زخم جو پھر سے تازہ ہو گئے.....
آٹھ اکتوبر کے وہ لمحات ذہن میں کچھ اسطرح سے نقش ہو چکے ہیں کہ اگر بھولنا چاہوں پھر بھی نہیں بھول سکتا....وہ صبح کا وقت تھا جب میں نیم غنودگی کی حالت میں ایک کتابچے کی ورق گردانی کر رہا تھا....اچانک زمین کانپتی ہوئی محسوس ہوئی....میں اٹھ کر تیزی سے باہر نکلا تو ایک بار پھر پوری شدت سے زمین کو ہلتے ہوئے دیکھا.....پھر زمین پر لوگوں کی آہ و بکاء تھی اور آسمان پر گردو غبار کے سیاہ حلقے....مائیں دیوانہ وار اپنے بچوں کی خاطر اسکولوں کی طرف دوڑ رہی تھیں....اور ہر انسان سہما ہوا تھا....گزرتے وقت کے ساتھ ایسی اندوناک خبریںِ آرہی تھیں کہ جنہیں سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا....کئی معصوم کلیاں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئیں...اور ایک بڑی تعداد معذور.....اس رات قدرت خداوندی نے امیر و غریب کا امتیاز مٹا دیا....اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز کے مصداق ....سبھی کھلے آسماں تلے رات بسر کرنے پہ مجبور ہو گئے....خوف کا یہ عالم تھا کہ بعض گھر بالکل صحیح سلامت اپنی جگہ ایستادہ تھے لیکن ان سے وحشت ہوتی تھی......
یہ سب کچھ ہوا ....جو ہوا سو گزر گیا..یقینا جدا ہونے والوں کا غم وقتا فوقتا دل میں کچوکے لگاتا ہے...اور لگاتا رہے گا....لیکن بحثیت سماج اور معاشرہ ہم میں جو اجتماعی منفی تبدیلیاں رونما ہوئیں....وہ انتہائی تشویش ناک ہیں....مانا کہ اس بھونچال کے بعد ہمارا معیار زندگی بلند ہوا....یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے اجتماعی شعور میں بے پناہ اضافہ ہوا....سڑکیں ہماری دہلیز تک پہنچیں...تعلیمی اداروں کا جال بچھا.....صحت کے مراکز بھی نسبتا قریب ہوے....ہمارا طرز تعمیر نئے خطوط پہ استوار ہوا...........آپ کی صبحیں یو ایس اے کے تیل اور ترکی کے آٹے سے رنگین ہوئیں.لیکن کیا آپ جانتے ہیں ان سہولیات کی ہم نے کیا قیمت چکائی ????ہم نے انسانیت,ہمدردی ,ایثار و قربانی اور محبت و مودت کو تین طلاقیں دیں....ہماری نئی نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوئی...جس کا فوری ردعمل یہ تھا کہ بات بات پہ وہ اپنے بڑوں بزرگوں سے کہنے لگی کہ ....رہنے دیں آپ بات نہیں سمجھتے......عورتیں تعلیمی میدان میں آئیں تو دوپٹہ سر سے اتر کر گلے کا پٹہ بن گیا.....لوگوں میں شعور بیدار ہوا تو پہلی کرامت یہ ظاہر ہوئی کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگے.....کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ پہلے جب کوئی پردیس جاتا تھا تو قریبی عزیز ,دوست اور پڑوس اسے الوداع کہنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں جمع ہو تے تھے...لیکن اب تو سوشل میڈیا کی برکت سے اسٹیٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں انتہائی قریبی رحت سفر باندھ چکا ہے.....یہ بھی یاد ہو گا نا کہ پہلے اگر کوئی بچہ کسی نامناسب حرکت کا مرتکب ہوتا تو گاؤں کا ہر فرد اسے سزا دینے میں آزاد تھا...جس سے جرائم قابو میں رہتے تھے.....لیکن اب آزادی نو کا پہلا تحفہ یہ جملہ ہےکہ....آپ کے گھر سے تو نہیںِ کھاتا......کیا پہلے شادی بیاہ یا خوشی اور غمی کے دوران شہر سے ویٹر لانے کا تصور تھا????اب تو اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں....
