جبر ناروا ۔۔۔ اور نیاگان کہن کی عظمتوں کی بحالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبر خواہ دین میں ہو یا دنیا میں کبھی اپنے قدم نہیں جما سکتا ۔ ہاں طاقت کے زور کتنے دن نکال سکتا ہے یہ طاقت کے حجم پر مبنی ہوتا ہے۔
طالبان افغانستان میں چند سال نہیں نکال پائے ۔ جب نکلے تو پتہ چلا عوام کے ساتھ ان کا تعلق بہے ہی کمزور تھا ۔ لوگوں نے داڑھیاں منڈوا دیں کیونکہ جبرا رکھوائی گئی تھیں ۔
سعودی عرب میں بھی پانسہ پلٹ رہا ہے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں مسلمانوں کو اذیت دینے والا سرخ رومال اب اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔ وہاں عورت کہاں سے نکل کر کہاں پہنچ چکی ہے ۔ برقعے سے بکنی تک کی اجازت قریب ہے۔
سرخ رومال دنیا میں کیسے پھیلا ؟ شھزادہ سلمان کے حالیہ انٹرویو نے اب اس راز سے پردہ بھی اٹھا دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تن آسانی سے حاصل شدہ دولت نے جراتوں کو زنگ آلود کردیا ہے کہ اب ان میں اس انقلاب کا راستہ روکنے کی ہمت نہیں ہے۔ تختہ دار سے اپنا وجود بچانے کے لیے تخت سے مفاہمت کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی عالم میں ترکی روز بروز ایک طاقت ور قوم بن کر ابھر رہا ہے۔ دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو کہ جس کے لیڈر اور عوام میں اتنا مضبوط تعلق ہو کہ عوام اپنی فوج سے نبرد آزما ہوجائے۔ یہ کمال قیادت کا ہوتا ہے جو اپنے کردار اور تربیت سے ممولے میں اتنی ہمت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ شاہباز سے لڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔ ترکی من حیث القوم اپنے نیاگان کہن کی عظمتوں کی بحالی کے سفر نکل کھڑا ہوا
ہماری دعائیں بالآخر اسی کے لیے ہیں کہ عظمتوں اور رفعتوں کا تاج جن کے سر تھا دوبارہ انہی کے سر آجائے۔
آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم
No comments:
Post a Comment