اخلاقیات.....
ہمارے ہاں عموما دن میں تین مرتبہ پیٹ پوجا کی جاتی ہے...صبح ,دوپہر اور شام.....کھانے کے معاملے میں عموما دیکھا جاتا ہے کہ بہت سی بے اعتدالیاں سامنے آتی ہیں.....ذیل میں کھانے کے حوالے سے کچھ آداب ذکر کیے جاتے ہیں.....
(۱) کھانے سے پہلے اچھی طرح ہاتھ دھونے کا اہتمام کریں....
(۲)ہاتھ دھونے کے بعد ہاتھ خشک ہونے تک توقف کریں..پانی ٹپکتے ہاتھوں کے ساتھ ہر گز کھانے کی پلیٹ میں نہ کودیں.....
(۳)اپنے سامنے سے کھائیں اور دوسرے شخص کا بھی خیال رکھیں.....
(۲)ہاتھ دھونے کے بعد ہاتھ خشک ہونے تک توقف کریں..پانی ٹپکتے ہاتھوں کے ساتھ ہر گز کھانے کی پلیٹ میں نہ کودیں.....
(۳)اپنے سامنے سے کھائیں اور دوسرے شخص کا بھی خیال رکھیں.....
(۴) عموما دیکھا جاتا ہے کہ چاول کھاتے وقت لوگ لقمہ لینے کے بعد باقی بچے ہوئے چاول واپس پلیٹ میں گراتے ہیں...یہ بد تہذیبی کی اعلی مثال ہے...
(۵)اگر آپ ہاتھ سے کھانا کھا رہے ہیں تو لقمہ لیتے وقت اس بات کا اہتمام رکھیں کہ دائیں ہاتھ کے نیچے بایاں ہاتھ ضرور رکھیں....
(۶)چاولوں کے ساتھ اتنا سالن نہ لیں کہ آپ کی انگلیوں سے رسنا شروع ہو جائے....
(۷)اگر آپ کے ہاتھ کے ساتھ سالن ہے تو اس وقت براہ راست گلاس کو چھونے سے مکمل اجتناب فرمائیں بلکہ اس وقت یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں گلاس تھام لیا جائے اور دائیں ہاتھ کی پشت سے اسے سہارا دیا جائے..یوں گلاس آلودگی سے محفوظ رہے گا.......
(۸)عام مجلس و محفل میں بھی اپنی ناک میں انگلی ڈالنا انتہائی بد تہذیبی ہے لیکن کھانے کی میز پر اسطرح کی حرکت اسکی قباحت و شناعت میں بے انتہا اضافہ کر دیتی ہے.....
(۹)کھانا کھانے سے پہلے یا کھانے کے دوران اپنے پاؤں مت چھوئیں....
(۱۰)دعوت کے دوران اندھے بہرے بن کر کھانے پر مت ٹوٹیں.....نیز ان دو باتوں کا بھی خیال رہے کہ دوسرے لوگ اندھے بہرے نہیں اور پیٹ بھی آپ کا اپنا ہی ہے....
(۱۱)اگر اکیلے آپ کو کسی دعوت میں مدعو کیا گیا ہو تو بن بلائے بچوں یا دوستوں کے لاؤ لشکر سمیت مت آدھمکیں...کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ......جو بن بلائے کسی دعوت میں شریک ہوا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور غارتگر بن کر نکلا....اپنے بچوں کو چور اور غارتگر نہیں بلکہ مفید پاکستانی شہری بنائیں.....
(۱۲)یاد رکھیے!آپ کے باوقار مقام کے پیچھے آپ کی سالہا سال کی محنت ہوتی ہے لیکن اسے گنوانے میں کسی مجلس میں چھوٹی سی بے اعتدالی ہی کافی ہے..
(۱۳)صرف دعوتیں اڑانے پر ہی زور نہ رکھیں بلکہ کبھی کبھار دوسروں کو بھی مدعو کیا کریں.....کیونکہ دو طرفہ راستہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے.........
۱۴)کھانا بار بار لینے میں کچھ حرج نہیں....آپ تھوڑا تھوڑا لیں...اور بار بار لیں..... یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ حرص میں آکر یکبارگی زیادہ کھانا لیں اور اسے چھوڑ دیں...کیونکہ آپ کو کھانے کا تو حق ہے لیکن کھانا ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں.......
(۱۴)کھانے کے بعد اہل خانہ کا شکریہ ضرور ادا کریں...یہ شکریہ آپکی شرافت پہ دلیل ہو گا....اپنے گھر میں شکریہ ادا کرنا نسبتا مشکل ہوتا ہے....البتہ اسکی اسان صورت یہ ہے کہ یہ دو لفظ اپنا معمول بنا دیے جائیں.....کہ آج کھانا اچھا پکا ہوا تھا....یہ بھی شکریہ اور کھانے کی قدر دانی ہی ہے......
