بچوں کے ساتھ زیادتی
سوال یہ ہے کہ جانوروں سے زیادہ جنسی خواہشات کی آزادی دیے جانے کے باوجود یہ سب کیوں؟آپ " نچ پنجابن نچ "، منی کی بدنامی، شیلا کی جوانی، کریکٹر ڈھیلا اور "
اچھی باتیں کرلیں بہت اب کروں گا گندی بات تیرے ساتھ " کرتے رہیں،
" ساری نائیٹ بے شرمی اپنی ہائیٹ کو چھوتی رہے "۔
صبح سے لے کر شام تک اور شام سے لے کر رات تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر ٹی – وی چینل پر سوائے بے ہودگی اور بد معاشی کے اور کونسا ڈھنگ کا کام وقوع پذیر ہو رہا ہے؟ پہلے آپ معصوم بچیوں کو قندیل بلوچ بنائیں پھر اس کا قتل کروائیں، اس پر ماتم کریں اور پھر ڈرامے بنا کر اس کو " مادر ملّت " بنا دیں۔
تمام کے تمام ٹی – وی چینلز سوائے عاشقی معشوقی، اس کی لڑکی اس کے ساتھ اور اس کی بیوی فلاں کے ساتھ بھاگنے کے ڈرامے دکھائیں۔
لباس کو تنگ سے تنگ اور چھوٹے سے چھوٹا کر کے ملک کے نوجوانوں کو ہوس زدہ اور حواس باختہ کردیں۔
اس کے بعد 4 روپے 99 پیسے میں "لگے رہو ساری رات" کے اشتہارات چلائیں۔ ایسے شاندار اور اخلاق یافتہ اشتہارات جس میں فون پر بات کر کر کے لڑکے کے کان تک پر نشان پڑ جائے اور پھر شادی کو مشکل ترین کر کے " گرل فرینڈ" کو آسان بنادیں۔
بے حیا بنانے اور اخلاق باختہ کرنے کے لیے آپ کو میرے ملک کے ہی نوجوان ملے تھے؟ آپ ساحر لودھی، شائستہ واحدی اور وینا ملک سے " رمضان ٹرانسمیشن " کروائیں۔ فہد مصطفیٰ سے شرم اور حیا کا جنازہ نکلوائیں۔
خواتین اور بچیوں سے ہر بے شرمی کا کام کروانے والے وقار زکا کو سر پر بٹھائیں، لفظ مولوی کو گالی بنا کر دین، اسلام، مذہب اور قرآن کو اپنے میڈیا، شوبز حتیٰ کے تعلیمی اداروں تک سے نکال کر باہر پھینک دیں اور پھر انتظار کریں کوئی حسن بصری اور امام بخاری پیدا ہوجائے؟ ہم احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، ہم پاگلوں کے دیس کے باسی ہیں؟
ریپ اور بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کو آڑ بنا کر اسلامی ملک میں لبرل ازم کی بنہاد رکھیں اور سیکس ایجوکیشن کا نفاز کروانے کے لیے کوششیں کریں اور سمجھیں کے اسطرح ایسے واقعات کی روک تھام ہو جاۓ گی صریحاً خود کشی ہے اور یہی ایجنڈا ان ممالک کا ہے جن کی آنکھ کو پاکستان کا وجود چبھتا ہے
یاد رکھیں جب تک آپ زنا کی سزا " رجم " اور 100 کوڑے نہیں رکھتے ہیں، شادی کو آسان اور زنا کو مشکل نہیں کرتے ہیں، حلال کو آرام دہ اور حرام کو دشوار نہیں کریں گے یہ واقعات مسلسل ہوتے رہیں گے۔
قرآن کے نظام میں برکت ہے، شریعت میں عزت ہے، آپ ہر چوک اور چوراہے پر بھی کیمرہ لگادیں تب بھی یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ ہمیں ماننا پڑے گا کہ سوائے اسلامی نظام کے نفاذ کے اور کوئی دوسرا راستہ ہمارے پاس نہیں ہے۔
لیبل ایجنڈہ جاری کر کے اس قوم کے اندر سے رہی سہی غیرت اور شرم کا جنازہ نکالا جانا مقصود ہے.
اب یہ طے کرنا قوم کا کام ہے کہ قرآن کی برکتیں درکار ہیں یا پھر کوئی اور زینب
اور ہاں زینب ہمیں تنگ مت کرو ! !
بیٹی عاءشہ ہمیں مت پکارو !!
بیٹی عا صمہ امید مت رکھنا !!
کاءنات اور وہ بچیاں، جو درندوں کی حوس بنی تم وقت گزرنے کے ساتھ بھلا دی جاءو گی ...پتہ ہے کیوں ... کیوں کہ تم کسی حکمران کی بیٹی نہیں ہو... بہت لوگ کہتے ہیں بیٹی تو بیٹی ہے ...چاہے امیر کی ہو یا غریب کی .. ان کہنے والوں سے میرا سوال ہے کیا کسی امیر کی بیٹی کے ساتھ بھی ایسا کبھی سننے میں آیا ؟؟ نہیں ....کبھی نہیں
محمد بن قاسم اور سلطان صلاح الدین جیسے عظیم مرد مجاہد دینے والی ماءیں اب نہیں رہیں ...
وہ کردار نہ رہا ....وہ گفتار نہ رہی
خواب غفلت میں رہے دامن فریب میں آکر...
اقبال
ہوش جب آیا محفوظ گھروں میں تب بیٹی نہ رہی...
اقبال
ہوش جب آیا محفوظ گھروں میں تب بیٹی نہ رہی...
ہم **** قوم ہیں، بے ضمیر اور بے حمیّت معاشرے کے لوگ ہیں اور ہاں! ابھی میرے ملک کے نوجوانوں کو نجانے کتنی لڑکیوں کی فوٹوز کو فیوی کول سے سینے سے چپکانا بھی ہوگا۔ اس لیے خدارا تم ہمیں معاف کردو..
No comments:
Post a Comment