دین کے کسی بھی عنوان سے کشکول گدائی اٹھا کر دین اور اہل دین کی توہین و تنقیص کا سبب نہ بنیں.........


چند روز قبل ایک صاحب ملنے آئے....مغرب کے بعد کا وقت تھا...لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جنریٹر آن تھا....اسکی بے ہنگم آواز کی وجہ سے کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی....سامنے کرسی پہ براجمان شخص کے لبوں کی حرکت سے اندازہ کرتے ہوئے محض تخمین و ظن پہ میں بھی اپنے ہونٹوں کو جواباجنبش دے دیتا تھا....یوں سمجھیے کہ علیک سلیک تو بس اس ماحول میں ہوئی کہ.... زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم.....اسکے بعد انہوں نے اپنا مدعا بیان کرنا شروع کر دیا ...اور میں بالکل صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب کی طرح ساکت و جامد بھیٹا سنتا رہا.....جب چار پانچ منٹ کی مسلسل تقریر کے بعد وہ دم لینے رکے تو میں پوچھ بھیٹا کہ آپ تبلیغی جماعت سے ہیں ??? اب تو انہوں نے مجھے گھورا اور بلند آہنگ کے ساتھ دوبارہ تقریر شروع کی ....اتنے میں ان کے دیگر رفقاء بھی تشریف لے آئے..... خلاصہ کلام یہ کہ یہ تقریر خیر کے کام میں تعاون کے حوالے سےفضائل و مناقب پہ مشتمل تھی..... میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھیں یہ مانگ تانگ اچھی بات نہیں....تو فورا سے جواب آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تو تبوک کے موقع پہ چندہ کیا تھا..... میں نے انتہائی ادب سے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعاون کی اپیل ان صحابہ سے کی تھی کہ جو آپ کے ایک اشارے پہ تن من کی قربانی کو فلاح دارین سمجھتے تھے....جبکہ آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کو دیکھتے ہی لوگ اپنی رقم سامنے والی جیب سے خفیہ خانوں میں منتقل کرنا شروع کر دیتے ہیں....لہذا یہ مثال تو آپ کی بیکار گئی..... پھر وہی طوطا کہانیاں شروع ہوئیں کہ ہم اللہ اور اسکے رسول کے مہمانوں کے لیے تعاون کی اپیل کرتے ہیں.... اب میرا صبر بھی جواب دے رہا تھا....میں نے صاف کہہ دیا ....اللہ اور اسکے رسول بہت باغیرت , حمیت اور انصاف والے ہیں....ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مہمانوں کو بھوکا ماریں....اور اس کا الزام آپ پہ دھریں....لہذا یہ فضول دلائل اپنے پاس ہی رکھیں..... واشگاف الفاظ میں انہیں کہہ دیا کہ آپ لوگ ہی ہیں جو دین اور اہل دین پہ بد نما دھبہ ہیں..... آپ کے اکابر فاقوں پہ فاقے کرتے تھے لیکن کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا..... یہی حال مساجد کا ہے...کہ پوری تقریر اس نقطے پہ مرکوز ہو گی کہ اللہ سے مانگو....لیکن جب چندہ باکس صف در صف گھمایا جاتا ہے...تو اس پانچ منٹ کے دورانیے میں ساری تقریر کا اثر زائل ہو جاتا ہے.... آپ شراب کا نام شہد رکھ لیں یا اسے ماء طہور کہہ لیں ....آپ زہر پہ آب حیات کا لیبل لگا لیں..تب بھی وہ شراب اور زہر ہی رہیں گے بالکل اسی طرح چاہے آپ بھیک کو تعاون کانام دے یا اسے چندہ کہیں وہ بھیک ہی رہے گی..... مولانا بنوری سے ایک قول منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ کہا کرتے تھے..... اگر مدرسہ اللہ کے لیے کھولا ہے تو دنیا میں اس سے بڑی مصیبت کوئی نہیں.....اور اگر اپنے پیٹ کے لیے کھولا ہے تو دوزخ میں جانے کے لیے کسی دوسرے گناہ کی ضرورت نہیں...... یہ محض قصے کہانیاں نہیں بلکہ حقائق ہیں کہ...ماضی قریب میں ایسے علماءگزرے ہیں کہ جو بڑی عزت کے ساتھ دینی ادارے چلاتے تھے...جب لوگ ان سے تعاون کرتے تو وہ تعاون کرنے والے کو سامنے بھیٹا کر اس سے کہتے تھے کہ اپنے منہ سے کہو کہ.... " آپ کا شکریہ کہ آپ نے یہ ہدیہ قبول کیا اور اسے صحیح مصرف میں لگا کر مجھ پہ احسان کریں گے " کہاں سے لاؤں اب ایسے درخشندہ ستارے.... ????? پھر وہ ذرائع آمدن بھی پوچھا کرتے تھے...سود اور حرام کمائی کو ڈانٹ ڈپٹ کر واپس کیا کرتے تھے..... اب تو بس ملنا چاہیے...جہاں سے ہو...جیسا ہو..... مسجد کی بنیاد رکھیں.....اتنا بتا دیں کہ یہ مسجد مسلمانوں کی مشترکہ ہے اور اسکی تعمیر بھی..بس آگے چھوڑ دیں....مدرسہ بنائیں ....لوگوں کو بتائیں...دینی ادارہ ہے...جب تک چلتا رہا چلائیں گے.....نہیں تو تالا لگا لیں گے.....آپ سے ہر گز یہ سوال نہ ہو گا کہ آپ نے مسجد میں ٹائلیں کیوں نہیں لگوائیں ??? یا مدرسے سے لاکھوں فضلاء کیوں پیدا نہیں کیے.... خوامخواہ کی ٹھکیداری اپنے سر نہ لیں.....اور خدارا! دین کے کسی بھی عنوان سے کشکول گدائی اٹھا کر دین اور اہل دین کی توہین و تنقیص کا سبب نہ بنیں......... اپنے بھی خفا مجھ سے بیگانے بھی نا خوش......... میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند........

No comments:

Post a Comment

New

CORONA VIRUS ILLUMINATI AND NEW WORLD ORDER

کرونا وائرس ساری دنیا میں پھیل چکا ہے. کاروبارِ حیات بند ہوچکا. تجارت، تعلیم، مذہبی اجتماعات ، سیاحت غرض تمام شعبہ ہائے زندگی pause کی حا...