لیکن وہ امان اللہ خان کے جذبہ حُریت کو سرد نہیں کر سکے۔ برطانیہ اور بلجئم کی اسیری میں بھارت برائے راست ملوث تھا۔امان اللہ خان وہ واحد کشمیری رہنما ہیں کے لئے بھارت نے انٹرپول کے ذریعے ورانٹ گرفتاری جاری کروائے ہیں۔جن کے تحت وہ اکتوبر 1993 میں بیلجئم میں گرفتار ہوئے تھے۔ 
امان اللہ خان 26 اپریل 2016  کو ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور خودمُختاری کا خواب آنکھوں میں لئے اس فانی دُنیا سے کوچ کر گے اور اپنی وصیت کے مطابق گلگت میں مدفون ہیں۔  موت ایک فطری عمل ہے اور ایک اٹل حقیقت ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا لیکن امان اللہ خان نے اپنے پیچھے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اُن کا احساس رہتی دُنیا تک موجود رہے گا۔  وہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ ہیں۔ 
 اے قلب شناسا ماتم کر اے چشم بناء سوگ منا
 جو روشنی بانٹے آیا تھا وہ  چاند وہ سورج  ڈوب گیا

*روزے کے مسائل میں غلط فہمیاں اور ان کا ازالہ*







از قلم:
*مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی*

روزہ کے بارے میں لوگوں میں پائی جانے والی گیارہ غلط باتیں جن کی کوئی حقیقت نہیں۔

*پہلی غلط فہمی*

❌❌الٹی آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے .
✅🕌 درست مسئلہ یہ ہے کہ از خود کتنی ہی الٹی یا قے آئے روزہ نہیں ٹوٹتا 
البتہ خود قصدا یعنی جان بوجھ کر مثلا انگلی وغیرہ منہ میں ڈال کر قے کی اور وہ منہ بهر ہو تو پهر روزہ ٹوٹ جاتا ہے
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*دوسری غلط فہمی*

❌❌یہ بهی مشہور ہے حالت روزہ میں احتلام ہو جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ حالت روزہ میں احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*تیسری غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ سحری میں آنکھ نہ کهلے اور سحری کهانا چهوٹ جائے تو روزہ نہیں ہوتا
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ سحری روزہ کے لئے شرط نہیں 
آپ نے رات میں روزے کی نیت کر لی تھی (یعنی دل میں روزه رکھنے اراده تھا) پهر سحرى  ميں آنکھ نهیں بھی کھلی تب بھی روزه هو جائے گا
🌄🍀🍀🍁🍀🍀🌅

*چوتھی غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں  کہ منہ ميں موجود تھوک یا بلغم نگل جانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا یا مکروہ ہوگا اسی بنا پر وہ بار بار تھوکتے رہتے ہیں 
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ منہ میں موجود تھوک اور بلغم نگلنے سے روزہ بالکل نہیں ٹوٹے گا

ہاں اگر کوئی بے وقوف منہ سے باہر مثلا ہتھیلی پر تھوک کر اپنی تھوک یا بلغم منہ میں دوبارہ ڈال کر نگل جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا *لیکن* ایسا عام طور پر کوئی نہیں کرتا
🌄🍀🍀🍁🍀🍀🌅

*پانچویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ چوٹ وغیرہ لگنے پر خون نکل آنے یا خون ٹیسٹ کروانے پر روزہ پر کوئی اثر پڑتا ہے 
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ روزہ کسی چیز کے معدے کے راستہ میں یا دماغ میں جانے سے ٹوٹتا ہے 
جسم سے کوئی چیز باہر آنے پر نہیں ٹوٹتا 
لھذا خون زخمی ہونے پر نکلے یا پھر ٹیسٹ کروانے کے لئے روزہ نہیں ٹوٹے گا
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*چھٹی غلط فہمی*

❌❌بعض لوگ سمهجتے ہیں کہ رات میں غسل فرض ہو جائے تو اب روزہ شروع ہونے کے بعد کلی یا ناک میں پانی افطار کے وقت ہی ڈالیں گے
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ روزہ شروع ہونے سے پہلے غسل فرض ہو یا روزہ میں احتلام ہو جائے روزہ کی حالت میں غسل کے تمام فرائض ادا کیے جائیں گے .غسل میں کلی کرنا اور ناک میں نرم حصہ تک پانی پہنچانا فرض ہے اس کے بغیر نہ غسل اترے گا نہ نمازیں ہوں گی.

البتہ روزہ ہو تو غرغرہ نہیں کریں گے اور عام دنوں میں بهی غرغرہ غسل کا فرض یا کلی کا حصہ نہیں جداگانہ سنت ہے وہ بهی اس وقت جب روزہ نہ ہو.البتہ روزہ کی حالت میں ناک میں پانی سانس کے ذریعے اوپر کھینچنے کی اجازت نہیں
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*ساتویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ جب تک اذان ہوتی رہے سحری میں کھانا پینا جاری رکھا جا سکتا ہے۔
✅🕌درست مسئلہ یہ هے کہ
 اذان فجر اور نماز فجر کا وقت تو تب شروع ہوتا ہے جب سحری کا وقت ختم ہو جاتا ہے  
لھذا جو سحری بند ہونے کے باوجود اذان ختم ہونے کا انتظار کرتے ہوئے کھاتا پیتا رہا اس نے اپنا روزہ برباد کیا اس کا روزہ ہوا ہی نہیں
🌄🍀🍀🍁🍀🍀🌅

*آٹھویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ روزہ میں انجکیشن لگانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا
✅🕌درست مسئلہ اگر یہ سوچ ان علماء کی پیروی کی وجہ سے ہے جن کا موقف یہی ہے تو ٹھیک ہے 
البتہ جو قوی اور مضبوط دلائل ہیں ان کی رو سے انجکشن لگانے سے *روزہ نہیں ٹوٹتا* ضرورت ہو تو ڈرپ بھی لگائی جا سکتی ہے۔
🌄🍀🍀🍁🍀🍀🌅 

*نویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ روزہ میں تیل , خوشبو لگانے اور موئے زیر ناف (یعنی ناف کے نیچے والے بال)بنانے  کو درست نہیں سمجھتے
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ یہ کام روزہ کی حالت میں جائز ہیں 
سرمہ لگانے سے بهی روزہ نہیں ٹوٹے گا.
البتہ کاجل کا حکم سرمہ والا نہیں کاجل سے بچا جائے
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*دسویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ حالت روزہ میں مسواک نہیں کی جا سکتی 
✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ مسواک کی جا سکتی ہے البتہ ٹوتھ پیسٹ اور منجن نہیں کر سکتے یونہیں مسواک میں یہ احتیاط رکھی جائے کہ ریشے حلق میں نہ جائیں 
🌅🍀🍀🍁🍀🍀🌄

*گیارہویں غلط فہمی*

❌❌کچھ لوگ سمجهتے ہیں کہ روزہ میں عطر یا خوشبو سونگھنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

✅🕌درست مسئلہ یہ ہے کہ مائع خوشبو  یعنی لیکوڈ حالت میں یا ٹھوس خوشبو سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا البتہ اگر کسی نے اگر بتی کا دھواں مثلا منہ یا ناک کے ذریعے اندر کھینچھاجو کامحالہ حلق میں جائے گا اور یونہی کسی بھی خوشبو دار یا غیر خوشبو دار دھوئیں کی دھونی اس طرح لی کہ مثلا اس کے دھوئیں کو ناک یامنہ سے حلق میں داخل کیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا
☘🍁🌴🌴🌴🍁☘

غازی ارطغل کون تھا؟




ارتغل غازی سلطنت عثمانیہ کے بانی ہے , آپکی پیدائش 1191 عیسوی میں ہوئی اور وفات 1280 عیسوی میں کچھ کتابیں 1281 بتاتے ہیں, آپ ہی کے تین بیٹے تھے گندوز, ساؤچی اور عثمان اور آپکے تیسرے بیٹے عثمان نے 1291 یعنی اپنے والد ارتغل کی وفات کے 10 سال بعد خلافت بنائی اور ارتغل کے اسی بیٹے عثمان کے نام سے ہی خلافت کا نام خلافت عثمانیہ رکھا گیا لیکن سلطنت کی بنیاد ارتغل غازی رح رکھ کر گئے تھے ….



اسکے بعد اسی سلطنت نے 1291 عیسوی سے لیکے 1924 تک , 600 سال تک ان ترکوں کی تلواروں نے امت مسلمہ کا دفاع کیا... 

اس کے ساتھ مسجد نبوی. گنبد خضریٰ اور مسجد حرام کی جدید تعمیر . سیدنا امیر حمزہ کا مزار . مکہ مکرمہ تک ایک عظیم الشان نہر .  آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار پرانوار کے گرد سیسہ پلائی دیوار .  مکہ مکرمہ تک ٹرین منصوبہ جیسے عظیم کارنامے سرانجام دیے...



ارتغل غازی کا خاندان وسطہ ایشیا سے یہاں آیا تھا اور انکے جدِ امجد اوغوز خان Oghuz khan کے بارہ بیٹے تھے جن سے یہ بارہ قبیلے بنے جن میں سے ایک یہ قائی قبیلہ Kayi تھا جس سے ارتغل غازی تعلق رکھتا تھا آپکے والد کا نام سلیمان شاہ تھا, ارتغل غازی کے تین اور بھائی تھے, صارم, ذوالجان اور گلدارو ,آپکی والدہ کا نام حائمہ تھا…



آپکا قبیلہ سب س پہلے وسطہ ایشیا Central asia  سے ایران پھر ایران سے اناطولیہ Anatolia آئے تھے منگولوں کی یلغار سے نمٹنے کےلئے..... جہاں سلطان علاو الدین جو سلجوک Seljuk سلطنت کے سلطان تھے اور یہ سلجوک ترک سلطنت سلطان الپ ارسلان Sultan Alap Arslan نے قائم کی تھی 1071 میں byzantine کو battle of Manzikert میں عبرت ناک شکست دے کے اور سلطان الپ ارسلان تاریخ کی بہت بڑی شخصیت تھی اور اسی سلطنت کا آگے جاکے سلطان علاؤ الدین بنے تھے…..



