دیہی اور شہری زندگی Dahi aur Shehri Zindgi

 دیہی اور شہری زندگی


آپس کی بات.....
سب سے پہلے تو یہ سمجھ لیں کہ دیہی اور شہری زندگی میں زمین آسمان کا فرق ہے....شہر میں آپ کو اپنی دیوار سے جڑے ہوئے پڑوسی کے بارے میںں بھی بس حسب ضرورت تھوڑی بہت معلومات کی جانکاری ہوتی ہے.....جبکہ گاؤں اور دیہات میں فطری طور پہ لوگوں کی آپس میں اتنی گہری وابستگی ہوتی ہے کہ....کافی فاصلے کے باوجود ایک گھر والے دوسرے کے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہہوں نے سحری میں کیا سالن تیار کیا تھا......
اس تمہید کے بعد عرض یہ ہے کہ کچھ دنوں سے مسلسل مشاہدہ ہو رہا ہے کہ فیک آئی ڈیز کے سہارے ایک دوسرے پہ الزامات کی بوچھاڑ..اور پھر جواب...اور جواب الجواب کی مسلسل کھچڑی پکتی جا رہی ہے....جسکی وجہ سے آئے روز نفرتیں,عداوتیں اور دوریاں بڑھتی جا رہی ہیں....اس موقع پر ہر شخص کے پاس دو راستے ہیں...یا تو وہ اپنی حیثیت کے مطابق اس سلسلے کا سد باب کرے...یا پھر وہ ایک طرف بیٹھ کر لوگوں کی عزتوں کی نیلامی سے لطف اندوز ہوتا رہے....دوسرا راستہ مجھے اسلیے پر خطر لگ رہا ہے کہ درحقیقت یہ ایسا ہی ہے کہ آپ کے گھر کے ارد گرد آگ کے شعلے ہوں اور آپ اپنی چھت پہ بیٹھ کر ان سے محظوظ ہوں...ظاہر یے کچھ ہی دیر میںِ یہ آگ آپ کو بھی بھسم کر ڈالے گی....بالکل اسی طرح یہ سلسلہ بھی جلد یا بدیر آپ کی کردار کشی پہ منتج ہونے والا ہے.....آخر ایسا کیوں ہے...ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہمارا جینا مرنا,خوشی غمی اور دیگر معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں....کیا ہمارے پاس کرنے کے لیے کوئی مثبت سرگرمی نہیں رہی ??....تف ہے اور ہزار بار تف ہے ایسی سیاست پہ..کہ جو پر امن لوگوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنا دے.....افسوس ہے ایسی سوچ پر کہ جو دوسروں کی کردار کشی میں اپنی کامیابی ڈھونڈتی ہے....مجھے ان سنجیدہ دوستوں سے بھی شکوہ ہے کہ جو اسطرح کی بے نام و نشاں تخریب کاروں کے جال میں آجاتے ہیں.....یاد رکھیے!آپ کا ہر کمنٹ چاہے وہ تحسین کی صورت میںِ ہو یا تنقیدی پیرائے میں...وہ ایسے فسادی لوگوں کی تقویت کا باعث بنتا ہے....کیا آپ راہ چلتے سگان سوق کی ہر بھونک پہ ردعمل ظاہر کرتے ہیں ??? یقینا نہیں....تو ان بے اصل کرداروں سے بھی ویسے ہی اعراض کریں.....جو شخص سامنے آکر..بلا خوف و خطر اظہار حق کی جرات نہیں رکھتا....یقینا ایسا فرد ہر گز اس لائق نہیں کہ آپ اسے منہ لگائیں.....خوب سمجھ لیجیے! اسطرح کے جعلی کردار معاشرے کے لیے ناسور ہیں..جو بالآخر سماج کو اخلاقی لحاظ سے دیوالیہ کر دیتے ہیں...یہ آپ کے مشترکہ دشمن ہیں....آج آپ دوسرے کا تماشہ دیکھتے ہیں تو یقینا کل دنیا آپ کو تماشہ بنتے دیکھے گی....یہی عناصر سماج میں غلط فہمیوں کی فصیلیں قائم کرتے ہیں....
اس حوالے سے قرآن مجید میں انتہائی خوبصورت پیرائے میں یہ ہدایات درج ہیںِکہ.....اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی خبر غیر معتبر ذرائع سے آئے...تو پہلے اسکی تصدیق کر لیا کرو....ایسا نہ ہو کہ محض اس خبر کی بنیاد پہ تم کوئی قدم اٹھاؤ اور شرمندگی و ندامت تمہارا مقدر بن جائے....
میرے آقا جن کی آل و عترت اور اصحاب پہ درود ہو.....فرماتے ہیں کہ .....آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ محض سنی سنائی باتوں کو آگے پھیلانا شروع کر دے.....
ظاہر ہے فیک آئی ڈی سے بڑھ کر کسی خبر کا غیر معتبر ذریعہ کیا ہو سکتا ہے....ارشاد باری تعالی محض مولوی صاحب کے جمعے کی تقریر یا صرف نماز میںِ تلاوت کے لیے ہر گز نہیں بلکہ ....زندگی کے ہر موڑ پر قابل عمل ہے.....میرے لیے..آپ کے لیے...ہم سب کے لیے.....
لہذا عرض ہے کہ ان خفیہ کرداروں کی سازشوں کا مت شکار ہوں.....حضرت عمر رضی اللہ فرمایا کرتے تھے کہ کبھی باطل کو نظر انداز کر کے ختم کیا جاتا ہے.....اسلیے آپ بھی نظر انداز کر کے انہیںِ اپنی موت آپ مرنے دیں...خس کم جہاں پاک.....انہیں انفرینڈ کریں. آئیندہ اسطرح کی ریکوسٹ قبول کرنے سے پہلے لازمی تصدیق کر لیں.....

No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...