لیلائے آزادی کا مجنوں. امان الله خان بانی سپریم ہیڈ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ




تایخ انسانیت میں کھربوں لوگ آئے اور گزر گئے  اُن کے نام و نشان تک مٹ گئے لیکن اسی روح زمین پر قوموں کی تاریخ میں ایسی عہد ساز شخصیات نے بھی جنم لیاجنہوں نے عہد حاضر کے رُخ موڑے۔ جنہوں نے  خود کو کسی بڑے اجتماعی مقصد کے ساتھ وابستہ کر کے اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی زندگیاں صرف کیں ہیں۔ اکثر اوقات اپنی جانوں تک اس مقصد کے لئے قُربان کر دیتے ہیں۔ ایسی شخصیات بھلے اس مقصد کے حصول تک زندہ رہیں یا اس کے اس حصول سے پہلے مر جائیں۔ مرتی نہیں ہیں تاریخ ان کو ہمیشہ کیلئے زندہ کر دیتی ہے کیونکہ وہ خود تاریخ اور تاریخ کے معمار بن جاتے ہیں۔ تاریخ انہیں ایک ایسی علامت بنا دیتی ہے جو آنے والے انسانوں کے لئے راہنمائی کا فریضہ سر انجام دیتی ہیں۔ اجتماعی مقصد ہی انسانی تاریخ کے ان شُرفاء کا مقصد حیات ہوتا ہے۔ گزشتہ تہتر سال سے بُری طرح منقسم اور محکوم ریاست جموں کشمیر کے عوام کی قومی آزادی اور ریاست کی وحدت کی بحالی کے لئے کی جانے والی اعصاب شکن اور مُشکل جدوجہد کی تاریخ میں بھی ایک ایسا نام ہے جو بلا شبہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ کے ماتھے پر ایک روشن علامت کے طور پر زندہ رہے گا۔ اور وہ نام اس ریاست کے ایک قابل فخر سپوت، لیلائے آزادی کے مجنوں، وحدت جموں کشمیر کے داعی، ریاستی تشخص کے علمبردار،  نظریاتی سیاست کے ا مین و پاسدار، مقدمہ جموں کشمیر کے بہترین وکیل، اپنی ذات، صفات اور کردار میں ایک تحریک ایک تاریخ، لازوال عزم او ہمت اورحوصلے کے مالک، کشمیریت کے روح رواں  اور مزاحمت کی علامت قائد تحریک جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے سپریم ہیڈ جناب امان اللہ خان  صاحب کا ہے۔ یہ وہ نام ہے جس کا مطلب ناقابل مصالحت جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب با مقصد جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب پُر امید جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مقصد با کردار جدوجہد ہے،  یہ وہ نام ہے جس کا مطلب سچائی پر مبنی جدوجہد ہے، یہ وہ نام ہے جس کا مطلب جدوجہد کی سچائی پر یقین ہے اور یہ وہ نام ہے جس کا مطلب جہد مسلسل ہے۔ آج اس عظیم انسان کی چوتھی برسی ہے۔   لیلائے آزادی کے مجنوں اور کشمیریوں کی جہد مسلسل کی ایک توانا آواز  امان اللہ خان  آج سے  چار سل قبل 26  اپریل  2016  کو  جنت ارضی  ریاست جموں کشمیر کی آزادی، خود مختاری اور خوشحالی کا خواب  اپنی آنکھوں میں سجائے اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے  زندگی کی اس قید سے آزاد ہو گئے لیکن ریاست جموں کشمیر کی قوم کے لئے اپنے ورثے میں ایک سوچ، ایک فکر، نظریہ اور عقیدہ چھوڑ گے جو انکے نام کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے گا۔  انسان کو موت آجاتی ہے لیکن مشن کبھی نہیں مرتے، یقین کی راہ پر چلنے والے اس مسافر کے جسم کی موت سے اس کا کردار نہیں مر سکتا جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔  اللہ کرے وہ وقت آئے جب استور میں اُن کی قبر پر جا کر آزادی کی نوید سنانے کا موقع نصیب ہو۔  