اسی سلطان علاوالدین کے سائے تلے یہ 12 قبیلے اوغوز خان Oghuz khan رہتے تھے, اور اس قائی قبیلے کے چیف ارتغل بنے اپنے والد سلیمان شاہ کی وفات کے بعد, سب سے پہلے اہلت Ahlat آئے تھے پھر اہلت سے حلب Aleppo گئے تھے 1232 جہاں *سلطان صلاح الدین ایوبی* کے پوتے الغزیز کی حکومت تھی, سب سے پہلے ارتغل نے العزیز کو اس کے محل میں موجود غداروں سے نجات دلائی پھر اس سے دوستی کی پھر سلطان علاو الدین کی بھتیجی حلیمہ سلطان سے شادی کی.... جس سے آپکو تین بیٹے ہوئے اوپر جو میں نے نام دیے ہیں, ایوبیوں اور سلجوقیوں کی دوستی کروائی, صلیبیوں کے ایک مضبوط قلعے کو فتح کیا جو حلب کے قریب تھا, اسکے بعد ارتغل سلطان علاو الدین کے بہت قریب ہوگیا….



اس کے بعد منگولوں کی یلغار قریب ہوئی تو ارتغل غازی نے منگول کے ایک ایم لیڈر نویان کو شکست دی ,نویان منگول بادشاہ اوکتائی خان کا Right hand تھا ,اوکتائی خان چنگیز خان کا بیٹا تھا اور اس اوکتائی کا بیٹا ہلاکو خان تھا جس نے بغداد کو اس قدر روندا تھا کہ بغداد کی گلیاں خون سے بھر گئی تھیں دریائے فرات سرخ ہو گیا تھا…

اسی نویان کو شکست ارتغل نے دی تھی…



اور پھر ارتغل غازی اپنے قبیلے کو لیکے سوغت Sogut آئے بلکل قسطنطنیہ Contantinople کے قریب, اور پہلے وہاں بازنطین Byazantine کے ایک اہم قلعے کو فتح کیا اور یہیں تمام ترک قبیلوں کو اکٹھا کیا اور سلطان علاو الدین کے بعد آپ کے بیٹے غیاث الدین سلطان بن گئے انکی بیٹی کے ساتھ ہی عثمان کی شادی ہوئی ایک جنگ میں    سلطان غیاث الدین شہید ہو گئے تو عثمان غازی سلطان بن گئے اور انکی نسل سے جاکے *سلطان محمد فاتح رح* تھے جس نے 1453 میں جاکے قسطنطنیہ فتح کیا تھا اور اسی پے حضور صلیٰ اللہ علیہ والہ وسلم کی غیبی خبر پوری ہوئی……

تاریخ میں ارتغل غازی جیسے جنگجو بہت کم ملتے ہیں لیکن ہماری نسل انکو جانتی نہیں بہت بہادر جنگجو تھے آپ…

 ہر واریئر جنگجو اسلام میں گذرا اس پہ جس نے کچھ نہ کچھہ اسلام کے لیئے کیا اس کا ایک روحانی پہلو ضرور ہے, اسکے پیچھے ایک روحانی شخصت ضرور ہوتی ہے جسکی ڈیوٹی اللہ پاک نے لگائی ہوتی ہے تاریخ اٹھا لیں بھلے اسلام کے آغاز سے لیکے اب تک آج بھی اگر کوئی اسلام کے لیئے امت مسلمان کے لیئے کوئی ڈیوٹی کر رہا ہے تو اسکا روحانی پہلو بھی ضرور ہوگا….

اس جنگجو ارتغل غازی کے پیچھے اللہ پاک نے ڈیوٹی لگائی تھی وہ *شیخ محی الدین ابن العربی رح* تھے  ( آپ درجنوں کتب کے مصنف ہیں اس کے ساتھ آپ نے قرآن پاک کی مایہ ناز تفسیر بھی لکھی علم کی دنیا کے بادشاہ جانے جاتے تھے اور تصوف میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے)  جو اندلس سے ارتغل غازی کی روحانی مدد کو پہنچے تھے…

امام ابن العربی نے ارتغل غازی کو دو مرتبہ موت کے منہ سے نکالا اور ہروقت ارتغل کی روحانی مدد کرتے رہتے تھے 


اللہ پاک ارتغل غازی کا رتبہ بلند فرمائے اور ہزاروں رحمتیں ہوں ان پے…
آمین

مرد کون ہے مرد کیا کرتا ہے






مرد کون ہے مرد کون ہے 
آپ نے لوگوں کو یہ زنانہ رونا تو بہت روتے دیکھا ہوگا کہ مرد ظالم ہے ، مرد وحشی ہے، مرد درندہ ہے اور عورت  کا کوئی احساس نہیں کرتا ہے ۔ لیکن 
*********
کیا آپ کو مردکی اس پنا ہ کے بارے میں بھی کسی نے بتایاہے کہ دس بہنوں کے ہوتے ہوئیں  کوئی بھی بہن خود کو اتنی محفوظ تصور نہیں کرتی جتنی کہ دس بہنیں ایک بھائی کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔
***کیا آپ کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے  بتایا ہے  جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس قربانی کے بارے میں بھی  کسی نے بتایا ہے کہ دن ہو یا رات ، سردی ہو یا گرمی ، بارش ہو یا طوفان ، جنگل ہو یا صحرا ، خشکی ہو یا تری مرد نے اپنوں کے لیے وہاں کام کیا  اورروٹی پانی کا بندوبست کیا ۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس  ترجیح کے بارے میں  بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب  اسے آخری وقت کی بیماری نے   آ لیا اور اسے اپنی  صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ اس نے اپنوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر نہ ہی خرچ ہو بلکہ اپنوں کے لیے ہی بچا رہے ۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس قربانی  کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے  کہ وہ بازار عید کی خریداری  کرنے کے لیے گیا  اور اس نے اپنوں کے لیے ساری خریداری کی  مگر جب اپنی باری آئی تو یہ سوچ کر  خریداری نہیں کی کہ میں  اپنے  لیے کچھ بھی خریدنے والی رقم سے اپنوں کے لیے ہی کچھ خرید لیتاہوں اور اپنے لیے  پچھلے سال کے جوتوں اور کپڑوں سے  کام چلالوں گا ۔ 
********
کیا آپ کو مرد کی اس  بلندہمت کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے  کہ جب اسے بتایا گیا کہ مرد کبھی روتا نہیں ہے تو اس نے  اپنی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں عورت کے آنسو تو صاف کیے لیکن خود کبھی رویا نہیں۔
********
کیا آپ کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کو بھی اس میں ضرور یاد رکھا۔ 
*******
آپ کو یہ تو بتایا جاتاہے کہ بڑے بڑے لوگوں کو جننے والی عورتیں ہیں لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا جاتاہے یہ ممکن کب ہوتا ہے ؟ کیوں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔
مرد  دھوپ میں سایہ ، مشکلات میں پاسبان ، ضرورت میں  مدد دینے والا،  اپنوں کے لیے سب سے لڑنے والا، اپنوں کے آنسو پونجنے والا ، غمخوار اور دکھ درد بانٹنے والا ہے۔
*******
مرد کبھی مکر کے ٹسوے بہاتے نہیں ، مرد نے کبھی اپنے  حصے کے کام سے ہاتھ نہیں کھینچا، مرد نے اپنوں کو چھت دیا اگر چہ اس کے لیے اس کو پہاڑوں کو کیوں نہ تراشنا پڑا اور مرد اپنوں کے لیے  ہمیشہ حالات کے تپھیڑوں سے لڑتاآرہاہے اور کبھی اس کا رونا رویا نہیں ہے ۔بڑی عجیب بات ہوگی کہ اب بھی اگر کوئی پوچھیں  کہ
مردکون ہے  ؟
آپ نے لوگوں کو یہ زنانہ رونا تو بہت روتے دیکھا ہوگا کہ مرد ظالم ہے ، مرد وحشی ہے، مرد درندہ ہے اور عورت  کا کوئی احساس نہیں کرتا ہے ۔ لیکن 
*********
کیا آپ کو مردکی اس پنا ہ کے بارے میں بھی کسی نے بتایاہے کہ دس بہنوں کے ہوتے ہوئیں  کوئی بھی بہن خود کو اتنی محفوظ تصور نہیں کرتی جتنی کہ دس بہنیں ایک بھائی کی موجودگی میں خود کو محفوظ تصور کرتی ہیں۔
***کیا آپ کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے  بتایا ہے  جب سڑک کراس کرتے وقت اس نے اپنے ساتھ چلنے والی فیملی کو اپنے پیچھے کرتے ہوئے خود کو ٹریفک کے سامنے رکھا۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس قربانی کے بارے میں بھی  کسی نے بتایا ہے کہ دن ہو یا رات ، سردی ہو یا گرمی ، بارش ہو یا طوفان ، جنگل ہو یا صحرا ، خشکی ہو یا تری مرد نے اپنوں کے لیے وہاں کام کیا  اورروٹی پانی کا بندوبست کیا ۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس  ترجیح کے بارے میں  بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب  اسے آخری وقت کی بیماری نے   آ لیا اور اسے اپنی  صحت یاب ہونے سے زیادہ اس بات کی فکر لاحق تھی کہ جو کچھ اس نے اپنوں کے لئے بچایا تھا وہ ان کی بیماری پر نہ ہی خرچ ہو بلکہ اپنوں کے لیے ہی بچا رہے ۔
********
کیا آپ کو مرد کی اس قربانی  کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے  کہ وہ بازار عید کی خریداری  کرنے کے لیے گیا  اور اس نے اپنوں کے لیے ساری خریداری کی  مگر جب اپنی باری آئی تو یہ سوچ کر  خریداری نہیں کی کہ میں  اپنے  لیے کچھ بھی خریدنے والی رقم سے اپنوں کے لیے ہی کچھ خرید لیتاہوں اور اپنے لیے  پچھلے سال کے جوتوں اور کپڑوں سے  کام چلالوں گا ۔ 
********
کیا آپ کو مرد کی اس  بلندہمت کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے  کہ جب اسے بتایا گیا کہ مرد کبھی روتا نہیں ہے تو اس نے  اپنی ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کے روپ میں عورت کے آنسو تو صاف کیے لیکن خود کبھی رویا نہیں۔
********
کیا آپ کو مرد کے اس تحفظ کے بارے میں بھی کسی نے بتایا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی بچوں کے لئے کچھ لایا تو اپنی ماں اور بہن کو بھی اس میں ضرور یاد رکھا۔ 
*******
آپ کو یہ تو بتایا جاتاہے کہ بڑے بڑے لوگوں کو جننے والی عورتیں ہیں لیکن آپ کو یہ نہیں بتایا جاتاہے یہ ممکن کب ہوتا ہے ؟ کیوں کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی ۔
مرد  دھوپ میں سایہ ، مشکلات میں پاسبان ، ضرورت میں  مدد دینے والا،  اپنوں کے لیے سب سے لڑنے والا، اپنوں کے آنسو پونجنے والا ، غمخوار اور دکھ درد بانٹنے والا ہے۔
*******
مرد کبھی مکر کے ٹسوے بہاتے نہیں ، مرد نے کبھی اپنے  حصے کے کام سے ہاتھ نہیں کھینچا، مرد نے اپنوں کو چھت دیا اگر چہ اس کے لیے اس کو پہاڑوں کو کیوں نہ تراشنا پڑا اور مرد اپنوں کے لیے  ہمیشہ حالات کے تپھیڑوں سے لڑتاآرہاہے اور کبھی اس کا رونا رویا نہیں ہے ۔بڑی عجیب بات ہوگی کہ اب بھی اگر کوئی پوچھیں  کہ
مردکون ہے  ؟

