انفرادی تبدیلی لائیے.....مثالی زندگی گزاریے........
ایک چیز کا مسلسل مشاہدہ رہا کہ شادی کی تقریبات کے حوالے سے قریب قریب سبھی لوگ متفق ہیں کہ انہیں سادگی کے ساتھ انجام پذیر ہو نا چاہیے.....لیکن جو معاشرہ دوسروں کی نقالی میں بندروں کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہو .....وہاں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ...آخر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون ????
اس حوالے سے ذاتی طور پہ میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اجتماعی طور پہ اسطرح کی معاشرتی تبدیلی اگر نا ممکن نہ بھی ہو تو تب بھی انتہائی مشکل ہے.....اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ون ڈش اور اسطرح کی دوسری پابندیاں اپنی موت آپ مر چکی ہیں....لہذا گزارش یہ ہے کہ اس تبدیلی کو اجتماعی لحاظ سے رو بہ عمل لانے کی کدوکاوش سے کہیں بہتر ہے کہ انفرادی طور پہ اسے قابل عمل بنایا جائے......
اور انفرادی تبدیلی وہی شخص لا سکتا ہے کہ جو بلند سوچ,اور قوت فیصلہ کا مالک ہو......
زیر بحث موضوع میں جب ہم اجتماعی تبدیلی کی جہد مسلسل کو ناکامیوں سے دو چار دیکھتے ہیں تو ایک بڑا سبب خواتین کی ناقص سوچ کی صورت میں نظر آتا ہے...مثلا......
جب کبھی اسطرح کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو فورا اسطرح کے مناظر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ......
" میرا تو ایک ہی بیٹا ہے......میں اپنے بیٹے کی شادی اسطرح سے کروں گی کہ دنیا یاد رکھے گی".....لو جی! یہ تو ہمارے گھر کی پہلی شادی ہے.......بس بھئی! یہ تو ہمارے گھر میں آخری شادی ہے.....ہم نے اب کون سی روز روز شادیاں رچانی ہیں وغیرہ وغیرہ.....
یاد رکھنا چاہیے کہ جب اجتماعی کاموں اور بالخصوص گھریلو انتظامی امور میں قوت فیصلہ مرد حضرات کے ہاتھوں سے نکل کر خواتین کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے توپھر اپنی بربادیوں کا شکوہ کسی اور سے بھلا کیوں.....????
حدیث میں آتا ہے کہ جب تمہارے فیصلے خواتین کے ہاتھوں انجام پانے لگیں تو اس وقت تمہارے لیے زمین کا پیٹ اسکی پیٹھ سے بہتر ہے......
اسی طرح ایک اور جملہ جو در حقیقت ایک مجموعی سماجی نفسیاتی مرض بن چکا ہے وہ یہ کہ...."لوگ کیا کہیں گے"...
ہم سادگی سے دور بھاگتے ہیں,,,کسی کی موت پہ نہ چاہتے ہوئے بھی دعوت طعام کا اہتمام کرتے ہیں....قرض لے کر اپنا مصنوعی رعب و دبدبہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں.....ہم صلح پہ آمادہ نہیں ہوتے.....پتہ ہے کیوں?????اسی لیے نا کہ.......لوگ کیا کہیں گے.......
خدارا! اس مرض سے جان چھوڑائیے.....لوگوں کو دیکھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی جئیں......
آپ پوری زندگی خدمت خلق میں گزار دیں تب بھی کچھ لوگ آپ سے خوش اور کچھ لازما ناراض ہوں گے.......
ویسے ایک بات ہے.....لوگ ہیں بھی ان گنت.....کبھی خوش بھی نہیں ہوتے......
اللہ پاک ایک ہیں....جلد خوش بھی ہو جاتے ہیں....انہیً راضی کرنا انتہائی آسان اور ناراض کرنا ٹھیک ٹھاک مشکل ہے......لہذا اب جملے کو یوں بدلیے.َکہ.....
ہمارا اللہ کیا کہے گا.....
