تحریر : محمد ابوبکر
میرے بڑے بیٹے کی شادی کو پانچ برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران دو بیٹیوں کی شادی بھی کر چکا ہوں ۔ جو کہ اپنے گھر بار اور بچوں میں بے حد خوشحال ہیں ۔
میری بہو، میری بیٹی ہے ۔ جی ہاں میں نے لفظ "بیٹی" کا استعمال کیا ہے ۔ ان پانچ برسوں میں میری مسز اور میری "بیٹی" کے درمیان ایک بار بھی نوک جھونک نہیں ہوئی۔ میرے بیٹے کو ان پانچ برسوں میں کبھی بھی ڈپریشن، اذیت یا راتوں کی بے چینی اور دن کی بے سکونی سے واسطہ نہیں پڑا۔
ہمارا کچن مشترکہ ہے۔ ایک ہی گھر کی چھت تلے ساس سسر اور بیٹا بہو اپنے اپنے مدار میں خوش دلی اور ذمہ داری سے رہ رہے ہیں ۔ اس کی وجہ سیدھی اور دو ٹوک ہے۔ ایک بار میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ یار یہ کیا اپنی اہلیہ کو گھر میں ہی باندھ رکھو گے؟؟ ارے اسے کسی ہوٹل میں کھانا بھی کھلانے لے جایا کرو۔ کہیں گھوم پھرا کر بھی لایا کرو۔
جب پہلی بار ہمارے لیے بیٹی نے ناشتے میں چائے بنا کر لائی تو ہمیں علم ہوا کہ اسے چائے بھی بنانی نہیں آتی۔ میری مسز نے اگلے دن ان دونوں کو شام کی چائے کی دعوت دے ڈالی۔ بیٹی کا ہاتھ پکڑا اور یہ کہتی ہوئی کچن میں اپنے ساتھ اسے لے گئی کہ آو ہم دونوں ان مردوں کے لئے چائے بنا کر لائیں ۔
تب سے آج تک بیٹی کے ہاتھ کی بنی ہوئی وہی چائے ہمیں ملتی ہے جس سے طبیعت بحال ہو جاتی ہے ۔
کاروبار کے معاملے میں، میرا مزاج سخت ہے ۔ میرا ماننا ہے کہ نوکری، غلامی سے بھی بدتر ہے ۔ نیز کڑوے بن کر کماؤ اور اچھے بن کر کھاؤ اور کھلاؤ۔
بی کام کروانے کے بعد میں نے اپنے بیٹے کو دو راستے دکھائے : اول یہ کہ وہ اپنا حصہ لے اور شادی کے بعد جو جی چاہے کرے ۔ دوم وہ میرے ساتھ کاروبار میں حصہ دار بنے اور شادی کے بعد بھی ہماری آنکھوں کے سامنے رہے۔ ویسے میرے لئے یہ حیرت کی بات بالکل بھی نہیں تھی کہ اس نے دوسرا راستہ اختیار کیا ۔ حالانکہ اس کا پہلے راستے پر چلنا بھی میرے لئے باعث تعجب نہ ہوتا۔
میری مسز اکثر کہا کرتی تھی : رفیع! کیا تم اپنے بچوں کو بھی ہماری طرح آزادانہ جینے کا حق دو گے؟ اور میرا جواب کیا ہوتا ہوگا۔۔۔۔ یہ میں آپ پر چھوڑتا ہوں ۔
آپ روانی میں بہے جا رہے ہیں ۔ زرا رکیے: میں نے کہا تھا کہ "اس کی وجہ سیدھی اور دو ٹوک ہے " ۔۔۔ سیدھی وجہ جان لی ہے تو اب دو ٹوک وجہ بھی جان لیجیے۔
میری شادی جب ہوئی تو شعوری و لا شعوری طور پر مجھے اپنی مسز کا خیال رہتا تھا (ایسا بھی نہیں کہ والدین کو ہی بھول گیا). میں اس کی خوشی و غمی میں ساتھ رہتا اور جہاں تک ہو سکا، اس کا خیال کیا۔ ہماری نجی گفتگو میں کسی کی مداخلت مجھے گراں گزرتی۔ پھر بچوں کی آمد نے مجھے مزید ذمہ داری کا احساس دلایا۔ میرا واسطہ خود سے زیادہ اپنے اہل و عیال سے پڑتا اور اسی چیز نے مجھے ایک راز بھرا احساس دلایا کہ یہی کیفیت میرے شادی شدہ بچوں پر بھی گزرتی ہے، سو میں نے خود کو ان کی ذمہ داری میں حائل نہیں ہونے دیا۔۔۔۔
آج میں اور میری مسز اس مقام پر ہیں جہاں، ہمیں ہونا چاہیے ۔۔۔ مطلب کہ والدین ہی کے مقام پر نہ کہ ساس سسر کےمقام پر ۔۔۔
آپ نے کیا سیکھا، آپ نے کیا جانا، آپ میرے بارے میں کیا کہتے ہیں، مجھے ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں ۔۔۔ اب مجھے جانا ہے۔ اجازت دیجیے ۔۔۔۔ دراصل آج میری اور میری مسز کی ہماری بیٹی کی طرف سے ہماری پسندیدہ چائے کی دعوت ہے جس میں میرے بیٹے نے اپنی مسز کی بھی مدد کی ہے
No comments:
Post a Comment