ہیرا منڈی لال بازار



ہیرا منڈی...👇

وه " لال بازار" کہلاتا تھا :
وہاں جسم بکتے تھے :😭💔
مجھے نہیں پتہ " گندے بازاروں " کو پاکستان میں " ہیرا منڈی " اور " لال بازار" کیوں کہتے ہیں :

اور نہ یہ پتہ ہے کہ " ہیرا منڈی " اور " لال بازار" آج بھی آباد ہیں : اس لئے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ نے فاصلے کم نہیں ، ختم کردئے ہیں ۔ اب " کال گرلز" کا دور دوره ہے : کون تکلیف کرے کہ
" لال بازار اور ہیرا منڈی " کے چکر کاٹے :
لیکن غربت برائیوں کی ماں ہے ۔ جب تک غربت موجود ہے ہیرا منڈی اور لال بازار کیسے ختم ہوسکتے ہیں ؟؟
مسلمان معاشرے میں ان بازاروں اور منڈیوں کا تصور کتنا بھیانک ہے ؟؟ اس بازار کا جنس کہاں سے آتا ہے ؟؟ کون ہے جو یہ نظام زنا چلاتا ہے ؟؟ پولیس کا تو ہر جرم اور گناه میں حصہ ہوتا ہے : اور کون ہے جو اس مالِ زنا سے حصہ اٹھاتا ہے : " رنڈی " کو کتنے پیسے چاہئے : کہ وه روز کئی بار " ترازو گناه" پہ اپنی قیمت لگاتی ہے :

افسوس : صد افسوس: کہ ان گناہوں کے پیچھے ہم جیسے ہی ہوتے ہیں ۔ کسی کو محبت کا جھانسا دے کر گھر سے فرار کا راستہ دکھایا : ہوس بجھتے ہی وفا کا ہار عورت کوپہنایا ۔ اور خود رفوچکر ؟؟؟ عورت کے لئے اس معاشرے میں نہ نکاح کے مواقع ہیں : نہ سیکس کی آزادی ہے : نہ غلطی پہ پچھتاوے کا موقع ہے : نہ توبہ کی گنجائش ہے : نہ معافی کا کلچر ہے : مرد آزاد ہے گناه میں ، جرم میں ، زنا میں ، غلطی میں ، پچھتاوے میں ، توبہ کیلئے ، اس لئے کہ مرد صبح کا بھولا ہوتا ہے وه گھر واپس اسکتا ہے :

 عورت زندگی بھر کی گناہگار ہوتی ہے وه واپس نہیں اسکتی : اس کا ٹھکانہ " ہیرا منڈی اور لال بازار" ہے جہاں وه روز ہنس ہنس کے مرتی ہے جسم بیچ کے جیتی ہے ۔ اور ملنگوں کے کشکول میں سکے ڈال کے معافی کی امیدوار بنتی ہے : اور ملنگ بھی دعا دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے : اللہ تیرا بھلا کرے بیٹا : اللہ تیرا بھلا کرے :

کون برا کون بھلا : یہ راز اللہ کو معلوم ہے : ہیرا منڈی اور لال بازار کا جنس بھی جنت جاسکے گا ؟؟ ان بازاروں کو آباد کرنے والے بھی جنت جاسکیں گے ؟؟ اور کیا ملنگ بھی جنت کے امیدوار ہونگے ؟؟ جو سب کچھ دیکھ کے بھی کشکول میں سکے گنتے ہیں سکوں کو تپیش دے کر ظالمانہ نظام کو داغتے نہیں : کہ یہ نظام جبر و ظلم ہی تو ہے : جو عدل کو کچل رہا ہے : ورنہ راضی خوشی کون اپنا جسم بیچتا ہے : وه بھی سنگھار کرکے 😢
اور کتنے بے غیرت ہے جو ان مجبوریوں سے لطف اٹھاتے ہیں : ہوس بجھاتے ہیں ؟؟؟

یورپ مکمل طور پر تباہ ہو کر بے کار زمین کا ٹکڑا بن جائیگا،باباوانگا کی ایک اور پیشنگوئی من و عن پوری ہونے لگی





بلغاریہ کی معروف خاتون نجومی بابا وانگا کی اب تک کئی پیش گوئیاں من و عن درست ثابت ہو چکی ہیں جن میں برطانیہ کا یورپی یونین سے الگ ہونا، نائن الیون کا سانحہ و دیگر شامل ہیں۔ اب 2020ءکے متعلق ان کی ایک اور پیش گوئی سچ ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق باباوانگا نے
پیش گوئی کی تھی کہ ”2020ءمیں یورپ شدید معاشی بحران اور کساد بازاری کی لپیٹ میں آئے گا اور اس کا وجود خاتمے کے قریب پہنچ جائے گا۔“ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے تناظر میں باباوانگا کی پیش گوئی کو دیکھا جائے تو یہ بھی من و عن درست ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق معاشی ماہرین فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک میں شدید کساد بازاری کا عندیہ دے رہے ہیں۔ 2020ءکی پہلی سہ ماہی میں فرانسیسی معیشت میں 6فیصد کمی آئی ہے جس کے ساتھ وہ کساد بازاری میں داخل ہو گئی ہے جو 1945ءکے بعد کی بدترین کساد بازاری ہے۔ یہ اعدادوشمار بینک آف فرانس نے گزشتہ بدھ کے روز جاری کیے۔ دیگر یورپی ممالک سے بھی ایسے ہی اعداوشمار سامنے آ رہے ہیں۔ چنانچہ اس تناظر میں بابا وانگا کی یہ پیش گوئی بھی درست ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔اپنی اس پیش گوئی میں بابا وانگانے کہہ رکھا ہے کہ ”2020ءمیں یورپ کو معاشی بحران اور کساد بازاری کے ساتھ کئی دیگر بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ براعظم بے کار زمین بن کر رہ جائے گا اور لگ بھگ ہر طر   کی زندگی یہاں ختم ہو جائے گی۔“ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

۔ ہمبستری کے مسائل: قرآن و حدیث کی روشنی میں

۔
:

* بیوی سے ہمبستری کرنا بھی صدقہ/ثواب ہے.
مسلم:2329
* میاں بیوی کسی بھی طریقے سے ہمبستری کر سکتے ہیں یعنی کوئ بھی sex style/sex position اپنا سکتے ہیں.
البقرہ:223
بخاری:4528 
ترمذی:2980
* حیض کے دوران ہمبستری کرنا حرام ہے.
البقرہ:222
* حیض کے دوران غلطی سے ہمبستری کر لینے سے اگر حیض کا خون سرخ ہو تو ایک دینار اور خون زرد ہو تو نصف دینار صدقہ کر دینا چاہیۓ.
ترمذی:137
ایک دینار ساڑھے چار ماشے یعنی تقریبا چار گرام کا ہوتا ہے.
* حیض کے دوران بیوی سے بوس و کنار , ساتھ لیٹنا اور ساتھ کھانا پینا وغیرہ جائز ہے.
مسلم:694
* نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیوی کی دبر (پچھلے سوراخ) میں جماع کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے.
ترمذی:1165 اور 2162
* دخول سے دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے انزال ہو یا نہ ہو.
بخاری:291
مسلم:783
ترمذی:111
* ہمبستری کے فورأ بعد غسل کرنا واجب نہیں. اگر سونے کا ارادہ ہو تو استنجا اور وضو کر کے سو سکتے ہیں.
مسلم:705
ترمذی:2924
* دوسری یا تیسری بار ہمبستری کرنی ہو تو ہر بار درمیان میں غسل کرنا واجب نہیں. استنجا اور وضو کافی ہے.
ترمذی:140, 141
* اگر کسی غیر عورت پر نظر پڑنے سے شہوت پیدا ہوجاۓ تو گھر جا کر اپنی بیوی سے ہمبستری کر لینی چاہیۓ.
مسلم:3407
* بیوی سے عزل کرنا جائز ہے.
بخاری:2229
عزل یہ ہے کہ جب آدمی کو انزال قریب ہو تو منی باہر گرا دے تاکہ بچہ پیدا نہ ہو. علماء نے عزل سے استدلال کر کے temporary family planning کے لیۓ condom کو جائز قرار دیا ہے.
* حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کا شیرخوار بچہ فوت ہو گیا, ان کے شوہر گھر آے تو انہوں نے ان کو کھانا دیا, رات کو ہمبستری کے بعد شوہر کو بتایا کہ اپنا بچہ فوت ہو گیا ہے. نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا دی.
مسلم:6322
* جب آدمی بیوی کو اپنی خواہش پوری کرنے کے لیۓ بیوی کو بستر پر بلاۓ تو اسے فورأ آجانا چاہیۓ اگرچہ وہ تنور پر (روٹی بنا رہی) ہو یا
کسی سواری پر بیٹھی ہو.
ترمذی:1169
ابن ماجہ:1853
* اگر شوہر کے بلانے سے بیوی بغیر کسی عذر کے نہ آے تو فرشتے ساری رات اس عورت پر لعنت بھیجتے ہیں.
مسلم:3541