ایک چیز کا مسلسل مشاہدہ رہا کہ شادی کی تقریبات کے حوالے سے قریب قریب سبھی لوگ متفق ہیں کہ انہیں سادگی کے ساتھ انجام پذیر ہو نا چاہیے.....لیکن جو معاشرہ دوسروں کی نقالی میں بندروں کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہو .....وہاں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ...آخر بلی کے گلے میں گھنٹی باندھے کون ????
اس حوالے سے ذاتی طور پہ میں اس نتیجے پہ پہنچا ہوں کہ اجتماعی طور پہ اسطرح کی معاشرتی تبدیلی اگر نا ممکن نہ بھی ہو تو تب بھی انتہائی مشکل ہے.....اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ ماضی قریب میں ون ڈش اور اسطرح کی دوسری پابندیاں اپنی موت آپ مر چکی ہیں....لہذا گزارش یہ ہے کہ اس تبدیلی کو اجتماعی لحاظ سے رو بہ عمل لانے کی کدوکاوش سے کہیں بہتر ہے کہ انفرادی طور پہ اسے قابل عمل بنایا جائے......
اور انفرادی تبدیلی وہی شخص لا سکتا ہے کہ جو بلند سوچ,اور قوت فیصلہ کا مالک ہو......
زیر بحث موضوع میں جب ہم اجتماعی تبدیلی کی جہد مسلسل کو ناکامیوں سے دو چار دیکھتے ہیں تو ایک بڑا سبب خواتین کی ناقص سوچ کی صورت میں نظر آتا ہے...مثلا......
جب کبھی اسطرح کی کوئی کوشش ہوتی ہے تو فورا اسطرح کے مناظر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ......
" میرا تو ایک ہی بیٹا ہے......میں اپنے بیٹے کی شادی اسطرح سے کروں گی کہ دنیا یاد رکھے گی".....لو جی! یہ تو ہمارے گھر کی پہلی شادی ہے.......بس بھئی! یہ تو ہمارے گھر میں آخری شادی ہے.....ہم نے اب کون سی روز روز شادیاں رچانی ہیں وغیرہ وغیرہ.....
یاد رکھنا چاہیے کہ جب اجتماعی کاموں اور بالخصوص گھریلو انتظامی امور میں قوت فیصلہ مرد حضرات کے ہاتھوں سے نکل کر خواتین کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے توپھر اپنی بربادیوں کا شکوہ کسی اور سے بھلا کیوں.....????
حدیث میں آتا ہے کہ جب تمہارے فیصلے خواتین کے ہاتھوں انجام پانے لگیں تو اس وقت تمہارے لیے زمین کا پیٹ اسکی پیٹھ سے بہتر ہے......
اسی طرح ایک اور جملہ جو در حقیقت ایک مجموعی سماجی نفسیاتی مرض بن چکا ہے وہ یہ کہ...."لوگ کیا کہیں گے"...
ہم سادگی سے دور بھاگتے ہیں,,,کسی کی موت پہ نہ چاہتے ہوئے بھی دعوت طعام کا اہتمام کرتے ہیں....قرض لے کر اپنا مصنوعی رعب و دبدبہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں.....ہم صلح پہ آمادہ نہیں ہوتے.....پتہ ہے کیوں?????اسی لیے نا کہ.......لوگ کیا کہیں گے.......
خدارا! اس مرض سے جان چھوڑائیے.....لوگوں کو دیکھانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی جئیں......
آپ پوری زندگی خدمت خلق میں گزار دیں تب بھی کچھ لوگ آپ سے خوش اور کچھ لازما ناراض ہوں گے.......
ویسے ایک بات ہے.....لوگ ہیں بھی ان گنت.....کبھی خوش بھی نہیں ہوتے......
اللہ پاک ایک ہیں....جلد خوش بھی ہو جاتے ہیں....انہیً راضی کرنا انتہائی آسان اور ناراض کرنا ٹھیک ٹھاک مشکل ہے......لہذا اب جملے کو یوں بدلیے.َکہ.....
ہمارا اللہ کیا کہے گا.....
No comments:
Post a Comment