(۱۵)کھانے کی ابتداء اور انتہاء میں دعا کی بھی کوشش کی جائے.....
یہ چند وہ آداب ہیں جو پہلے بچہ ماں کی گود سے سیکھتا تھا لیکن اب شاید ان چھوٹی اور بے معنی
😭چیزوں کی تعلیم کے لیے اساتذہ اور والدین کے پاس وقت نہیں.....نیز وہ آج کے جدید دور میں ان فرسودہ روایات میں اپنے بچوں کا قیمتی وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے.......
یہ تمام ان تلخ تجربات کا نچوڑ ہے کہ جن کی وجہ سے ایک بار نہیں بلکہ بارہا خالی پیٹ گھر لوٹنا پڑا.......
(۵)اگر آپ ہاتھ سے کھانا کھا رہے ہیں تو لقمہ لیتے وقت اس بات کا اہتمام رکھیں کہ دائیں ہاتھ کے نیچے بایاں ہاتھ ضرور رکھیں....
(۶)چاولوں کے ساتھ اتنا سالن نہ لیں کہ آپ کی انگلیوں سے رسنا شروع ہو جائے....
(۷)اگر آپ کے ہاتھ کے ساتھ سالن ہے تو اس وقت براہ راست گلاس کو چھونے سے مکمل اجتناب فرمائیں بلکہ اس وقت یہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے کہ بائیں ہاتھ میں گلاس تھام لیا جائے اور دائیں ہاتھ کی پشت سے اسے سہارا دیا جائے..یوں گلاس آلودگی سے محفوظ رہے گا.......
(۸)عام مجلس و محفل میں بھی اپنی ناک میں انگلی ڈالنا انتہائی بد تہذیبی ہے لیکن کھانے کی میز پر اسطرح کی حرکت اسکی قباحت و شناعت میں بے انتہا اضافہ کر دیتی ہے.....
(۹)کھانا کھانے سے پہلے یا کھانے کے دوران اپنے پاؤں مت چھوئیں....
(۱۰)دعوت کے دوران اندھے بہرے بن کر کھانے پر مت ٹوٹیں.....نیز ان دو باتوں کا بھی خیال رہے کہ دوسرے لوگ اندھے بہرے نہیں اور پیٹ بھی آپ کا اپنا ہی ہے....
(۱۱)اگر اکیلے آپ کو کسی دعوت میں مدعو کیا گیا ہو تو بن بلائے بچوں یا دوستوں کے لاؤ لشکر سمیت مت آدھمکیں...کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ......جو بن بلائے کسی دعوت میں شریک ہوا تو وہ چور بن کر داخل ہوا اور غارتگر بن کر نکلا....اپنے بچوں کو چور اور غارتگر نہیں بلکہ مفید پاکستانی شہری بنائیں.....
(۱۲)یاد رکھیے!آپ کے باوقار مقام کے پیچھے آپ کی سالہا سال کی محنت ہوتی ہے لیکن اسے گنوانے میں کسی مجلس میں چھوٹی سی بے اعتدالی ہی کافی ہے..
(۱۳)صرف دعوتیں اڑانے پر ہی زور نہ رکھیں بلکہ کبھی کبھار دوسروں کو بھی مدعو کیا کریں.....کیونکہ دو طرفہ راستہ زیادہ پائیدار ہوتا ہے.........
۱۴)کھانا بار بار لینے میں کچھ حرج نہیں....آپ تھوڑا تھوڑا لیں...اور بار بار لیں..... یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ آپ حرص میں آکر یکبارگی زیادہ کھانا لیں اور اسے چھوڑ دیں...کیونکہ آپ کو کھانے کا تو حق ہے لیکن کھانا ضائع کرنے کا کوئی حق نہیں.......
(۱۴)کھانے کے بعد اہل خانہ کا شکریہ ضرور ادا کریں...یہ شکریہ آپکی شرافت پہ دلیل ہو گا....اپنے گھر میں شکریہ ادا کرنا نسبتا مشکل ہوتا ہے....البتہ اسکی اسان صورت یہ ہے کہ یہ دو لفظ اپنا معمول بنا دیے جائیں.....کہ آج کھانا اچھا پکا ہوا تھا....یہ بھی شکریہ اور کھانے کی قدر دانی ہی ہے......
(۱۵)کھانے کی ابتداء اور انتہاء میں دعا کی بھی کوشش کی جائے.....
یہ چند وہ آداب ہیں جو پہلے بچہ ماں کی گود سے سیکھتا تھا لیکن اب شاید ان چھوٹی اور بے معنی
یہ تمام ان تلخ تجربات کا نچوڑ ہے کہ جن کی وجہ سے ایک بار نہیں بلکہ بارہا خالی پیٹ گھر لوٹنا پڑا.......
No comments:
Post a Comment