*چھوٹا دھماکہ، بڑا دھماکہ* کورونا وائرس اور بعد کی صورتحال

:




 *چھوٹا دھماکہ، بڑا دھماکہ*

شاید کسی کو ناہید خان کا وہ انٹرویو یاد ہو، جس میں انہوں نے کارساز دھماکے کا قصہ سناتے ہوئے بتایا تھا، کہ بینظیر صاحبہ نے انہیں پہلے دھماکے کے بعد، جب سب زمین پر گر پڑے تھے، تو کھڑے ہونے سے منع کیا تھا، یہ کہہ کر کہ ابھی رک جائو، ابھی دوسرا بھی ہوگا _ اور دوسرا اصل ہوتا ہے، پہلا تو صرف مجمع اکھٹا کرنے کے لیے ہوتا ہے _ کویٹہ میں بھی باغی وکیلوں کی پوری کھیپ جو صاف کی گئی تھی، وہ بھی اسی طرح سے کی گئی تھی، پہلے چھوٹا دھماکہ پھر جب سب جمع ہوگئے تو اصل دھماکہ _ دجالی لوگ بلا کی چالاکی سے کام لیتے ہیں _ آپ مشکل انکی چالاکی کو سمجھ سکیں _

کرونا وائرس اصل میں وہ چھوٹا دھماکہ ہے، جسکے بعد ایک بڑا ۔۔۔ بلکہ آخری دھماکہ ہوگا _ اصل میں اس وائرس کے زریعے، تمام دنیا میں اسکی ویکسین لگوانا لازمی قرار دے دیا جائے گا _ آپ بغیر ویکسین لگوائے  اور سرٹیفیکیٹ حاصل کیے ہوئے، نہ ہوائی سفر کرسکیں گے، نہ حج و عمرہ، نہ زیارتوں کو جا سکیں گے ، یہاں تک کہ نکاح نامہ یعنی شادی بھی نہ ہوسکے گی _ بچوں کو اسکول میں داخلہ نہیں ملے گا _ اس کام میں پہلے سے شامل بل گیٹس جیسے مخیر حضرات دل کھول کر غریب ممالک کی امداد کریں گے _

اب آپکی شاید سمجھ میں یہ بھی آ جائے ، کہ ایک کمپیوٹر سافٹویئر کی صلاحیت رکھنے والے دنیا کا امیر ترین شخص، اپنا کام چھوڑ کر ویکسین کی فیلڈ میں کیوں گھس گیا تھا

کچھ لگ رہا ہے ہونے کو
دل کر رہا ہے  رونے کو

 اس کام میں پانچ سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے _ مگر اسکے بعد تمام لوگوں کی رگوں میں یہ ویکسین دوڑ رہی ہوگی، یوں سمجھیں کہ ایک سرکاری وائرس دوڑ رہا ہوگا ، جسے کبھی بھی، کسی بھی طرح سے متحرک کیا جاسکے گا _ کبھی بھی کہیں بھی کوئی وبا پھیلائی جاسکے گی، اور کم خرچ اور بالا نشین انداز سے ایسا حملہ کیا جاسکے گا، کہ جس میں نہ ہتھیار استعمال ہونگے ، نہ املاک کو نقصان پہنچے گا _

اسی دوران دشمن کو ویکسین بیچ کر اور قرضہ دے کر مزید اپنے جال میں پھنسایا  جا سکے گا _ اس تمام جنگ میں ظالم و غاصب ایک مددگار کے طور پر ابھرے گا _ جیسا کہ حدیث شریف میں دجال کا اپنے آپ کو مسیحا ظاہر کرنے کے بارے میں پہلے سے درج ہے _ تو بھائیوں، کرونا یا کووڈ-19, کا کام صرف آپکو ویکسین لگوانے کے لیے تیار کرنا ہے _ اصل دھماکہ اس کے بعد ہوگا _ اللہ ہم سب کو دجال کی چالوں اور فتنہ سے محفوظ رکھے _ کم از کم ایمان کے ساتھ موت عطا فرما اور پابندی سے سورہ کہف پڑھنے کی توفیق دے، خاص طور پر جمعے کو ، جو فتنہ دجال سے بچاتی ہے _

بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ
کچھ نہ سمجھے ،  خدا کرے کوئی

 *ایک* *نئی* *تھیوری* ...: کرونا وائرس، 5G اور ایجنڈہ نینو چپ ۔ ۔ ۔ ۔ !

اکانومسٹ میگزین اپریل 2020 شمارے میں 5 خفیہ پلانز کا اعلان کیا گیا ہے۔
 اس تحریر میں پانچوں یہودی پلانز کو ڈی کوڈ کیا جائے گا۔

نمبر 1 : *Everything* *is* *Under* *Control*

اس کے معنی ہیں
"ہر چیز طے شدہ منصوبے کے مطابق ہمارے کنٹرول میں ہے"۔

ایک طرف پوری دنیا کرونا سے ڈر کر گھروں میں بیٹھی ہوئی ہے، حکومتیں سکڑ کر دارالحکومتوں تک محدود ہو گئیں،
عوام کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے، کئی ممالک کو اپنی حیثیت برقرار رکھنے کے خطرے کا سامنا ہے

لیکن آپ دیکھیں وہیں یہودی میگزین فخریہ کہتا ہے کہ Everything is Under Control.

یہ بات عقلمندوں کے کان کھڑے کرنے کے لئے کافی ہے۔
کرونا وائرس کے ذریعے جس جال کو بچھایا گیا ہے وہ بالکل توقعات کے عین مطابق پورا ہو رہا ہے
 تبھی تو یہودی میگیزین فخریہ کہتا ہے کہ سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ان کے کنٹرول میں ہے۔

نمبر 2 : *Big* *Government*

اس سے مراد عالمی حکومت ہے۔
اس بڑی حکومت کو یہودی دانا بزرگوں کی خفیہ دستاویزات
 دی الیومیناٹی پروٹوکولز میں
 "سپر گورنمنٹ" کے نام سے بار بار بیان کیا گیا ہے۔
 اس کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں جن کے مطابق پوری دنیا کی ایک ہی "عالمی سپر گورنمنٹ" بنائی جائے گی
 جس کا حکمران فرعون و نمرود کی طرح پوری دنیا پر اپنے مسیحا کے ذریعے حکمرانی کرے گا

یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھوں گا کہ ان کی عالمی حکومت بن چکی ہے۔
 یہ اقوام متحدہ ہے۔
صرف اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔
 ان کا منصوبہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی بھی وقت دنیا میں کرائسز پیدا کرکے (جیسے اس وقت ہیں) اقوام متحدہ کو ایک عالمی سپر حکومت میں تبدیل کر دیا جائے گا۔
 اقوام متحدہ کے جو بھی ادارے ہوں گے انہیں وزارتوں میں تبدیل کرکے اسے عالمی سپر گورنمنٹ قرار دے دیا جائے گا اور اس حکومت کی باگ دوڑ یہودی النسل ایسے شخص کے ہاتھ دی جائے گی
 جو دجال کے لیے ہیکل سلیمانی تعمیر کرے گا اور یہودیوں کو چھوڑ کر باقی پوری دنیا کی اقوام کو اپنا غلام بنا لے گا۔

اب موجودہ دور میں آ جائیں،

برطانوی وزیراعظم سے لیکر بہت سے عالمی رہنماؤں نے اب کھل کر کہنا شروع کر دیا ہے کہ
 ایک عالمی حکومت بننی چاہیے۔ یہ سب اسی عالمی سپر گورنمنٹ بنانے کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔

اب اگر اقوام متحدہ کا کوئی ایسا حکمران بن جائے جو ویکسین دینے کا اعلان کر دے
 تو دنیا کا کون سا ملک ہو گا جو اس کی حکمرانی تسلیم نہ کرے گا ؟؟

نمبر 3 : *Liberty*

لبرٹی کا مطلب ہے "آزادی"۔
یہاں آزادی سے مراد دنیا کو جو آزادی حاصل ہے اس کا کنٹرول اس "خفیہ ہاتھ" کے پاس ہے
جو اکانومسٹ نے بطور علامت اپنے کور فوٹو پر نمایاں کیا ہے۔

یہ وہ "خفیہ ہاتھ" ہے جو پردے میں رہ کر پوری دنیا کو چلاتا ہے۔

آپ اس ہاتھ کو یہودیوں کے 13 خفیہ خاندان سمجھیں

جو پوری دنیا کی معیشت، زراعت، میڈیا، حکومت الغرض ہر چیز کی باگ دوڑ سنبھالتے ہیں، ورلڈ بینک ہو یا آئی ایم ایف یہ تمام ادارے ان کے فنڈز سے چلتے ہیں،

 اقوام متحدہ کا خرچہ پانی یہی دیتے ہیں، اقوام متحدہ کے تمام بڑے اداروں کے سربراہاں ان کے اپنے لوگ اور یہودی النسل ہیں۔

 اقوام متحدہ کو آپ ان کے گھر کی لونڈی سمجھیں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے ادارے درحقیقت اقوام متحدہ کے ادارے ہی ہیں۔