اور سب سے بڑھ کر این جی اوز نے ہمدردی کے نام پہ جو زہر ہمارے سماج کے رگ و ریشے میں داخل کیا ہے...اس میٹھے زہر کی تباہ کاریوں کے بیان کے لیے کم از کم میرے پاس الفاظ نہیں.....
تاریخ نے قوموں کے وہ دور بھی دیکھے.....
لمحوں نے خطاء کی صدیوں نے سزا پائی.....
اسے میری قدامت پرستی کہیے یا ترقی کی دشمنی سے تعبیر کیجیے...کہ یہ آجکل کی ترقی مجھے ہضم نہیں ہو رہی.....میں اسی دور میںں لوٹنا چاہتا ہوںِ جہاں. حقیقی معنوں میںں انسانیت تھی.....
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس عظیم سانحے کے شہداء کی کامل مغفرت فرمائیں.......آمین.....
یہ سب کچھ ہوا ....جو ہوا سو گزر گیا..یقینا جدا ہونے والوں کا غم وقتا فوقتا دل میں کچوکے لگاتا ہے...اور لگاتا رہے گا....لیکن بحثیت سماج اور معاشرہ ہم میں جو اجتماعی منفی تبدیلیاں رونما ہوئیں....وہ انتہائی تشویش ناک ہیں....مانا کہ اس بھونچال کے بعد ہمارا معیار زندگی بلند ہوا....یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے اجتماعی شعور میں بے پناہ اضافہ ہوا....سڑکیں ہماری دہلیز تک پہنچیں...تعلیمی اداروں کا جال بچھا.....صحت کے مراکز بھی نسبتا قریب ہوے....ہمارا طرز تعمیر نئے خطوط پہ استوار ہوا...........آپ کی صبحیں یو ایس اے کے تیل اور ترکی کے آٹے سے رنگین ہوئیں.لیکن کیا آپ جانتے ہیں ان سہولیات کی ہم نے کیا قیمت چکائی ????ہم نے انسانیت,ہمدردی ,ایثار و قربانی اور محبت و مودت کو تین طلاقیں دیں....ہماری نئی نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوئی...جس کا فوری ردعمل یہ تھا کہ بات بات پہ وہ اپنے بڑوں بزرگوں سے کہنے لگی کہ ....رہنے دیں آپ بات نہیں سمجھتے......عورتیں تعلیمی میدان میں آئیں تو دوپٹہ سر سے اتر کر گلے کا پٹہ بن گیا.....لوگوں میں شعور بیدار ہوا تو پہلی کرامت یہ ظاہر ہوئی کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے لگے.....کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ پہلے جب کوئی پردیس جاتا تھا تو قریبی عزیز ,دوست اور پڑوس اسے الوداع کہنے کے لیے ایک بڑی تعداد میں جمع ہو تے تھے...لیکن اب تو سوشل میڈیا کی برکت سے اسٹیٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں انتہائی قریبی رحت سفر باندھ چکا ہے.....یہ بھی یاد ہو گا نا کہ پہلے اگر کوئی بچہ کسی نامناسب حرکت کا مرتکب ہوتا تو گاؤں کا ہر فرد اسے سزا دینے میں آزاد تھا...جس سے جرائم قابو میں رہتے تھے.....لیکن اب آزادی نو کا پہلا تحفہ یہ جملہ ہےکہ....آپ کے گھر سے تو نہیںِ کھاتا......کیا پہلے شادی بیاہ یا خوشی اور غمی کے دوران شہر سے ویٹر لانے کا تصور تھا????اب تو اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں....
اور سب سے بڑھ کر این جی اوز نے ہمدردی کے نام پہ جو زہر ہمارے سماج کے رگ و ریشے میں داخل کیا ہے...اس میٹھے زہر کی تباہ کاریوں کے بیان کے لیے کم از کم میرے پاس الفاظ نہیں.....
تاریخ نے قوموں کے وہ دور بھی دیکھے.....
لمحوں نے خطاء کی صدیوں نے سزا پائی.....
اسے میری قدامت پرستی کہیے یا ترقی کی دشمنی سے تعبیر کیجیے...کہ یہ آجکل کی ترقی مجھے ہضم نہیں ہو رہی.....میں اسی دور میںں لوٹنا چاہتا ہوںِ جہاں. حقیقی معنوں میںں انسانیت تھی.....
اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اس عظیم سانحے کے شہداء کی کامل مغفرت فرمائیں.......آمین.....
No comments:
Post a Comment