امان اللہ خان 24 اگست 1931  کو گلگت کے علاقے استور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام جمعہ خان تھا جو نائب تحصیلدار ریٹائر ہونے کے بعد سات دیہاتوں کے نمبردار تھے۔  بچپن میں ہی والد کی وفات کے بعد گھریلو حالات نے انہیں بھارتی مقبوضہ کشمیر ضلع کپواڑہ پہنچا دیا۔ جہاں سے انہوں نے بُنیادی تعلیم حاصل کی اور 1950 میں میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا اور سری نگر کالج میں ایف ایس سی میں داخلہ لیا۔ سیکنڈ ایئر کے امتحانات سے قبل ہی حالات خراب ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف ورانٹ گرفتاری جاری ہوئے تو آپ بھاگ کر جموں چلے گے جہاں دو ہفتے قیام کے بعد 02 جنوری 1952 کو براستہ جموں سیالکوٹ پاکستان آگے۔  جہاں راولپنڈی، پشاور کے بعد کراچی منتقل ہوئے اور 1962 میں کراچی ایس ایم لاء کالج سے ایل ایل بی کیا۔ کراچی یونیورسٹی میں ایم اے آئی آر میں داخلہ لیا لیکن تحریکی مصروفیات کی وجہ سے امتحانا ت نہ دے سکے۔  نصف صدی سے زائد ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی، اس کی آزادی اور خود مُختاری کے لئے سیاسی، سفارتی اور عسکری محاذ پر غیر متزلزل محو جدوجہد رہے اس دوران  امان اللہ خان کی زندگی میں نشیب و فراز آئے لیکن وہ قائد تحریک کے جذبہ حریت کو نہیں روک سکے اور وہ سُرخرو ہوئے۔ امان اللہ خان بیک وقت ایک مدبر سیاستدان، ایک بہادر کمانڈر، ایک عظیم دانشور اور ایک بہترین سفارتکار تھے۔
امان اللہ خان کی ریاست جموں کشمیر کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ انہوں نے نظریہ خود مُختار کشمیر کو ریاست کے باقی نظریات کے ہمقدم لا کر کھڑا کیا۔  جس کی ابتدا امان اللہ خان نے 1962  میں انگریزی ماہنامہ وائس آف کشمیر کے اجراء سے کی جو پوری طرح نظریہ خود مُختار کی تشہیر کرتا رہا جس کو بعد میں حکومتی دباوٗ کی وجہ سے بند کر دیا گیا لیکن انہوں نے اپنے قیام برطانیہ (1976 تا 1986) کے دوران دوبارہ اس کا اجراٗ کر کے نظریے کی تشہیر کی۔  امان اللہ خان نے 19963  میں  جی ایم لون کی مدد سے ریاست جموں کشمیر کی خود مُختاری کی داعی پہلی تنظیم کشمیر انڈیپنڈنس کمیٹی بنانے میں اہم کردار ادا کیا بوجہ اس کے خاتمے تک اس کے سیکرٹری کی حثیت سے کام کرتے رہے۔  امان اللہ خان 1965  میں بننے والی جموں کشمیر محاذرائے شماری کے شریک بانی ممبر اور پہلے سیکرٹری جنرل کے ساتھ ساتھ اس کے دو اہم شعبوں  (NLF)  اور کشمیر کمیٹی برائے افریشائی عوامی اتحاد کے اہم رُکن تھے اور1977 تک نظریہ خود مُختار کشمیر کو لٹریچر، جلسے جلوسوں، پریس کانفرنسوں اور مظاہروں کے ذریعے اجاگر کیا۔  امان اللہ خان نے 1977   میں جموں کشمیر محاذ رائے شماری برطانیہ کے آئین اور  نام میں تبدیلی کرتے ہوئے 29 مئی 1977  کو برمنگھم میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کا قیام عمل میں لایا۔ اپنے قیام کے دو سال کے اندر اندر اس کی شاخیں برطانیہ کے مختلف شہروں اور امریکہ میں بھی بنا دیں۔ 1984 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی بُنیاد آزادکشمیر میں بھی رکھی۔  1988 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے عسکری ونگ جموں کشمیر نیشنل لبریشن آرمی کے پلیٹ فارم سے بھارت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی جس نے مسئلہ جموں  کشمیر کو  سرد خانے سے نکال کردُنیا پر فلش پوائنت بنایا   اور قوم پر لگے بزدلی کے دھبے کو بھی دھویا۔  