 آج یہ 13 یہودی خاندان اپنے مسیحا کے انتظار میں ہیں جس کے بارے حال ہی میں اسرائیلی یہودی ربی اور یہاں تک کہ اسرائیلی سرکاری وزراء بھی اعلان کر چکے ہیں کہ مسیحا اسی سال آ رہا ہے۔

 ایک نے تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ مسیحا سے ملاقات بھی کر چکا ہے اور بتا دیا کہ مسیحا اسی سال کسی بھی وقت آ جائے گا۔
یعنی یہ لوگ جانتے ہیں کہ مسیحا کون ہے لیکن اس کا فلحال اعلان نہیں کر رہے۔

نمبر 4 : *وائرس*

یعنی کہ "کرونا وائرس" کا کنٹرول بھی اسی "خفیہ ہاتھ" کے پاس ہے۔ جب پوری دنیا وائرس کے خوف سے کانپ رہی ہے
تو یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ وائرس ان کے قابو میں ہے؟

یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ وائرس کے ذریعے انہوں نے پوری دنیا کو اپنے قابو میں کر رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع خود کہتے ہیں کہ ہمیں وائرس سے کوئی پریشانی نہیں ہے.
کیونکہ جب 70 فیصد آبادی کو کرونا متاثر کر لے گا تو پھر ازخود ختم ہو جائے گا۔
یعنی وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ اتنے فیصد آبادی متاثر ہو گی لیکن ساتھ ہی کسی قسم کی انہیں پریشانی بھی نہیں ہے،
یہ اس بات کی علامت ہے کہ پردے کے پیچھے وہ بہت کچھ جانتے ہیں جب ہی تو بالکل مطمئن ہیں،
اسی لیے نہ لاک ڈاؤن کرتے ہیں نہ ہی انہیں کوئی پریشانی ہے بلکہ اعلانیہ کہتے ہیں کہ وائرس ان کے قابو میں ہے۔

نمبر 5 : *The* *Year* *Without* *winter*

اس کو اگر ڈی کوڈ کریں تو اس کا مطلب ہو گا کہ اس سال دنیا کو موسم سرما گھروں میں قید رہ کر گزارنا پڑ سکتا ہے۔
 یاد رہے اس وقت سال کا چوتھا مہینہ اپریل چل رہا ہے
لیکن انہوں نے اعلان کر دیا ہے کہ اس سال موسم سرما نہیں ہو گا
 یعنی دنیا موسم سرما کے مزے اس سال نہیں لے سکے گی ۔

یہاں یہ بتانا ضروری سمجھوں گا کہ کرونا وائرس پر بنی فلم Contagion میں بھی ایک ڈائلاگ بالکل ایسا ہی سننے کو ملتا ہے۔

ایک لڑکی ویکسین کی عدم دستیابی پر اکتاتے ہوئی کہتی ہے کہ یعنی اس سال میرا موسم سرما برباد ہو جائے گا
کیونکہ مجھے گھر میں قید رہ کر گزارنا ہو گا۔

اکانومسٹ میگزین، کانٹیجئین فلم اور موجودہ صورتحال کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔
 اگر حالات بالکل اس فلم جیسے ہی چلتے ہیں تو پھر آپ کو وقت سے پہلے ہوشیار رہ کر تیاری کرنی ہو گی۔

 اگر لاک ڈاؤن مزید چند ماہ چلتا ہے تو ہر ملک کے پاس کھانے پینے کی اشیاء کی قلت ہو جائے گی،
 ڈاکے پڑنا شروع ہو جائیں گے،
 اس دفعہ لوگ پیسے نہیں بلکہ روٹی اور راشن چھیننے کے لیے ایک دوسرے پر بندوق چلائیں گے۔

 اس فلم میں بلکل ایسے ہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔

اسکے علاوہ ۔ ۔ ۔۔

کچھ اور عوامل بھی ہیں جنہیں ابھی تک اکانومسٹ میگزین نے نمایاں نہیں کیا۔
شاید اگلے مہینے کے شمارے میں ظاہر کر دیں۔ میں آپ کو پہلے ہی آگاہ کر دیتا ہوں۔

 *پہلا* *پروجیکٹ* *5G* *ہے* :

سب سے پہلے 5G انسٹالیشن ہے جو لاک ڈاؤن کے دوران دنیا کے بیشتر ممالک میں چپکے سے کی جا رہی ہے۔

عالمی میڈیا کو اس کی رپورٹنگ سے روکا گیا ہے۔ میڈیا پر آپکو 5G کے متعلق کوئی خبر نہیں ملے گی۔

 لندن  میں مکمل لاک ڈاؤن ہے لیکن وہاں 5 جی انسٹالیشن کا عملہ پھر بھی دن رات پولز پر ٹاورز نصب کرنے میں مصروف ہے۔

پاکستان میں ٹیلی نار اور زونگ کمپنیوں نے اشتہارات کے ذریعے 5جی کی پروموش شروع کر دی ہے۔

آخر یہ 5G کیا بلا ہے؟

یہ آپ کے لیے سمجھنا بہت ضروری ہے۔

یہ دراصل انٹرنیٹ اسپیڈ کی تیز ترین رفتار ہے
جو اگر کسی علاقے میں لگا دی (انسٹال) کر دی جائے تو اس پورے علاقے کو ایک "سپر کمپیوٹر" کے ذریعے ہر وقت وڈیو پر دیکھا جا سکے گا،
علاقے کا کوئی فرد ایسا نہیں بچے گا جس کی جاسوسی ممکن نہ ہو۔

موبائل سے لیکر ٹی وی. ایل سی ڈی یا ایل ای ڈی ، فرج، آٹو پارٹس اور گھر کی تمام اشیاء میں نصب چھوٹے خفیہ کمیروں کے ذریعے چوبیس گھنٹے ہر فرد کی جاسوسی ممکن ہو جائے گی۔

ملٹری سطح پر یہ کام پہلے ہی دنیا کی بڑی افواج کرتی رہی ہیں
 لیکن عوامی سطح پر اسے لانے کا بہت زیادہ سائنسی نقصان بھی ہے

کیونکہ اس ٹیکنالوجی کی شعائیں انسانی دماغ کے لئے انتہائی خطرناک ہیں،

ماہرین کے مطابق 5G سگنلز میں رہنے والا انسان ایسا ہو گا جیسے اسکا دماغ مائیکرو ویو اوون میں پڑا ہوا ہو۔
یہ انسان کو مختلف ذہنی بیماریوں کا شکار کر دے گی
 لیکن خفیہ ہاتھ کو اس کی پرواہ نہیں کہ انسانوں کے دماغ پر کیا بیتتی ہے،
انہیں صرف پوری دنیا کو ڈجیٹلائیز کرنا ہے اور اس مقصد کے لئے لاکھوں انسانوں کو مارنا پڑا تو وہ اس سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔

دوسرا پروجیکٹ *Nano* *Chip* بذریعہ ویکسین :

حال ہی میں ایک آرٹیکل پڑھا جس میں بل گیٹس نے 1 بلین ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا۔

یہ اعلان پوری دنیا کو ڈجیٹلائیز کرنے کے متعلق تھا۔ سوال یہ ہے کہ پوری دنیا کو ڈجیٹلائز کیسے کیا جائے گا؟

اسکا جواب ہے 5G اور Nano chip سے۔

دیکھیں 5G کے ٹاورز بظاہر تو آپ کو انٹرنیٹ کی تیز سپیڈ دینے کے لئے ہوں گے
 لیکن ان کا اصل خفیہ مقصد انسانوں میں لگی نینو چپ
(بہت زیادہ چھوٹی چپ)
 میں جمع ہونے والا ڈیٹا
 (یعنی آپ کی دماغی سوچ) کسی خفیہ جگہ جمع کرنا ہو گا۔
وہ "خفیہ ہاتھ"جسے آپ اکانومسٹ میگزین پر دیکھ سکتے ہیں پوری دنیا کے انسانوں کے دماغوں میں پیدا ہونے والی سوچ کو کسی نامعلوم جگہ پر اپنے "سپر کمپیوٹر" کے ذریعے دیکھے گا۔

میں وثوق سے کہہ دیتا ہوں
 وہ یہودیوں کا مسیحا ہو گا جو "اقوام متحدہ کی سپر گورنمنٹ" سنبھالتے ہی ان ٹیکنالوجیز سے انسانوں کے دماغ بھی پڑھ لے گا
 بلکہ کسی کے بولنے سے پہلے اس کے خیالات بھی جان لے گا۔

بالکل ایسی ہی ایک حدیث بھی ملتی ہے کہ دجال ایک جگہ سے گزرے گا جہاں کسی شخص کے والدین فوت ہو گئے ہوں گے،
 وہ شخص سوچ رہا ہو گا کہ کاش میرے والدین دوبارہ زندہ ہو جائیں،

دجال اس کی یہ سوچ اور خواہش پہچان لے گا اور اس کے بولنے سے پہلے ہی اس کے پاس جا کر اسے کہے گا کہ اگر میں تمہارے والدین کو زندہ کر دوں تو کیا تم مجھے خدا مان لو گے۔
وہ شخص بولے گا ہاں کیوں نہیں،

 پھر دجال اپنے شیاطین کو حکم دے گا وہ اس شخص کے والدین کے مردہ اجسام میں داخل ہو کر زندہ ہو کر کھڑے ہو جائیں گے اور اس شخص کو کہیں گے کہ بیٹا یہ (دجال) تمہارا رب ہے اس کی بات مان لو، اس کی اطاعت کرو۔

یہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دجال اور اس کی قوتوں کو شیاطین کی مدد حاصل ہو جائے گی۔
یعنی وہ کسی ایسی ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے جس سے دنیا میں موجود  غیر مرئی مخلوق یعنی "جنات" سے ان کا رابطہ ممکن ہو جائے گا اور اسی کی مدد سے دجال  شیطانوں سے مدد لے گا۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
اللہ روئے زمین کے تمام شیاطین کو دجال کے تابع کر دے گا
(تاکہ اس فتنہ عظیم سے دنیا کے آخری بہترین مسلمانوں کی آزمائش کرے)۔ 

اب اس سارے منظرعام کو اگر مختصر بیان کیا جائے تو یہ کچھ ایسا ہو گا کہ؛

"خفیہ ہاتھ" کامیاب ہو رہا ہے، ہر چیز طے شدہ منصوبے کے مطابق ان کے کنٹرول میں ہے۔
کرونا وائرس سے دنیا کو لاک ڈاؤن کروا کے وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو رہے ہیں،

ساتھ ہی انہوں نے چپکے سے 5G انسٹالیشن شروع کر دی ہے

اور بل گیٹس نے نینو چپس کی شروعات کے لئے اقوام متحدہ سے 1 بلین ڈالر کا معاہدہ بھی کر لیا ہے ،

اس معاہدے میں ویکسین بنے گی اور اسی ویکسین کے اندر اتنی چھوٹی نینو چپ ہو گی کہ جو انسان کو خوردبین سے ہی نظر آ سکتی ہے،
وہ دنیا کے ہر انسان کو دی جائے گی۔ *Contagion* فلم میں جو ویکسین سب کو دی جاتی ہے وہ ناک میں ڈالی جاتی ہے اور ساتھ ہی ایک ڈجیٹل کڑا ہاتھ میں پہنا دیا جاتا ہے

جس سے ان کو کسی "خفیہ جگہ" سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے۔

اب مجھے پورا یقین ہے
بل گیٹس بھی اقوام متحدہ کو چلانے والے "خفیہ ہاتھ" کے ساتھ مل کر ایسی ہی ویکسین بنائے گا جو ناک یا منہ میں ڈالی جائے گی اور اسی کے ذریعے نینو چپ بھی ہر انسان کے جسم میں داخل کی جائے گی۔
چونکہ چپ انتہائی چھوٹی ہے اور کسی بھی ویکسین کے ذریعے جسم میں ڈالی جا سکتی ہے
لہذا کسی انسان کو پتا ہی نہیں چلے گا کہ وہ چپ زدہ ہو چکا ہے۔

دجال کو دنیا میں خوش آمدید کہنے کی تیاریاں عروج پر ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

جو پہلے سے اس فتنے سے آگاہ ہوں گے وہی اس سے بچ پائیں گے ۔

جو لاعلم ہوں گے وہ پھنس جائیں گے، بہک جائیں گے، گمراہ ہو جائیں گے،
سیلابی پانی میں تنکوں کی طرح بہہ جائیں گے۔

خواتین و حضرات سے درخواست ہے کہ اس دجال کے فتنے کو قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کی بھر پور کوشش کریں
 اور اس فتنے سے بچنے کے لئے دین اسلام میں جو راہنمائی دی گئی ہے اسے اپنی زندگیوں میں فوری طور پر اختیار کریں
 تاکہ کہیں بے خبری میں اپنی دنیا و آخرت اپنے ہاتھوں سے برباد نہ کر لیں
دجال کے فتنے سے بچنے کے لئے سورہ الکہف کی پہلی دس آیات کی روزانہ تلاوت کریں اور دجال کے فتنے سے بچنے کی مسنون دعائیں یاد کر کے اپنے معمول کے اذکار میں
شامل فرمائیں

اللہ تعالیٰ ہمیں توبہ کرنے اور قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے

 آمین ثم آمین یا رب العالمین

پوسٹ پسند نہیں آئی تو پوسٹ کو چھوڑ کر چپ چاپ آ گے بڑھ جائیے ۔۔۔ پسند آئی ہو تو حوصلہ افزائی کیلئے اچھا کمنٹ کیجئے اور آگے شیئر کر دیجئے کئی حضرات کو شدید ضرورت ہوگی ۔۔

‏سپین کے ایک شہر کے سمندر کے نزدیک واقع دکان پر ایک جرمن معمر جوڑا جو چھٹیاں گزارنے اس جزیرہ پر آیا




‏سپین کے ایک شہر کے سمندر کے نزدیک واقع دکان پر ایک جرمن معمر جوڑا جو چھٹیاں گزارنے اس جزیرہ پر آیا ہوا تھا،،کچھ خریداری کے لیئے میرے پاس آیا ۔انکے ساتھ  14،15 سال کی ایک بچی بھی تھی۔ان بزرگوں نے اپنے لیئے تو کچھ نہ خریدا لیکن بچی کو وہ مختلف چیزیں دکھاتے رہے ۔میں نے سوچا کہ ‏چند منٹ ان کو خود تسلی آرام سے سوچنے اور فیصلہ کا موقع دوں تا کہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔ کچھ دیر بعد میں نے ان سے خریداری کے سلسلے میں ان کی مدد کرنے کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی اس پوتی کے لیئے پرس خریدنا ہے۔بچی کو چند پرس دکھائے۔
 بالآخر  بچی نے اپنے لیئے ایک‏پرس پسند کیا۔۔۔۔

اکثریت جرمن لوگ اپنی ذبان میں گفتگو کو ہی اہمیت دیتے ہیں۔حالانکہ ماسوائے 10 فیصد کے سب انگلش سمجھتے بھی ہیں اور بہت مجبوری میں بول بھی لیتے ہیں۔چونکہ مجھے جرمن کے 2۔۔4 الفاظ کے علاوہ جرمن ذبان نہیں آتی لہذا میں انگلش میں ہی سیاحوں سے بات چیت کرتا ہوں۔ میں نے ان ‏سے چند رسمی کاروباری جملے بولے۔جرمن جوڑا تو انگلش اچھی سمجھتے بولتے تھے لیکن بچی سے وہ جرمن ذبان میں کچھ پوچھ کر مجھے ترجمہ کر کے بتاتے۔میں نے دریافت کیا کہ آپ تو بہت اچھی انگلش جانتے ہیں لیکن کیا وجہ ہے کہ بچی نہیں جانتی؟

انھوں نے بتایا کہ اگر آپ عربی بول سکتے ہیں تو آپ اس سے
‏عربی میں بات کر سکتے ہیں۔مجھے بہت حیرانی ہوئی۔پوچھا آپ جرمن اور اس بچی کو اپ نے انگلش کے بجائے عربی سکھائی؟کچھ سمجھ نہیں آیا۔۔(چونکہ میں تو اس بچی کو ان کی پوتی سمجھ رہا تھا )
      ایسا لگ رہا تھا کہ میرا سوال ان کے لیئے بھی مشکل تھا۔دونوں میاں بیوی نے ایک دوسرے کو دیکھا اور

‏کچھ ہچکچاہٹ کے بعد مجھے جواب دیا۔۔
جو جواب انھوں نے دیا۔اس نے مجھے حیران بھی کیا اور ان کے لیئے میرے دل میں عزت تکریم میں بھی اضافہ ہوا۔
انکے جزبہ انسانیت سے متاثر ہو کر ان کی مرضی سے انکی تصویر لی اور پھر اسے فیس بک پر پوسٹ کرنے کی بھی اجازت حاصل کی۔۔

انکا جواب تھا۔۔

‏یہ بچی مسلمان اور شامی ہے۔۔شام کے اپنے ملک سے ہزاروں دربدر خاندانوں میں سے ایک خاندان کی یہ بھی بچی ہے  اور ہم نے اسکو  اسکی مصیبت پریشانی   میں مدد کے نکتہ نظر سے Adopt کیا ہے یعنی اب اسکی پرورش تعلیم اور ضروریات ذندگی کی زمہ داری مستقل طور پر ہمارے زمہ ہے۔اور ہم اسکے ساتھ بہت

‏خوش اور مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارے دنیا میں آنے کا کچھ فائدہ ہوا یا ہماری قیمتی خوبصورت ذندگی کا ایک قرض ادا ہو گیا (اور آپ شائد جانتے ہوں کہ جرمن پوری دنیا میں واحد ملک ہے یا شائد واحد غیر مسلم ملک جس نے بہت بڑی تعداد میں شامیوں کو اپنے ملک میں پناہ دی۔) 
صرف یہ اس ایک

‏جوڑے کی بات نہیں جرمنی میں لوگوں نے اپنے گھروں کے دروازے شامی مہاجرین کے لیئے کھول دیئے ۔
یہاں مجھے جرمن چانسلر انجیلا مارکل کی وہ بات شدت سے یاد آ رہی ہے جو اس نے سعودی بادشاہ کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں "عالی جاہ " نے فرمایا کہ ہم شامی مسلمانوں کو جرمنی میں 200 مساجد بنا

‏کر دیں گے۔انجیلا کا جواب تاریخ کی کتابوں کے۔نمایاں باب میں درج ہو گا۔۔اس نے جواب میں کہا:
"سعودیہ شامیوں کے لیئے جرمنی سے زیادہ نزدیک تھا۔شامیوں کو مشکل وقت میں مساجد کی نہیں ہمدردی پناہ اور خوراک کی ضرورت تھی جرمنی نے شامیوں کے لیئے بانہیں پھیلائیں۔اگر جرمنی انکی خوراک رہائش

‏تعلیم صحت کی سہولیات کا بندوبست کر سکتا ہے تو مستقبل میں مساجد بنانا بھی کوئی مشکل نہیں
انسانیت کا درد رکھ کر جئیں۔اور اپنے آس پاس رنگ و نسل قوم اور مذہب مسلک کی تفریق سے بالا تر ہو کر ہر ضرورتمند کے لیئے جتنا آپ کے اختیار میں ہے وہ ضرور کریں