بدقسمتی سے اسی دوران لبریشن فرنٹ کریش پلان کے تحت تنظیم کے ٹکڑے کر دیے گئے جس سے تحریک آزادی کشمیر کو بہت نُقصان ہوا لیکن امان اللہ خان نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ تنظیم کو منظم کرنا شروع کیا۔ آج جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ریاست کی واحد تنظیم ہے جو ریاست کی تینوں اکائیوں سمیت پاکستان کے مختلف شہروں اور گلف، یو کے، یو ایس اے سمیت پوری دُنیا میں موجود ہے اور سیاسی اور سفارتی محاذ پر بر سر پیکار ہے۔ 
امان اللہ خان نے مسئلہ کشمیر پر اُردو، انگریزی میں تین کتابیں، 60  سے زائد پمفلٹ اور کتابچے لکھے اس کے ساتھ ساتھ 60  کے لگ بھگ انگریزی اور اردو اخبارات اور جرائد کو انٹرویو دیے۔ 100  سے زائد مضمون انگریزی میں اور تقریباً 30   اردو میں لکھے۔  انگریزی میں لکھے گے مضمون پاکستان، بھارت، برطانیہ اور عرب کے اخبارات میں شائع ہوئے وائس آف کشمیر کے اداریے، مضمون اور کالم اس کے علاوہ تھے اس کے ساتھ ساتھ اُنہوں نے بیسیوں ریڈیو اور ٹی وی مباحثوں میں بھی حصہ لیا۔  امان اللہ خان نے اقوام متحدہ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں تین پریس کانفرنسوں سے خطاب کرنے کے علاوہ واشنگٹن کے نیشنل پریس کلب میں بطور مہمان ایک مرتبہ خطاب کیا۔لندن میں تقریباً ایک درجن اور یورپ کے اہم دالحکومتوں میں ایک سے زیادہ پریس کانفرنسیں کی ہیں۔  امان اللہ خان کی اس جدوجہد کو دیکھتے ہوئے 1993  کے بعد ان کو آزادکشمیر تک محدود کر دیا گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے وقتاً فوقتاً دنیا کے با اثر شخصیات، حکمرانوں، صحافیوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دانشوروں کو خط لکھ کر  اُن کو مسئلہ جموںکشمیر کے بارے میں اگاہ کیا۔
امان اللہ خان نے ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور خود مُختاری کے لئے آزادکشمیر گلگت بلتستان کے علاوہ پاکستان میں کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے مشہور عقوبت خانوں ،  برطانیہ بلجئم اور امریکہ میں بھی طویل اور قلیل مدتی قیدیں کاٹی۔ ان اسیریوں کے دوران ان کو ذہنی اور جسمانی تشدد اذیتیں بھی دی جاتی رہی لیکن وہ امان اللہ خان کے جذبہ حُریت کو سرد نہیں کر سکے۔ برطانیہ اور بلجئم کی اسیری میں بھارت برائے راست ملوث تھا۔امان اللہ خان وہ واحد کشمیری رہنما ہیں کے لئے بھارت نے انٹرپول کے ذریعے ورانٹ گرفتاری جاری کروائے ہیں۔جن کے تحت وہ اکتوبر 1993 میں بیلجئم میں گرفتار ہوئے تھے۔ 
امان اللہ خان 26 اپریل 2016  کو ریاست جموں کشمیر کی وحدت کی بحالی اور خودمُختاری کا خواب آنکھوں میں لئے اس فانی دُنیا سے کوچ کر گے اور اپنی وصیت کے مطابق گلگت میں مدفون ہیں۔  موت ایک فطری عمل ہے اور ایک اٹل حقیقت ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا لیکن امان اللہ خان نے اپنے پیچھے ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ اُن کا احساس رہتی دُنیا تک موجود رہے گا۔  وہ ریاست جموں کشمیر کی تاریخ ہیں۔ 
 اے قلب شناسا ماتم کر اے چشم بناء سوگ منا
 جو روشنی بانٹے آیا تھا وہ  چاند وہ سورج  ڈوب گیا

No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...