Breaking__News معروف آسٹریلوی باکسر نے اسلام قبول کرلیا




Breaking__News معروف آسٹریلوی باکسر نے اسلام قبول کرلیا

آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے معروف باکسر ہیلم اوٹ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو پیغام میں اسلام قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن نے مجھے اسلام کے آفاقی پیغام کو سمجھنے کا موقع دیا۔ مسلسل مطالعے اور غور و فکر کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جس میں دین و دنیا کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔اکسر ہیلم اوٹ نے ویڈیو پیغام میں کلمہ طیبہ بھی پڑھ کر اپنے ایمان کی تصدیق کی اور اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ ہیلم اوٹ نے مداحوں سے دین اسلام پر استقامت اور اس کی اصل روح کے مطابق زندگی بسر کرنے کے لیے دعاؤں کی درخواست بھی کی۔ سوشل میڈیا صارفین نے باکسر کے اس فیصلے کو سراہا ہے۔واضح رہے کہ باکسر ہیلم اوٹ مارشل آرٹس (ایم ایم اے ) فائیٹنگ میں یورپین چیمپیئن شپ کا ٹائٹل بھی جیت چکے ہیں۔

سپر پاور کون ہے




آج سے کچھ عرصہ پہلے ایک میٹرک کے دوست سے ملاقات ہوئی۔۔کھانے کے دوران باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ گورے اس لیے کامیاب ہیں کیوں کہ وہ ایک یا دو سلائس کھاتے ہیں، اور ہم پاکستانی جب تک تین چار روٹیاں نہ کھائیں ہمیں آرام نہیں آتا۔ اس لئے ہم سست ہیں۔ حالانکہ دنیا میں سب سے زیادہ موٹے امریکہ میں ہیں (35 فیصد) 
2002 میں ایک دفعہ مجھے افغانستان ایک آڈٹ پر جانے کا اتفاق ہوا۔۔وہاں شام کے وقت ایک دوست کے ساتھ بلیرڈ کھیلنے والی جگہ پر چلا گیا وہاں افغانیوں سے بات کرتے کرتے ایک افغانی نے کہا، کہ ہم کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں کہ پاکستانی تو دودھ والی چائے پیتے ہیں اور ہم سبز قہوہ، جس کے اندر کوئی غذائیت نہیں۔ میں تھوڑا حیران ہوا کیوں کہ پشاور میں اکثر ہم آپس میں یہ کہتے تھے کہ افغانیوں کا قہوہ زیادہ اچھی چیز ہے اور ہم جو چائے پیتے ہیں یہ نقصان دہ ہیں۔ 

الغرض بات یہ ہے کہ ہماری قوم دوسری قوم کی چھوٹی چھوٹی باتوں سے احساس کمتری کا شکار ہو کر یہ سمجھنا شروع کر دیتی ہے کہ دوسری قومیں اس لئے کامیاب ہیں کیونکہ ان میں کچھ خاص صلاحیت ہیں جو ہم میں نہیں۔۔۔مثلا اگر ہم کوڑا باہر پھینک رہے ہوں گے تو وہ کہیں گے دیکھو چین میں لوگ ایسا نہیں کرتے یا فرانس میں لوگ ایسا نہیں کرتے، (حالانکہ پاکستان میں بھی جو علاقے صاف ستھرے ہوتے ہیں وہاں پر بھی لوگ ایسا نہیں کرتے مثلآ ڈی ایچ اے، کینٹ، بحریہ ٹاؤن، یا اسلام آباد کے صاف ستھرے ایریاز وغیرہ)۔

یا ان کی نظر میں قطار میں کھڑے ہونا وہ صلاحیت ہے جس کی وجہ سے مغرب کامیاب ہیں اور ہم ناکام ہیں۔۔(حالانکہ مغرب میں بھی اگر گاڑیاں مقرر وقت پہ نا آئے تو اس سے بری صورتحال ہو جاتی ہے جتنی کی ہمارے ہاں ہے)

کچھ لوگ مغرب کے سائنس و ٹیکنالوجی کے معیار کو بنیاد بنا کر قوم کو کوستے رہتے ہیں کیوں انہوں نے اب تک سائنس و ٹیکنالوجی میں ترقی نہیں کی حالانکہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے ممالک نیو کولونیل دور سے گزر رہے ہیں جس میں مغرب بالواسطہ طور پر ہمارے حکمرانوں اور نظام کے ذریعے ہمارے معاملات کو کچھ اسالیب سے کنٹرول کرتا ہے اور ہمیں ایک خاص حد سے آگے جانے نہیں دیتا۔ اور مغرب کے چہیتے حکمران ہی ہم پر مسلط ہو پاتے ہیں۔ 

پر کچھ لوگ مغرب کے کسی ارب پتی شخص کی عزم استقامت یا ثابت قدمی کو مثال بنا کر کہیں گے کہ دیکھو مغرب میں یہ صلاحیت ہے اس لیے وہ ہم سے آگے ہے۔اور اس وقت وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام ایسے لوگوں کو راستے ہموار کرکے دیتا ہے جب کہ ہمارے حکمران کسی جہاز بنا کر اڑانے کی کوشش کرنے والوں کو جیلوں میں ڈال دیتے ہیں اور یہاں اے کیو خان گھر کے اندر نظربند زندگی گزارتا ہے۔ 

کوئی ہمیں یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ مغرب میں انصاف سستا ہے حالانکہ وہاں پر انصاف ہمارے ملکوں سے کئی گنا زیادہ مہنگا ہے۔ تو کوئی ہمیں مغرب کی تخلیقی صلاحیتوں پر رطب اللسان نظر آتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں ایسی تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے والا کوئی نہیں ہے۔ 

جاوید چودھری کے یہ فارمولے ہو یا حسن نثار کی احساس کمتری کی ماری ہوئی یہ دلیلیں۔۔۔یہ دراصل مغرب زدہ ذہن کی پیداوار ہیں۔ 

حقیقت یہ ہے کہ اخلاقی قدریں ہو یا سائنس و ٹیکنالوجی، شرح تعلیم ہو یا انڈسٹریلائزیشن، یہ سب بنیادی طور پر ایک آئیڈیالوجیکل انقلاب کا نتیجہ ہے، پیش خیمہ نہیں۔ بس وہ آئیڈیالوجیکل انقلاب وہ ہو، جس کو قوم قبول کرے۔ بے شک وہ اسلام نہ ہو۔ 

اس ترقی، اس نشاۃ ثانیہ کا راستہ یہ ہے۔

ترقی کیلئے اسلام یا خلافت شرط نہیں۔ ترقی کی دو شرائط ہیں۔
قوم ایک آئیڈیالوجی اپنائے اور 
دوم: وہی آئیڈیالوجی ان پر نافذ ہو

مغرب نے سیکولرزم کو اپنایا، اس اس بنیاد سے نکلنے والے  سرمایہ دارانہ آئیڈیالوجی کو اپنایا (جمہوریت، آزادیاں، کیپیٹلسٹ معیشت، برابریاں، حقوق، قومیت)، اور جب 18 ویں صدی میں انقلابات کے بعد یہی دین ان پر نافذ ہوا، تو پوری قوم اور نظام ایک سمت میں آ گئے اور یورپ نے ترقی کی۔ 

سوویت یونین میں لوگ کارل مارکس کی کمیونزم سے متاثر ہوئے اور جب 1917 میں انقلاب کے ذریعے وہی نظام ان پر نافذ ہوا تو چند سالوں میں وہ سپر پاور بن گیا۔ تعلیم، سائنس، ادب، فنون، ٹیکنالوجی، ملٹری، ثقافت، ہر ہر شے میں!

مدینہ میں لوگ اوس و خزرج کی لڑائیوں سے تنگ تھے اور یہود سے سن سن کر ایک نبی کے انتظار میں تھے۔ پس جب وہاں اسلام (خلافت، شریعت) نافذ ہوا تو صرف 40 سالوں میں دونوں سپر پاورز کو شکست دے دی گئی۔ اور مسلمان سب سے ترقی یافتہ قوم تھے۔ ۔ ۔ جو سفر اگلے 1200 سال جاری رہا۔

آج ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہ نظام ہم سے کہتا ہے کہ 
1) سودی اکاونٹ کے بغیر نظام نہیں چلتا
2) انشورنس کے بغیر کاروبار نہیں
3)عورت کو سڑک پر لائے بغیر مارکیٹنگ اور ترقی نہیں 
4) مسلمانوں کو بھول کر صرف ملکی مفاد کو دیکھنا ہی درست ہے
5) آبادی کم کرنا اشد ضروری ہے
6) مغربی آزادیوں کی پیروی کے بغیر کوئی چارہ نہیں
7)مغربی عدالتوں (کامن لاء) کے بغیر انصاف نہیں
8 ) آئین اور جمہوریت مقدس ہے

جبکہ لوگ اس ایک ایک چیز سے اختلاف کرتے ہیں ۔ مثلا

1) 84 فیصد لوگوں نے اکاؤنٹ ہی نہیں کھولا، جنھوں نے کھولا، مجبورا، وہ بھی کرنٹ۔
2) انشورنس تو 1 فیصد نے بھی نہیں کیا، 99 فیصد کے پاس کریڈٹ کارڈ نہیں۔
3) اکثریت پردے کی قائل اور حجاب بڑھ رہا ہے۔
4) لوگ برما، شام افغانستان، کشمیر سب کا درد محسوس بھی کرتے ہیں اور لوگ جہاد کیلئے بھی جاتے ہیں۔ 
5) بچے صرف دو۔ اکثریت یہ نہیں مانتی وہ صاف کہتے ہیں کہ اللہ رازق ہے۔ 
6) مغربی آزادیاں ۔ ۔ ۔لوگ لبرلزم کو مسترد کرتے ہیں۔  
7) انگریزی قانون کو سب سے بڑا ظلم سمجھتے ہیں۔ ان کی نسلیں رل گئی ہیں اس میں۔ 
8 ) آئین اور جمہوریت مقدس ۔ ۔چار مارشل لاء آئے، ایک کے خلاف لوگ سڑکوں پر نہیں آئے۔  ۔ دو بندے جمہوریت کے تقدس کیلئے نہیں نکلتے، نکلتے ہیں تو صرف اسلام کے لئے۔ 
9) آئین کوزمین پر پھینک دیں، لوگوں کو ایک آنہ آئین کی پرواہ نہیں، سوائے اگر اس میں کوئی کلمہء ہو۔ لیکن نورانی قاعدے کو کوئی پھینک دیں تو شاید لوگ اس کو جلا ڈالیں۔ 

تو ترقی ہو تو کیسے ہو۔ ہم لوگ اس نظام کے بالکل مخالف کھڑے ہیں۔

اب!!!

حل دو ہیں۔ یا ہم اسلام کو بھول کر، مرتد ہو کر ، اس مغربی ماڈل اور دین کو اپنا لیں، جس کی کوشش آج تک ہر حکمران نے ہمارے ساتھ کی، لیکن ناکام رہا۔ اور یہ کافر ہوئے بغیر ہو نہیں سکتا۔ 

دوسرا حل ، جو کہ واحد اور صحیح حل ہے کہ ہمارے اوپر اسلام کا مکمل ، آفاقی نظام نافذ ہو جو ہمارے عقیدے، مزاج، خواہشات اور جذبات سے میل کھاتا ہے۔ ۔ ۔ تبھی ہم ایک سمت میں یکسو ہو جائیں گے۔ 

ذرا دیکھیں

1) جو مسلمان 25 سیکنڈز کیلئے اشارے پر انتظار نہیں کر سکتے، لیکن جنسی خواہش پوری کرنے کیلئے 25 سال انتظار کر لیتا ہے۔
2) جو کبھی بل جمع کرنے یا سرکاری دفتر میں قطار نہیں بناتا، لیکن لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجود چند لمحوں میں مسجد / جنازے میں قطار بنا لیتا ہے۔
3) جو کبھی ٹیکس نہیں دیتا، اور ٹیکس کم کرنے کے لیے کنسلٹنٹ رکھتا ہے، لیکن زکواۃ کا ہمیشہ حساب کر کے کچھ اوپر دے دیتا ہے تاکہ غلطی نہ ہو۔ فطرانہ حساب سے زیادہ دیتا ہے۔ 
4) جو دفتر یا سرکار کو ایک روپے نہیں چھوڑتا، روز کچھ نہ کچھ فقیروں میں بانٹ دیتا ہے۔
5) جو اپنی کتنی ہی ضرورتوں پر خرچ نہیں کرتے لیکن قربانی کے جانور، حج و عمرہ پر ہزاروں لاکھوں لٹا دیتا ہے۔ 
جو ذرا سا بیمار ہونے پر بستر سے لگ کرنخرے اٹھواتا ہےلیکن جب فلسطین، افغانستان کشمیر کیلئے آسانی سے فدائی حملے کرنے اور جانیں لٹانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ 
6) جس کے بچے بھوکے ہو، بیٹی کی شادی کے پیسے نہ ہو، اورحکمران اس کے وسائل لوٹ رہا ہے اور وہ خاموشی سے برداشت کرتا ہے لیکن نبی ﷺ کی توہین پر سب کچھ بھول بھال کر سڑک پر آ جاتا ہے۔ 

بات یہ ہے کہ اسے یقین ہو کہ یہ مسلمانوں، اسلام، اور آخرت میں کام آنے والی چیز ہے تو باوجودیکہ، ابھی کسی نے اس کی صحیح طرح تقویٰ بھی نہیں بنائی، پھر بھی وہ اتنا کچھ کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ تو جب خلافت میں ہر چیز اس دین کے مطابق ہو گی تو یہ قوم کہاں کی کہاں پہنچ جائے گی۔ پھر دنیا اس قوم کے معجزے دیکھ لے گی۔ پھر چند سالوں میں ایک بار پھر ہم سپر پاور کو شکست دے دیں گے۔ اور ہم تعلیم، انڈسٹری، معیشت، اخلاق، سائنس، فنون، ادب ، فنون لطیفہ اور ہر رخ سے دنیا کی نمبر ون قوم بن جائیں گے ۔ انشاء اللہ ۔ یہی خلافت ہے جس کی جانب ہمیں آنا ہو گا۔
#خلافت_اللہ_کی_رحمت

لُوغَاں, چاول کی فصل کے لگانے کے عمل کو ہماری پہاڑی پونچھی زبان میں "لُوغاں" کہتے ہیں







"لُوغَاں"



دھان یعنی چاول کی فصل کو ہماری پہاڑی پونچھی زبان میں "تہائیں"کہا جاتا ہے اور اس فصل کے لگانے کے عمل کو "لُوغاں" کہتے ہیں
یہ فصل مارچ کے آخر میں لگائی جاتی تھی اس کا طریقہ کار کچھ اس طرح سے تھا کہ کھیت کے ایک کونے میں دھان کی پنیری تیار کی جاتی تھی پنیری تیار کرنے کے اس عمل کو "بیتُھل" کہتے تھے
بیتھل کے لیے زمین کو اچھی طرح تیار کیا جاتا تھا گوبر کو بطور کھاد مکس کیا جاتا تھا اور اس میں بائیکُڑ یا دریک کے پتے ڈالے جاتے تھے.. ان دونوں درختوں کے پتے ذائقے میں شدید کڑوے ہوتے ہیں... یہ پتے اسلیے ڈالے جاتے تھے اولاً یہ پنیری میں حدت پیدا کرکے اسکو جلد تیار ہونے میں مددگار ہوتے ھیں لیکن بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ اینٹی سیپٹک اور جراثیم کش ہوتے ہیں پنیری کو کیڑا نہیں لگتا.

جس کھیت میں فصل لگائی جاتی ہے اُسے "چھیتر"کہتے ہیں چھیتر کو پانی لگا کر تیار کیا جاتا تھا اور مَت (سہاگہ) سے ہموار کیا جاتا تھا
جب پنیری تیار ہو جاتی تو چھیتر میں لُوغاں لگانے کا عمل شروع ہوتا تھا گھر کے سارے افراد اور رشتہ دار,  پڑوسی بھی اس عمل میں مدد کے لیے شریک ہوتے تھے
لُوغاں لگاتے ہوئے اللہ ھو کا ورد کرتےہوئے ریورس چلنا پڑتا تھا یعنی لگاتے ہوئے پیچھے کی طرف آتے تھے تاکہ لگائی ہوئی پنیری ضائع نہ ہو..لوغاں لگاتے ہوئے شرارتی لوگ اکثر  بیتھل چھپا لیتے تھے
فصل کی بہت حفاظت کی جاتی تھی اسے چڑیوں, بکریوں سے بچا کر رکھا جاتا تھا
خاص کر جب فصل پک جاتی تو اس کی زیادہ حفاظت کی جاتی تھی... جب اولے پڑتے تو فصل ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا تھا
فصل کاٹ کر جمع کی جاتی تھی... جمع شدہ فصل کے ڈھیر کو "پَسِّی"کہا جاتا ہے
چونکہ اُس وقت تھریشر نہیں تھا تو دھان کی فصل کو ہاتھوں سے پتھر پر مار کر صاف کیا جاتا تھا اس عمل کو "چُھمنا" کہتے ہیں
چھمنے کے بعد پرالی الگ کر دی جاتی تھی پرالی کو ہماری زبان میں "تہانیال"کہتے ہیں
تہانیال سے دیسی پراڈکٹس, کھیڑا, جائے نماز, اور پُولاں تیار کی جاتی تھیں جن پر ایک الگ تفصیلی تحریر لکھوں گا

ہمارے پڑوسی چچا سید حسین صاحب مرحوم آخری وقت تک دھان کی فصل کاشت کرتے رہے... چھیتر کے نسبت اُن کی آبائی جگہ کو "چھیتروڑا" کہتے ہیں
چھیتر کو کچھ علاقوں میں ہوتر بھی کہتے ہیں جس کی وجہ اُن کے جگہوں کے نام ہوتریڑی مشہور ہیں 
اس کے علاوہ سردی کی ہموار زمین چاول کی کاشت کے لیے بہت مشہور تھی
رات کو فصل کے پانی میں مینڈکیں نغمہ سرا ہوتیں تھی جس سے دور دور تک دلسوز سماں پیدا ہوتا تھا یہ خوبصورت نغمے اب معدوم ہو گئے بزرگ جاتے ہوئے ساری رونقیں بھی ساتھ لے گئے

 پونچھ میں پیدا ہونے والے چاول بہت لذید خوشبودار ہوتے تھے.. دیسی چاول کو پکا کر نچوڑنے سے حاصل ہونے والا اوغرا بہت لذید اور صحت افزاء ہوتا تھا... اس کے علاوہ کاڑھا نرم غذا کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا

یونین کونسل ٹائیں میں عمدہ کوالٹی کا چاول ہوتا تھا  یہاں مقامی کاشت شدہ عمدہ کوالٹی کے چاول اور نالہ ماہل اور دریا جہلم کی تازہ ذائقہ دار مچھلی اس دور کے حاکم طبقہ کے لیے بہت پرکشش رہی ہے کیونکہ یہاں ڈاک بنگلہ مہاراجہ ہری سنگھ اور برطانوی سرکار کے زیر استعمال رہا ہے

مزے کی بات یہ ہے کہ آزادکشمیر میں محکمہ زراعت کہ قیام سے پہلے ہمارے لوگ اپنی زمینوں میں بھرپور کاشت کاری کیا کرتے تھے تقریبا ہر گھر گندم ، چاول مکئی اور سبزیوں کہ معاملے میں خود کفیل ہوا کرتا تھا لیکن محکمہ زراعت کہ دفاتر کھلتے گئے اور لوگ کھیتی باڑی سے دور ہوتے گئے حالانکہ پروڈکشن بڑھنی چاہیے تھی۔
ایک ذرائع کے مطابق آزاد کشمیر کا محکمہ زراعت 138 اعلی افسران سمیت 1502 ملازمین پر مشتمل ہے  اور سالانہ 56 کروڑ 38 لاکھ روپے تنخواوں کی مد میں قومی خزانے سے  وصول کر رہا ہے   جبکہ سالانہ  35 کروڑ کا ترقیاتی بجٹ  بھی استعمال کرتا ہے ۔۔ لیکن آزاد کشمیر کی زراعت کا شعبہ  تیزی سے زوال پزیر ہے


New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...